جب کوئی وزیرِ دفاع اچانک ایک صبح اٹھ کر یہ کہے کہ آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے اور باقی شہریت کی تیاری میں ہے تو یہ بیان نہیں دھماکہ ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سماج میں دھماکے بھی معمول بن چکے ہیں۔ نہ ادارے ہلتے ہیں نہ ضمیر جاگتے ہیں۔پاکستان میں اگر کوئی غریب شہری معمولی سا بل جمع نہ کرا سکے تو بجلی کا میٹر کٹ جاتا ہے۔ اگر کوئی ماں بچے کے علاج کے لئے چند روپے کم لا سکے توہسپتال کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بااثر وزیر، کرپٹ بیوروکریٹ یا مراعات یافتہ مافیا کا فرد ملک سے اربوں روپے باہر منتقل کر دے، پرتگال، کینیڈا، برطانیہ یا دیگر ممالک کی شہریت حاصل کر لے تو ریاست خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ وہ ریاست جو ایک عام مزدور کو دہری شہریت رکھنے پر پاکستانی پاسپورٹ ضبط کر لیتی ہے وہی ریاست طاقتور اشرافیہ کو دہری وفاداری پر سلام پیش کرتی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹر پر ایک حیران کن سچائی بیان کی کہ پاکستانی بیوروکریسی میں درجنوں افراد پرتگال کی شہریت لے چکے ہیں لیکن کسی کو شرم نہیں آتی۔ خواجہ صاحب نے انگلی بیوروکریٹس کی طرف اٹھائی اور سچ کہا۔ فی الوقت پاکستان کے درجنوں حاضر سروس افسران جن میں ایف بی آر، کسٹمز، سول سروس، عدلیہ اور دیگر اداروں کے سینئر افسران شامل ہیں نے نہ صرف بیرون ملک جائیدادیں خرید رکھی ہیں بلکہ کئی نے پرتگال، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر یورپی ریاستوں کی شہریت بھی حاصل کر لی ہے۔ ان افسران کا دل پاکستان میں نہیں بلکہ ان بینک اکائونٹس میں دھڑکتا ہے جو دبئی، لندن، دوحہ یا لزبن میں کھلے ہیں۔عوام کو جھوٹی حب الوطنی کے لیکچر دینے والے یہی بیوروکریٹس خفیہ طور پر بیرون ملک مستقل سکونت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جب کوئی بحران آئے گا تو یہ وہ پہلا طبقہ ہو گا جو ملک سے فرار ہو جائے گا۔ غریب کی اولاد مرے یا فوجی جوان شہید ہو ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کا سرمایہ، ان کی اولاد، ان کے خواب سب کچھ پاکستان سے باہر ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ قانون کے مطابق سیاستدان کے لیے دہری شہریت ممنوع ہے۔ اگر کوئی پارلیمنٹ کا رکن دہری شہریت رکھتا ہے تو وہ نااہل ہو جاتا ہے لیکن بیوروکریٹس کے لیے ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ سول سروسز ایکٹ یا پبلک سروس ضابطوں میں اس واضح تضاد پر کبھی بحث نہیں ہوتی؟ کیوں نہ وہ افسر جو پاکستان سے تنخواہ لیتا ہے وہ بھی دہری شہریت رکھنے پر نااہل ہو؟اس ضمن میں ایک چشم کشا انکشاف یہ بھی ہے کہ وفاقی کابینہ میں شامل استحکام پاکستان پارٹی آئی پی پی کے ایک اہم وزیر اور پنجاب اسمبلی میں اسی جماعت کے ایک ایم پی اے نے بھی خاموشی سے پرتگال کی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔ یہ شہریت سال دو ہزار بائیس میں قانون سے چھپ کر حاصل کی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن اس بات سے لاعلم ہے؟ کیا کابینہ کی منظوری کے وقت ان کا حلف نامہ جانچا نہیں گیا؟ یا پھر یہ اشرافیہ کے لیے الگ قانون اور عام شہری کے لیے الگ قانون والا پرانا پاکستان ابھی تک زندہ ہے؟بیوروکریٹس پر فوکس کریں تو یاد رکھیں کہ جب یہ قوم مشرقی پاکستان گنوا رہی تھی تو کئی جرنیل، سیکرٹری اور ڈپلومیٹس ملک سے باہر جا چکے تھے۔ جب عدلیہ کے جج نظریہ ضرورت کے تحت آئین کو پامال کرتے رہے تب ان میں سے کئی کے خاندان پہلے ہی بیرون ملک شفٹ ہو چکے تھے۔ یہی بیوروکریسی ہے جو نوکری کی ابتدا میں سائیکل پر آتی ہے اور ریٹائرمنٹ تک لندن میں فلیٹ خرید چکی ہوتی ہے۔ یہی طبقہ ہے جو پالیسی بناتا ہے اور انہیں اپنے بیرونی آقائوں کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ کیا ہم صرف ٹویٹ پر قناعت کریں؟ کیا اس ریاست کو کوئی آئینہ دکھانے والا باقی ہے؟ کیا کوئی عدالت، کوئی نیب، کوئی ایف آئی اے ان دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس اور وزرا کا احتساب کرے گا؟ یا یہ سوال بھی اسی طرح وقت کی گرد میں دفن ہو جائے گا ؟یہ سطور کسی فرد، کسی جماعت، یا کسی نظریے کے خلاف نہیں۔ یہ اس طبقاتی ظلم کے خلاف ایک نوحہ ہے جس نے ریاست کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب کوئی افسر اس امید پر غیرملکی شہریت لیتا ہے کہ کل کو اگر ملک میں کچھ ہوا تو وہ اپنے اہلِ خانہ کو لے کر نکل بھاگے گا تو وہ افسر غدار ہے۔ اور وہ نظام جو اس غداری پر خاموش ہے وہ نظام بھی مجرم ہے۔اگر قوم کو بچانا ہے تو ہمیں دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس کا ڈیٹا سامنے لانا ہو گا، قانون سازی کرنی ہو گی کہ جو افسر پاکستان میں ملازمت کرے وہ صرف پاکستان کا وفادار ہو۔
سیاستدانوں پر جو قانون لاگو ہے وہی قانون بیوروکریسی پر بھی لاگو ہو۔ ورنہ یہ ملک صرف ٹویٹس اور ٹاک شوز میں باقی رہ جائے گا میدان میں نہیں۔خواجہ آصف کوئی عام آدمی نہیں۔ وہ کابینہ میں طویل مدت سے شامل رہنے والے پارلیمنٹ کے چالاک ترین لوگوں میں سے ہیں۔ جب وہ کھل کر کسی راز سے پردہ اٹھاتے ہیں تو یہ فقط سیاسی چال نہیں بلکہ کوئی ایسی حقیقت ہوتی ہے جس سے انہیں خود بھی تکلیف پہنچی ہو۔ ان کا یہ بیان کہ بیوروکریسی کی آدھی سے زیادہ صف پرتگال میں جائیداد خرید چکی ہے کسی سنگین بیماری کی تشخیص ہے۔پرتگال جسے آج ہماری بیوروکریسی نے اپنا روحانی قبلہ بنا لیا ہے صرف تین سے پانچ لاکھ یورو کی انویسٹمنٹ پر پانچ سال میں شہریت دے دیتا ہے۔ یہ رقم ایک اوسط پاکستانی افسر کی سو سالہ تنخواہ کے برابر ہے مگر ہمارے افسران کے لئے یہ چند فائلوں کی قیمت ہے۔ گولڈن ویزا اسکیم کے تحت پہلے جائیداد خریدو پھر کچھ عرصہ وہاں رہو، آخرکار پرتگال کے شہری بن جائو اور پھر باقی یورپ تمہارا وطن۔یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان کی معیشت نزع کے عالم میں ہے، قرضے لینے کے لئے کشکول بڑھایا جا رہا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں دوا تک میسر نہیں۔ اس ماحول میں اربوں روپے کی سلامیاں لے کر بیٹیوں کی شادی کرنے والے بیوروکریٹس کا ذکر خواجہ آصف نے کیا ہے۔ کس کی طرف اشارہ تھا؟ کیا ہم اتنے معصوم ہیں کہ سمجھ نہ پائیں؟ بزدار کے قریب ترین افسر جو آج کل کسی یورپی دارالحکومت میں کشادہ بنگلے میں تسبیح گھما رہا ہے وہی ہوگا جسے چار ارب کی سلامیاں ملی تھیں۔ذرا ماضی کی پردہ دری بھی کریں۔ جنرل مشرف کے مشیران اور سیکریٹریز کو دیکھئے۔ کئی آج دوبئی اور لندن میں بزنس کر رہے ہیں۔ شوکت عزیز خود کہاں ہیں؟ واپس آنے کو تیار نہیں۔ ایوب خان کے بعد سے جس جس کو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ملی اس نے ملک کو پروجیکٹ سمجھ کر لوٹا اور اپنا مستقل پتہ کسی دوسرے ملک میں رکھ دیا۔ آج بھی کئی موجودہ بیوروکریٹس کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ نیب کی فائلوں میں کئی نام دفن ہیں۔ مثلاً ایک سابق ڈی جی نادرا کا دوبئی میں ٹاور ہے، ایک سابق آئی جی موٹر وے کا بیٹا آسٹریلیا میں بڑا بزنس مین ہے۔ ایک مشہور سیکرٹری پانی و بجلی جو پنشن کے ساتھ ساتھ چند کمپنیوں کے بورڈ میں تنخواہ بھی لے رہے ہیں آج کل پرتگال میں مستقل رہائش کے لئے پر تول رہے ہیں۔جب ادارے بیچ دیے جاتے ہیں، فیصلے فائلوں کے اندر قیمتوں پر کیے جاتے ہیں، تو قوم کی تقدیر کرپٹ ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔ خواجہ آصف جیسے لوگ جب چیختے ہیں تو ان کی چیخ سیاسی نعرہ نہیں ہوتی یہ تجربے کا نوحہ ہوتا ہے۔یہ وطن تمہارا ہے مگر کب تک؟ یہ سوال اب صرف خواجہ آصف کا نہیں پوری قوم کا سوال ہے۔