Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خواجہ آصف کی بے بسی

ملکوں کے زوال کے کئی اشارے ہوتے ہیں۔ کہیں فوجیں شکست کھاتی ہیں کہیں معیشت بیٹھ جاتی ہے اور کہیں عوام بھوک سے خودکشیاں کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا اور بھیانک اشارہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے حکمران اور پالیسی ساز طبقات اپنی جڑیں کاٹ کر دوسرے دیسوں میں ڈیرے ڈالنا شروع کر دیں۔ اپنے وطن کو صرف کمائی کا ذریعہ سمجھیں اور وفاداریاں اس ملک سے جوڑ لیں جہاں کے سورج کی دھوپ ان کے بنگلوں اور فلیٹوں کی کھڑکیوں سے آتی ہے۔ آج پاکستان میں یہی ہو رہا ہے اور دلچسپ یا شائد افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ بیماری صرف بیوروکریسی تک محدود نہیں رہی بلکہ ہمارے وزرا، مشیران اور اسمبلیوں کے معزز اراکین تک جا پہنچی ہے۔چند دن پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس میں انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ پاکستان کی سول بیوروکریسی کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے اور ان کا ایک بڑا طبقہ بیرون ملک شہریت اور جائیدادوں کا رسیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پرتگال کا ذکر کیا کہ وہ چھوٹا سا یورپی ملک جو ہمارے افسر شاہی کے لئے جنت نظیر بن چکا ہے۔ بیوروکریٹ وہاں شہریت خریدتے ہیں، جائیدادیں بناتے ہیں اور پھر پاکستانی عوام پر حکمرانی کرتے ہوئے خود کو بین الاقوامی شہری سمجھتے ہیں۔خواجہ آصف کا یہ بیان اپنی جگہ سچ ہے لیکن اس سے زیادہ یہ ان کی بے بسی کی علامت ہے۔ ایک طرف وہ ملک کے وزیر دفاع ہیں۔ دہائیوں سے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، وزارت خارجہ جیسا حساس منصب سنبھال چکے ہیں اور دوسری طرف وہ اس بیوروکریسی مافیا کے سامنے اس قدر بے بس ہیں کہ ان کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ بات صرف سوشل میڈیا پر بیان دینے تک محدود رہتی ہے اور اسمبلی میں کوئی بل یا قرارداد پیش کرنے کی ہمت پیدا نہیں ہو پاتی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک موجودہ وزیر دفاع جس کے پاس ملک کی سب سے بڑی طاقتور وزارتوں میں سے ایک ہے یہ اعتراف کر رہا ہے کہ وہ افسر شاہی کے آگے بے بس ہے، تو پھر عام شہری کس کھیت کی مولی ہیں؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے پہاڑ خود کہہ دے کہ میں چیونٹی کے سامنے ریزہ ریزہ ہو چکا ہوں۔ پرتگال کا ذکر آیا ہے تو ایک اور پردہ بھی ہٹانا ضروری ہے۔ خواجہ آصف کو شائد معلوم ہو یا نہ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف بیوروکریسی ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے وفاقی کابینہ کے چند رفقا بھی پرتگالی شہریت کے حامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے ایک اہم وفاقی وزیر اور اسی پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں موجود چند ایم پی ایز نہ صرف پرتگال کے پاسپورٹ رکھتے ہیں بلکہ وہاں وفاداری کا حلف بھی اٹھا چکے ہیں۔ جی ہاں! وہ حلف جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں پرتگال کے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کروں گا۔اب ذرا لمحہ بھر کو رک کر سوچیں ایک شخص بیک وقت پاکستان کے آئین اور پرتگال کے آئین کا حلف اٹھا چکا ہے۔ دونوں کے مفاد جب ٹکرائیں گے تو وہ کس کے ساتھ کھڑا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں نہیں دیا جاتا کیونکہ شاید جواب دینے والے خود اس سوال کے سامنے لرز جاتے ہیں۔خواجہ آصف صاحب سیاست میں نووارد نہیں۔ وہ سیالکوٹ سے بار بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے آ رہے ہیں اور پاکستان کی بڑی وزارتوں وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ لیکن اتنی لمبی سیاسی زندگی میں وہ بیوروکریسی کی دوہری شہریت پر پابندی کا کوئی قانون بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ نہ کوئی بل، نہ کوئی قرارداد اور نہ ہی کوئی سنجیدہ مہم۔ وجہ؟ وجہ یہ کہ افسر شاہی اس ملک کی اصل حکومت ہے۔ حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں لیکن بیوروکریسی کے محل اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔یہی بیوروکریسی ہر حکومت کے دور میں اپنی مرضی کا بجٹ بنواتی ہے، تبادلوں کے ذریعے سیاسی وفاداریاں تبدیل کراتی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے لئے محفوظ راستہ رکھتی ہے، بیرون ملک شہریت اور جائیدادیں۔ آپ کسی بھی بڑے افسر کا خفیہ مالیاتی ریکارڈ دیکھ لیں آپ کو دبئی کے فلیٹ، لندن کے گھر اور پرتگال کی ویزا فائل ضرور ملے گی۔ یہ لوگ پاکستان کو ایک پروجیکٹ سمجھتے ہیں جس سے منافع کمانا ہے اور پھر اس منافع کو محفوظ ملک میں منتقل کر دینا ہے۔
پرتگال اس لئے پسندیدہ ہے کہ وہاں گولڈن ویزا اسکیم کے تحت کچھ سرمایہ کاری پر آسانی سے شہریت مل جاتی ہے۔ افسران اور سیاستدان لاکھوں یوروز کی جائیداد خرید کر پاسپورٹ لے لیتے ہیں اور پھر دنیا بھر میں آزادانہ گھومنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔ باقی عوام جان لے یا نہ لے لیکن ان کے لئے پاکستان پھر محض ایک دفتر رہ جاتا ہے ۔ صبح آئیں اپنی فائلوں پر دستخط کریں، کمیشن بنائیں، اور شام کو باہر سے آنے والی بینک اسٹیٹمنٹ دیکھ کر مسکرا دیں۔خواجہ آصف کا یہ بیان دراصل ایک کھڑکی کھول دیتا ہے جس سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کھیل کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن یہ کھڑکی کھلنے کے بعد بھی کمرے میں روشنی نہیں آتی کیونکہ روشنی تب آتی ہے جب کوئی اندر آ کر صفائی کرے۔ ہمارے ہاں تو صفائی کرنے والے بھی اسی گندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ بیوروکریسی کرپٹ ہے یہ تو سب جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے خلاف عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ کیوں کسی وزیر کو یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ایک سادہ سا قانون پاس کرا لے کہ جس کے پاس دوہری شہریت ہو وہ پاکستان میں اعلی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے قانون سے آدھی کابینہ فارغ ہو جائے گی اور بیوروکریسی کے سینکڑوں بڑے نام ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی نوکری چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پاکستان کی سیاست اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کو سمجھنا ہو تو ایک پرانا لطیفہ یاد آ جاتا ہیجب ایک وزیر نے بیوروکریٹ سے کہا، ہم دونوں ملک کی خدمت کریں گے۔ بیوروکریٹ نے جواب دیا، جی ہاں، آپ تقریر کریں گے میں خدمت کا منافع سنبھال لوں گا۔ یہی حقیقت ہے کہ ایک بولتا ہے، دوسرا جیب بھرتا ہے۔ خواجہ آصف جیسے سینئر سیاستدان جب بیوروکریسی کے سامنے بے بسی کا اظہار کرتے ہیں تو یہ ہمارے جمہوری نظام کے دیوالیہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ اعلان کہ اس ملک کے فیصلے منتخب نمائندے نہیں،بلکہ فائلوں اور نوٹ شیٹوں پر دستخط کرنے والے وہ لوگ کرتے ہیں جن کے بچے اور بیویاں پہلے ہی یورپ یا امریکہ میں سیٹل ہیں۔بیوروکریسی کی طاقت اس لئے بھی بڑھتی جا رہی ہے کہ اس کے خلاف کوئی اجتماعی بیانیہ نہیں بنایا گیا۔ میڈیا میں چند دن شور مچتا ہے پھر کہانی دب جاتی ہے۔ عوام کے لئے یہ ایک دور کا قصہ ہے کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی مشکلات میں الجھے رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر بار جب کوئی افسر یا وزیر دوہری شہریت لے کر غیر ملکی حلف اٹھاتا ہے تو وہ پاکستان کی خودمختاری کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دیتا ہے۔آخر میں یہ کہنا لازم ہے کہ خواجہ آصف کے بیان کو محض ایک سیاسی نعرہ نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک اعتراف ہے ۔ ایک ایسے نظام کا اعتراف جو اپنے اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ لیکن اگر اعتراف کے بعد بھی عمل نہ ہو تو یہ اعتراف تاریخ کے کچرے دان میں پھینک دیا جاتا ہے جیسے ہزاروں دوسرے بیانات پھینکے جا چکے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ محض باتیں کرنے والے اور حلف بدلنے والے لوگوں کا احتساب کیا جائے ورنہ کل جب یہ سب لوگ اپنے پرتگالی، برطانوی یا کینیڈین پاسپورٹ لے کر ملک چھوڑ دیں گے تو یہاں صرف ویرانی قرضے اور خالی کرسیوں کا ڈھیر رہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں