یہ محض ایک دن کی روشنی نہیں یہ روحوں کے اندر اترتی ہوئی ایک تازگی ہے۔ جیسے فضائیں بھی اپنے لباس بدل کر آ گئی ہوں جیسے ہوائیں بھی کوئی پیغام لیے چلی آ رہی ہوں۔ فضا میں خوشبو ہے، گلیوں میں سبز و سفید رنگوں کا سیلاب ہے اور دلوں میں ایک ہی ترانہ گونجتا ہے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔چودہ اگست ۔۔۔ یہ دن صرف کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں یہ ایک معجزہ ہے۔ ایک ایسا معجزہ جو قربانی، دعا اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتا ہے۔ یہ وہ صبح ہے جب غلامی کی صدیوں پرانی زنجیریں ٹوٹیں، جب ایک خواب حقیقت کے آسمان پر جگمگانے لگا۔ اقبال کا خواب، جناح کی قیادت اور لاکھوں شہیدوں کا خون اس کی بنیاد میں ہے۔
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں۔ یہ اقبال کی وہ پکار تھی جس نے دلوں میں شعلہ بھڑکا دیا۔ ایک سوئی ہوئی قوم نے آنکھ کھولی، اپنے آپ کو پہچانا اور اپنے مقدر کو بدلنے کا عزم کیا۔ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں جب ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تو یہ محض سیاسی نعرہ نہیں تھا یہ ایک نظریہ تھا قرآن کی روشنی میں، تاریخ کے شعور میں اور تہذیبی بقا کی جڑوں میں گہرا اترتا ہوا نظریہ۔
محمد علی جناح اس خواب کے معمار تھے۔ سیاست کی کچی مٹی میں، انگریز کی مکاری اور کانگریس کی عیاری کے بیچ انہوں نے ایک ایسا قلعہ تعمیر کیا جو ایمان اور عزم کے پتھروں سے بنا۔ ان کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے۔ نہ دھونس کام آئی نہ لالچ،نہ دبائو۔ یہ ان کی قیادت ہی تھی کہ برصغیر کا بکھرا ہوا مسلمان ایک جھنڈے تلے جمع ہو گیا۔
یاد کیجیے وہ قافلے جو پنجاب، بنگال اور سندھ کے گائوں سے نکلے۔ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی زمین بیچ کر بیٹوں کے ہاتھ میں پرچم تھمایا، وہ مائیں جو گھروں کو تالے لگا کر اپنی جھولیاں خالی مگر دل بھر کر روانہ ہوئیں، وہ بیٹیاں جنہوں نے سہاگ گنوا دیا مگر ایمان نہیں چھوڑا۔ راستوں میں خون بہا، ریلوے کی بوگیوں میں لاشیں آئیں لیکن پاکستان کا قافلہ رکا نہیں۔ یہ سب اس لیے تھا کہ ایک خواب حقیقت کا روپ لے۔وقت گزرا آزمائشیں آئیں۔ کبھی 1965ء کی جنگ میں دشمن کے ٹینک لاہور کے دروازے تک آ گئے مگر ہمارے سپاہیوں نے اپنے خون سے زمین کا قرض چکایا۔ کبھی 1971 ء کا زخم سہنا پڑا ۔کبھی معاشی بحران کے اندھیروں سے گزرنا پڑا۔ کبھی دہشت گردی کے طوفان نے گھر گھر ماتم بچھایا مگر یہ قوم جھکی نہیں۔ 1974 ء میں ایٹمی پروگرام شروع ہوا تو دنیا نے سازشوں کا جال بچھایا لیکن چاغی کے پہاڑ گواہ ہیں کہ 1998 ء میں ہم نے اپنے عزم سے دھرتی کو ہلا دیا۔
اور پھر دس مئی 2025 ء کا دن آیا۔ یہ تاریخ ہماری نئی عسکری داستان کا سنہری باب ہے۔ بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں اور جدید ہتھیاروں کی دھونس کے ساتھ ہماری فضائوں کے قریب آنے کی جرات کی۔ شاید وہ بھول گئے تھے کہ یہ پاکستان ہے یہاں کی سرحدوں پر وہ شاہین پہرہ دیتے ہیں جن کی نظر بادلوں سے آگے دیکھتی ہے، جن کے پر فولاد سے مضبوط ہیں اور جن کا دل کلمے کے نور سے روشن ہے۔ چند ہی منٹوں میں پانچ بھارتی رافیل طیارے زمین بوس کر دیے گئے۔ ہمارے زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائلوں نے دشمن کی ٹیکنالوجی کو مٹی میں ملا دیا۔ بھارتی میڈیا کا غرور خاک میں مل گیا اور ان کا عسکری تکبر راکھ بن کر فضائوں میں بکھر گیا۔
اس سال کا جشن آزادی محض آتش بازی اور جھنڈیوں کا نہیں بلکہ اس اعلان کا جشن ہے کہ ہم آج بھی ناقابل تسخیر ہیں۔ ہر گلی میں پرچم لہرا رہا ہے، بچے سبز قمیضیں اور سفید شلواریں پہن کر خوشی سے دوڑتے ہیں، بزرگ قومی ترانہ سن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مائیں اپنے بیٹوں کے یونیفارم پر فخر سے آنسو بہاتی ہیں۔ یہ جشن بتا رہا ہے کہ 1947 ء کا جذبہ آج بھی ہمارے خون میں دوڑ رہا ہے۔
دنیا بھی حیران ہے۔ یورپ، مشرق وسطی اور ایشیا کے دفاعی ماہرین تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کی فوجی حکمت عملی بے مثال ہے۔ یہ محض ہتھیاروں کی برتری نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور محبت وطن کا امتزاج ہے۔ جیسے 1947 ء میں ایک خواب حقیقت بنا ویسے ہی 2025 ء میں ایک دفاعی معجزہ دنیا کے سامنے آیا۔اقبال کا پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔۔ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اس ستارے کو چمکتا رکھنے کے لیے ہمیں صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ تعلیم، معیشت اور انصاف کے میدانوں میں بھی ویسا ہی جوش دکھانا ہوگا۔ اگر ہم نے یہی جذبہ اسکول، فیکٹری اور عدالت میں بھی زندہ رکھا تو پاکستان کا مستقبل وہی ہوگا جو خواب میں اقبال نے دیکھا اور عمل میں جناح نے بنایا۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں غربت تاریخ کا حصہ بن جائے، جہاں کوئی بچہ اسکول جانے سے محروم نہ ہو، جہاں ہنر اور محنت کی قدر ہو، جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ صرف حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ جیسے قیام پاکستان میں ہر فرد نے اپنا حصہ ڈالا تھا ویسے ہی تعمیر پاکستان میں بھی ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کا قیام صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں تھا بلکہ ایک فکری انقلاب بھی تھا۔ یہ ایک ایسی جگہ کا خواب تھا جہاں مسلمان آزادی سے اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنے دین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ جیسا کہ اقبال نے فرمایایقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خواب کی تکمیل کو جاری رکھیں، اسے محض ماضی کی یادگار نہ بنائیں بلکہ آنے والے کل کے لیے ایک زندہ حقیقت بنائیں۔
آج جب ہم اپنا 78واں یوم آزادی منا رہے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آزادی صرف ایک تحفہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت کی حفاظت فرض ہے۔ پرچم ستارہ و ہلال، رہبر ترقی و کمال ترجمان ماضی، شان حال، جان استقبال۔ اللہ کرے یہ وطن ہمیشہ ترقی کرے، ہمیشہ سر بلند رہے اور ہمیشہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہتا رہے۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔