Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاک امریکہ ڈائیلاگ۔ اعتماد کا نیا دور

یہ دنیا ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر کھیلی جاتی ہے اور غلط قدم اٹھانے والے کو تاریخ معاف نہیں کرتی۔ پاکستان کے گرد بھی یہ بساط ہمیشہ بچھائی گئی۔کبھی مشرق میں ایک ایسا ہمسایہ جو امن کی بات کرتے ہوئے بھی آنکھوں میں نفرت چھپائے رکھتا ہے۔ کبھی مغرب میں وہ قوتیں جنہیں عدم استحکام ہی اپنے مفاد میں لگتا ہے اور کبھی سمندر پار طاقتیں جو دوست بھی ہیں اور محتاط نگران بھی۔
حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والا انسداد دہشتگردی ڈائیلاگ محض ایک سفارتی اجلاس نہیں تھا۔ یہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جہاں دنیا خاص طور پر امریکہ نہ صرف ہماری قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے بلکہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
امریکی سفارتخانے کے اعلامیے میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ محض رسمی جملے نہیں بلکہ ایک اعتراف ہیں کہ پاکستان دہشتگردوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ کامیابی اچانک نہیں آئی۔ یہ برسوں کی مسلسل جدوجہد، ہزاروں جانوں کی قربانی اور ایک ایسی ریاستی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس نے دشمن کو اس کے اپنے گڑھ میں جا کر للکارا۔
پاکستان نے دہشت گردی کا سامنا محض بندوق سے نہیں بلکہ ایک پوری جنگی حکمت عملی سے کیا۔ بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی یہ تینوں نام ہمارے قومی زخموں پر ثبت ہیں۔ بی ایل اے کا مقصد واضح ہےکہ بلوچستان کو پاکستان کے جسم سے کاٹنا۔ ان کے پیچھے کون ہے؟ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دشمن ملکوں کی ایجنسیاں اور کچھ مغربی تھنک ٹینکس اس بیانیے کو ہوا دیتے رہے۔داعش خراسان جس نے افغانستان کی سرزمین کو اپنے اڈے میں بدلا، پاکستان کے شہروں میں خوف کی فضا پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ اور ٹی ٹی پی جو کبھی مذہب کے نام پر لڑنے کا دعوی کرتی تھی حقیقت میں غیر ملکی ایجنڈوں کا آلہ کار بنی رہی۔ ان سب کےخلاف پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس اداروں نے جو کارروائیاں کیں وہ عسکری تاریخ میں مثال رکھتی ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد نے ان کے ڈھانچوں کو توڑکر رکھ دیا۔
امریکی اعلامیےمیں جعفر ایکسپریس اور خضدار اسکول بس حملے کا ذکر محض ہمدردی نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی اقرار ہےکہ دہشتگردی کی قیمت پاکستان نے خون سے چکائی ہے۔ ٹرین میں بیٹھے بے گناہ شہری ہوں یا اسکول کے معصوم طلبہ، یہ حملے صرف انسانوں پر نہیں بلکہ پورےملک کےدل پرکیےگئے۔ اورہم نےیہ سب جھیل کر بھی ہمت نہیں ہاری۔ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اکثر اتار چڑھا کا شکار رہے ہیں۔ کبھی سرد جنگ کے اتحادی، کبھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پارٹنر اور کبھی ایک دوسرے سے شکوے شکایتوں میں الجھے ہوئے۔ لیکن آج یہ تعلقات ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اعتماد اور مشترکہ مقصد نمایاں ہے۔
اس ڈائیلاگ میں نبیل منیراور گریگری ڈی لوجرفو کی مشترکہ صدارت صرف رسمی پروٹوکول نہیں تھی۔ یہ ایک علامت تھی کہ دونوں ممالک برابری کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں۔ ماضی میں امریکہ عموماًحکم دیتا تھا اور پاکستان سنتا تھا۔ آج پاکستان ایک ایسا فریق ہے جس کی کامیابیاں اور تجربہ خود امریکہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
دہشتگردی اب صرف بارود اور گولی کی جنگ نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کی جنگ بھی ہے۔ ڈرون، سوشل میڈیا پروپیگنڈا،کرپٹو کرنسی کےذریعے فنڈنگ یہ سب وہ محاذ ہیں جن پر لڑائی جاری ہے۔ ڈائیلاگ میں اس بات پراتفاق کیاگیا کہ انسداد دہشتگردی کے اداروں کو جدید ترین ٹیکنالوجی، ٹریننگ اور انٹیلی جنس کے تبادلے سے مضبوط کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اب محض فزیکل سیکورٹی پر نہیں بلکہ سائبر اور مالیاتی محاذ پر بھی تیار ہوگا۔
اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پرپاکستان اورامریکہ کاقریبی تعاون ایک نیا سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں بیانیےکی جنگ لڑی جاتی ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہےکہ دہشتگردی کا تعلق کسی مذہب، قوم یا خطے سے نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ناسور ہےجسے مشترکہ کوششوں سےختم کرنا ہوگا۔ اب امریکہ بھی اسی بیانیے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
یہ ڈائیلاگ صرف دنیا کو پیغام نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے بھی ایک اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ہم نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ضائع نہیں گئیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاست اورعوام ایک مقصد کےلیے متحد ہوں تو کوئی چیلنج ناقابلِ عبور نہیں رہتا۔یہاں رک جانا خطرناک ہوگا۔ دشمن ہمیشہ نئے راستے تلاش کرتا ہے۔ ہمیں انسداد دہشتگردی کی پالیسی کو صرف ردعمل تک محدود نہیں رکھنا بلکہ پیش بندی کی سطح پر لے جانا ہوگا۔ نوجوانوں کو شدت پسندی کے بیانیے سے بچانا، سرحدوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنااسی جنگ کاحصہ ہے کیونکہ کمزور معیشت اور غیر منصفانہ نظام دہشتگردی کے بیج بونے کے بہترین کھیت ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کا یہ نیا اشتراک محض ایک وقتی ضرورت نہیں بلکہ اگر اسے درست سمت میں چلایا جائے تو یہ خطے میں امن اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں دوست اور دشمن ہمیشہ مستقل نہیں رہتے، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی خودمختاری، اپنے قومی مفاد اور اپنے بیانیے پر کسی سمجھوتے کے بغیر اس تعلق کو آگے بڑھانا ہوگا۔
یقین، عزم اور حکمت یہی وہ تین ستون ہیں جن پر پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کامیابیاں کھڑی ہیں۔ اور آج، دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ کل شاید یہ اعتراف مزید بڑا ہو اگر ہم اپنی سمت درست رکھیں۔یوں لگتا ہےجیسے تاریخ نے ایک اور کروٹ لی ہو۔ صدر ٹرمپ کے دورمیں پاک امریکہ تعلقات میں جو گرمجوشی آئی ہے۔ یہ محض رسمی نہیں بلکہ زمینی حقائق اورخطے کے بدلتے تقاضے اس کے پس منظر میں ہیں۔ برسوں بعد کسی امریکی صدر نے نہ صرف ہماری فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کا برملا اعتراف کیا بلکہ سیاسی قیادت کو بھی سنجیدگی سے لیا۔ یہ وہ لمحہ ہےجب پاکستان کو واشنگٹن کی آنکھوں میں وہ مقام نصیب ہوا جو مدتوں گم رہا تھا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ کے دورمیں برف پگھلنے لگی اورواشنگٹن کے بنددروازے اسلام آباد پر کھلنے لگے۔ کئی دہائیوں بعد پہلی بار کسی امریکی صدر نے پاکستان کو محض ایک مہرہ نہیں بلکہ ایک شریکِ کار کے طور پردیکھا اور یہ احساس دونوں دارالحکومتوں کے درمیان فاصلوں کو مٹانے میں سنگِ میل ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں