Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

این ڈی ایم اے… کاغذی دفاع یا عوامی خدمت؟

یہ وطن بار بار امتحانوں سے گزرتا ہے۔ کبھی زلزلے کی صورت میں زمین لرزتی ہے، کبھی سیلاب کی شکل میں دریا بپھرتے ہیں، کبھی طوفانی بارشیں بستیاں بہا لے جاتی ہیں اور کبھی پہاڑی تودے انسانوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہم نے ان آفات سے نمٹنے کے لئے جن اداروں کو اربوں کھربوں کے فنڈز دئیے وہ کہاں ہیں؟ کہاں ہے وہ قومی آفات انتظامیہ ؟ این ڈی ایم اے جسے اسی مقصد کے لئے بنایا گیا تھا؟این ڈی ایم اے 2007ء میں وجود میں آیا۔ 2005ء کے زلزلے نے پاکستان کی ریاستی مشینری کو ننگا کر دیا تھا۔ ایک طرف عوام اپنی مدد آپ کے تحت کھنڈرات سے لاشیں نکال رہے تھے تو دوسری طرف ریاست ہاتھ ملتی رہ گئی۔ اس شرمندگی نے حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ کوئی مرکزی ادارہ قائم کریں جو مستقبل میں آفات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہو۔ یوں بڑے دعوئوں اور خوش کن وعدوں کے ساتھ این ڈی ایم اے کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس ادارے کے اغراض و مقاصد کتابوں میں بہت شاندار درج ہیں۔ آفات کی پیش بندی، خطرے کے نقشے، ریسکیو پلان، ریلیف کی فراہمی، متاثرین کی ری ہیبیلیٹیشن، مقامی اداروں کی تربیت اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی۔ کہا گیا کہ اب کسی آفت میں پاکستانی قوم اکیلی نہیں ہوگی بلکہ ریاست ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ مگر حقیقت؟ حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔آج سوال یہ ہے کہ اس ادارے نے اپنی دو دہائیوں پر مشتمل زندگی میں کیا کارنامہ انجام دیا؟ کیا یہ ادارہ محض ایک کاغذی ڈھانچہ نہیں بن گیا جس کا اصل کام اجلاس کرنا، رپورٹیں لکھنا اور بیانات جاری کرنا ہے؟
خیبر پختونخوا، گلگت اور کشمیر میں صرف ایک دن میں حالیہ طوفانی بارشوں سے چار سو کے قریب انسان لقمہ اجل بن گئے۔ بستیاں مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئیں۔ لوگ پانی میں بہہ گئے، مائیں اپنے بچوں کو ہاتھوں میں اٹھائے چیختی رہ گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ این ڈی ایم اے کہاں تھا؟ کیا کسی نے ان کے ریسکیو آپریشن کو زمینی سطح پر دیکھا؟ کیا ان کے کیمپ لگتے دکھائی دیے؟ کیا ان کی میڈیکل ٹیمیں بروقت پہنچیں؟ افسوس کہ نہیں۔سچ یہ ہے کہ ریلیف کا اصل کام صوبائی ایجنسیاں، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کرتی ہے۔ ریسکیو 1122 اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترتی ہے، فوجی ہیلی کاپٹر دور دراز علاقوں میں خوراک اور ادویات پہنچاتے ہیں، مقامی رضاکار اپنی کمر باندھ کر لوگوں کو نکالتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کا کردار اس سارے منظر میں محض اتنا رہ جاتا ہے کہ ایک پریس ریلیز جاری کرے کہ اتنے افراد جاں بحق ہو گئے، اتنے زخمی ہیں، اور ہم مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اس ادارے کے چیئرمین کی جانب سے محض ایک بیان جاری کر دیا جاتا ہے کہ انہیں انسانی جانوں کے نقصان پر بہت افسوس ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ادارے کے سربراہ نہیں بلکہ کسی سیاسی جماعت کے کوئی کارکن ہوں جومحض تعزیت، افسوس یا غم کا اظہار کر رہے ہوں۔تو کیا یہ ادارہ محض محکمہ موسمیات کا دوسرا ورژن ہے؟ جو بارش کی پیش گوئیاں کرے، خطرے کے الارم بجائے اور میڈیا پر ڈرانے والے جملے کہے؟ ریاستی خزانے سے اربوں روپے لے کر کیا این ڈی ایم اے کا فرض یہی ہے کہ رپورٹیں بنائے اور تقریریں کرے؟این ڈی ایم اے کے پاس اربوں کھربوں کے فنڈز ہیں۔ کورونا کے دنوں میں اس ادارے کو اربوں روپے دئیے گئے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ مگر سپریم کورٹ نے بھی سوال اٹھایا کہ یہ اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ ان فنڈز کا مصرف کیا رہا۔ پچھلے دس برس میں ادارے کو اربوں روپے سالانہ ملتے رہے ہیں۔ اگر یہ وسائل عوام کی حفاظت اور ریلیف پر لگتے تو آج خیبر پختونخوا اور گلگت میں سینکڑوں لوگ یوں پانیوں میں نہ ڈوبتے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم ادارے تو بناتے ہیں مگر ان اداروں کو روح نہیں دیتے۔ این ڈی ایم اے ایک ڈھانچہ ہے جس میں نہ جان ہے، نہ عزم، نہ ہمت۔ ایک ایسا ادارہ جس کا اصل مقصد لوگوں کی زندگیوں کو بچانا تھا وہ آج اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ اس کی موجودگی عوام کو زمین پر نظر نہیں آتی۔ وہ کاغذوں پر زندہ ہے مگر میدان میں مردہ۔حتی کہ یہ ادارہ محض اس وقت جاگتا ہے جب وزیر اعظم محمد شہباز شریف خود کے پی، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلاب پر کوئی نوٹس لیں۔دنیا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اکثر ممالک میں بنیادی ریسکیو، ایمرجنسی اور سول ڈیفنس ادارے تو موجود ہوتے ہیں، مگر پاکستان جیسے الگ سے ’’اتھارٹی‘‘ (NDMA) کی شکل میں مرکزی ادارہ ہر جگہ نہیں ملتا۔ زیادہ تر ممالک میں یہ کردار کسی نہ کسی محکمے یا فورس کے ذریعے ادا کیا جاتا ہے، جیسے امریکہ میں فیما (FEMA)، جاپان میں مخصوص آفات سے نمٹنے کے مراکز، یا ترکی میں آفاد (AFAD) جو زلزلوں اور دیگر سانحات کے وقت فوری امداد فراہم کرنے میں دنیا بھر میں مشہور ہے۔ بھارت میں بھی این ڈی آر ایف (NDRF) ایک تربیت یافتہ فورس ہے جو براہِ راست آپریشنز میں حصہ لیتی ہے اور عملی میدان میں اپنی موجودگی دکھاتی ہے۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد عملی تربیت، فوری رسپانس اور عوامی خدمت ہے۔قوم پوچھتی ہے کہ جب طوفانی بارشیں آتی ہیں تو یہ ادارہ کہاں ہوتا ہے؟ جب دریا بستیاں بہا کر لے جاتے ہیں تو یہ کہاں چھپ جاتا ہے؟ جب متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہوتے ہیں تو ان کے پاس جانے والے کون ہیں؟ فوجی، ریسکیو اہلکار اور رضاکار۔ تو پھر این ڈی ایم اے کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ادارہ صرف بیرونی دنیا کو دکھانے کے لئے بنایا گیا کہ پاکستان میں بھی کوئی قومی ادارہ موجود ہے؟ اگر اس ادارے کا زمین پر کوئی وجود ہوتا تو سوات میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی فیملی کے درجنوں افراد سیلاب میں نہ ڈوب مرتے۔ کیا یہ ادارہ صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے ساتھ مل کر صرف ہوا بھرنے والی پلاسٹک کے مواد سے بنی ہوئی لائف جیکٹس کا انتظام بھی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اگر ان افراد کو صرف یہ چند سو روپے سے تیار ہونے والی لائف سیفٹی جیکٹس ہی مہیا کر دی جاتیں تو کئی قیمتی جانوں کو ڈوبنے سے بچایا جا سکتا تھا۔اگر این ڈی ایم اے کو زندہ ادارہ بنانا ہے تو اس میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ اسے رپورٹنگ ڈیسک سے نکال کر فیلڈ میں لانا ہوگا۔ اس کے پاس اپنی فوری ریسکیو فورس ہونی چاہیے، ایمبولینسز، میڈیکل ٹیمیں، ریلیف کیمپوں کا جال اور متاثرین کی ری ہیبیلیٹیشن کا عملی نظام۔ اگر یہ سب نہیں ہے تو بہتر یہی ہے کہ قوم کے اربوں روپے اس ادارے پر ضائع نہ کیے جائیں اور اس سفید ہوتھی قومی ادارے کو بند کر دیا جائے۔یہ قوم بارہا اپنی جانوں اور اموال کی قربانیاں دیتی آئی ہے۔ سیلاب ہو، زلزلہ یا کوئی اور آفت ہر مرتبہ عام آدمی اپنے محدود وسائل سے متاثرین کے لئے کھڑا ہوا جبکہ یہ ادارے کاغذی رپورٹوں اور سیمیناروں تک محدود رہے۔ المیہ یہ ہے کہ جنہیں عوام کی ڈھال اور تحفظ کا مرکز ہونا تھا وہ خود عوام پر ایک اضافی بوجھ بن کر کھڑے ہیں۔این ڈی ایم اے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم کو صرف اعداد و شمار یا خوفناک پیش گوئیوں کی نہیں بلکہ عملی اقدام اور حقیقی شراکت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ادارہ صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود رہا تو تاریخ اس پر بھی وہی فیصلہ صادر کرے گی جو ان اداروں پر کرتی ہے جو اپنی اصل ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ادارے وہی زندہ رہتے ہیں جو قوم کے دکھ درد میں عملی طور پر شریک ہوں ورنہ ان کی قسمت محض رپورٹوں کے ڈھیر اور برباد کیے گئے وسائل کی داستان بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں