یہ زمین اللہ کی امانت ہے۔ قومیں جب اپنی امانتوں کو بھلا دیتی ہیں تو قدرت بھی اپنی مہربانیوں کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ پاکستان 1947ء میں بنا تو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جسے ہر اعتبار سے فطری حسن اور وسائل کی دولت بخشی گئی تھی۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں سمندر، درمیان میں زرخیز میدان اور ریگستان اور ان سب کے بیچ ہریالی سے لبریز وادیاں۔ ایک وقت تھا جب ہمارا چھ فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا۔ عالمی ماہرین کے نزدیک کسی بھی ملک کے لیے کم از کم پچیس فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔گزشتہ پون صدی میں پاکستان میں جنگلات کی یہ شرح مسلسل کم ہوتی گئی اور آج یہ چار فیصد سے بھی نیچے گر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تیزی سے کمی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں جنگلات کی بقا سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت ایف اے اوکی 2020ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 1990ء سے 2020ء تک پاکستان میں ہر سال اوسطاً 27ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہوتے رہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2050ء تک جنگلات کا رقبہ موجودہ سطح سے نصف رہ جائے گا۔ پاکستان فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور کے مطابق 1947ء میں جو رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا وہ 75سال بعد تقریباً 18فیصد کم ہو چکا ہے۔ عالمی بینک کی 2022ء کی رپورٹ اس مسئلے کو مزید واضح کرتی ہے کہ دیہی علاقوں میں تقریباً 60 فیصد آبادی اپنی توانائی اور ایندھن کی ضروریات براہِ راست جنگلات سے پوری کرتی ہے جس سے درختوں کی کٹائی میں تیزی آتی ہے۔
پاکستان میں جنگلات کی کمی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی معیشت اور سلامتی پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ درخت زمین کو کٹائو سے بچاتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو محفوظ رکھتے ہیں اور بارش کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں لیکن جنگلات کے تیزی سے ختم ہونے سے ملک کو زمین کے کٹائو، صحرائوں کے پھیلائو اور دریائوں کے بہائو میں تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کے سکڑنے سے پاکستان کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف زمین کے کٹائو اور زرعی پیداوار میں کمی سے پاکستان کو سالانہ تین سے چار ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ماحولیات کے ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے فضاء کو صاف رکھتے ہیں لیکن جب یہ جنگلات کم ہوتے ہیں تو گرین ہاس گیسز کی مقدار بڑھتی ہے اور نتیجتاً عالمی حدت یعنی کلائمٹ چینج کے اثرات پاکستان پر دوگنے ہو کر پڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان ان دس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔جنگلات کی کمی براہِ راست قومی سلامتی کے مسائل سے بھی جڑی ہے۔ جب بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو پہاڑوں پر درختوں کی کمی کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ 2010 ء کا تباہ کن سیلاب اور پھر 2022ء کا ریکارڈ توڑ سیلاب اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ جنگلات کی کمی نے قدرتی آفات کو انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا اور قومی سلامتی کے اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور بحالی کی کارروائیوں میں جھونکنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کے شمالی علاقوں میں جنگلات کا پھیلائو موجود رہتا تو بارش کا پانی آہستہ آہستہ جذب ہو کر نیچے آتا اور دریائوں میں سیلابی ریلے نہ بنتے۔ اس کے برعکس درختوں کی کٹائی نے پہاڑوں کو ننگا کر دیا ہے اور بارش کا پانی تیزی سے بہہ کر تباہی مچاتا ہے۔ قومی سلامتی پر اثرات کی ایک اور جہت یہ ہے کہ جنگلات کی کمی سے زرعی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں اور پانی کے ذخائر سکڑ رہے ہیں جس سے خوراک کی قلت کے خدشات بڑھتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی غذائی بحران اور پانی کی کمی کا شکار ہے اگر مزید اس دبا ئوکا شکار ہو تو اس کی معاشرتی اور سیاسی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیات کو اب قومی سلامتی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ جنگلات کی حفاظت دفاعی حکمتِ عملی کا بھی حصہ ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے 2019 ء میں اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اگر پاکستان نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر شجر کاری شروع نہ کی تو 2050 ء تک ملک میں موجود جنگلات کا نصف ختم ہو جائے گا۔ اس تناظر میں حکومتِ پاکستان نے بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے شروع کئے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شجرکاری کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ موجود جنگلات کی کٹائی روکنا اور مقامی آبادی کو متبادل ایندھن فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر لگائے گئے درخت بڑے ہونے سے پہلے ہی کٹ جائیں گے اور مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں جنگلات کی کمی کے اثرات معیشت پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تخمینوں کے مطابق اگر پاکستان اپنے موجودہ جنگلات کو محفوظ کر لے تو صرف کاربن کریڈٹ کی مد میں ہر سال کروڑوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات سے حاصل ہونے والی لکڑی، جڑی بوٹیاں، شہد اور دیگر مصنوعات ملکی معیشت کے لئے قیمتی سرمایہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب جنگلات ہی ختم ہو جائیں گے تو یہ تمام مواقع بھی ضائع ہو جائیں گے۔پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے جنگلات کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں اور دریاں کو خشک ہونے سے بچاتے ہیں۔ مگر جب درخت کٹ جاتے ہیں تو بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سیدھا بہہ جاتا ہے اور نتیجتاً زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے بہت سے علاقے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔سماجی اثرات بھی کسی طرح کم نہیں۔ جنگلات کی کمی سے غربت بڑھتی ہے، لوگ ایندھن اور لکڑی کے حصول کے لئے مزید کٹائی کرتے ہیں اور یوں یہ شیطانی دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ خواتین اور بچے دیہی علاقوں میں لکڑیاں جمع کرنے کے لئے کئی کئی کلومیٹر پیدل چلتے ہیں جس سے ان کی تعلیم اور صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی جنگلی حیات بھی ختم ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے بہت سے نایاب جانور اور پرندے اس وقت خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے مسکن یعنی جنگلات تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔یوں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 18 فیصد کم ہو چکا ہے اور یہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور قومی سلامتی کا بھی سنگین مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان نے جنگلات کی حفاظت کے لیے فوری اور بڑے پیمانے پر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں ماحولیاتی آفات، معاشی نقصانات اور قومی سلامتی کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے اور یہ مسئلہ ایک وجودی بحران میں بدل سکتا ہے۔ جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی بقا، خوشحالی اور سلامتی کی ضمانت ہیں اور ان کی حفاظت دراصل اپنے مستقبل کی حفاظت ہے۔