تاریخ کے پنوں پر بعض اوقات ایسے جملے ثبت ہو جاتے ہیں جو نسلوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا 1971 ء کے زخم پاکستان کے سینے پر آج بھی تازہ ہیں۔ سقوطِ ڈھاکا کا داغ ہماری قومی تاریخ کا ایک المیہ ہے جسے دشمن بھارت اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتا رہا۔ اندرا گاندھی نے اس وقت کہا تھا: ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔ مگر وقت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ 53 برس بعد وہی بنگلہ دیش جسے بھارت نے پاکستان سے چھیننے کا جشن منایا تھا بھارت کے ہاتھ سے پھسل کر ایک نئی سمت اختیار کر چکا ہے۔
شیخ حسینہ واجد، جو بھارتی سوچ اور ہندو انتہا پسندی کی علامت بن چکی تھیں اقتدار سے بے دخلی کے بعد اب خود بھارت کی گود میں پناہ ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔ بنگلہ دیشی عوام نے ان کے بیانیے کو رد کر کے وہی روش اپنائی جو پاکستان دوست قوتوں کی تھی۔ کل تک ڈھاکا کی گلیوں میں پاکستان کے حامیوں کو گھسیٹا جا رہا تھا، پھانسیاں دی جا رہی تھیں، اور را کے ایجنڈے پر عمل ہو رہا تھا مگر آج انہی گلیوں میں انڈیا مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ یہ وقت کا انتقام ہے، یہ تاریخ کی وہ دھلائی ہے جو مودی اور اس کی حواری حسینہ واجد کا مقدر بننا تھی۔نریندر مودی نے برسوں تک پاکستان کے خلاف زہر گھولا۔ اس نے ہر فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی۔ کبھی افغانستان میں بیٹھ کر سازش کی، کبھی خلیجی ممالک کے کان بھرے، کبھی امریکہ اور یورپ کو پاکستان کے خلاف جھکانے کی کوشش کی۔ مگر آج مودی خود عالمی برادری میں تنہا کھڑا ہے، شرمندہ، بے بس اور شکست خوردہ۔ جو آگ اس نے پاکستان کے لیے سلگائی تھی وہ اب ڈھاکا کی سڑکوں سے دہکتے ہوئے شعلوں کی صورت اس کے دامن کو جلا رہی ہے۔
یہ بھی دراصل ایک ’’بیانیے کی جنگ‘‘ تھی۔ طاقت ہمیشہ بندوق کے زور پر نہیں جیتی جاتی۔ قوموں کے ذہن اور قلوب جیتنے سے بھی فتح نصیب ہوتی ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر وہ بیانیہ تشکیل دیا جس نے مشرقی سرحد پر نئی فضا قائم کر دی۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سب سے بڑھ کر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت و تدبیر نے مودی کی چالوں کو الٹ دیا۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرنے والا آج خود دہلی کی فضائوں میں منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔
ڈھاکا کے حالات ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ بنگلہ دیش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 13 برس بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا ڈھاکا جانا محض ایک سفارتی دورہ نہیں بلکہ تاریخ کا رخ موڑنے کے مترادف ہے۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا بلکہ ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی روح پھونک دی۔ بنگلہ دیش نے 1971 ء کے بعد پہلی بار پاکستانی حکام کے لیے ویزا کی شرط ختم کر دی ہے۔ سوچئے! وہی بنگلہ دیش جہاں پاکستانیوں کے داخلے پر قدغنیں لگتی تھیں، جہاں ہمیں مجرم قوم کہہ کر طعنے دیے جاتے تھے آج وہاں کے ایئرپورٹس پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر خوش آمدید کہا جائے گا۔
یہ محض ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ ایک نظریاتی اعلان ہے۔ بنگلہ دیش نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب بھارت کی کالونی نہیں رہا،وہ اپنی خارجہ پالیسی خود بنائے گا اور پاکستان کو بھائی سمجھ کر تعلقات استوار کرے گا۔ محمد یونس کے پریس سیکرٹری نے جب ڈھاکا میں یہ اعلان کیا تو عالمی میڈیا نے اسے محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ تاریخی موڑ قرار دیا۔
یاد کیجیے! یہی حسینہ واجد تھی جنہوں نے پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو انسانی حقوق کے نام پر چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا۔ انہوں نے جنگی جرائم کے مقدمات کے پردے میں پاکستان کے ہمدردوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ نے فیصلہ سنایا کہ ظلم کی حکومت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ عوام نے بھارت کے بیانیے کو اڑا کر رکھ دیا اور حسینہ کو دہلی کے دربار میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے تعلقات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ اب عسکری تعاون کے ایک نئے باب کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے اور اسلحہ جات کی ڈیل پر ابتدائی پیش رفت ہو چکی ہے۔ ڈھاکہ نے پاکستان کے تیار کردہ جدید جنگی جہازوں اور ہتھیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ اسلام آباد نے بنگلہ دیش کو JF-17 تھنڈر طیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خوش آئند تبدیلی یہ ہے کہ اب پاکستان کا جشنِ آزادی 14 اگست ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں عوامی سطح پر منایا جانے لگا ہے۔ وہی دن جسے برسوں تک حسینہ واجد کی جبر و دھونس پر مبنی حکومت نے روک رکھا تھا۔ یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ 53 برس بعد پاکستان اور ڈھاکہ کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں جہاں عسکری اور تہذیبی اشتراک دونوں ممالک کو مزید قریب لے آئے گا۔مودی کے لیے یہ سب سے بڑی ہزیمت ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو ہمیشہ اپنا پچھواڑہ سمجھتا رہا۔ وہاں سے پاکستان کے خلاف جال بچھاتا رہا۔ را کے اڈے قائم کرتا رہا۔ لیکن آج ڈھاکا کے عوام کہہ رہے ہیں کہ بھارت ہمارا دوست نہیں بلکہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ وہی منظر ہے جس نے دہلی کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا ہے۔پاکستانی عوام کے لیے یہ خوشی کا دن ہے۔ 1971 ء کی تلخیوں کے بعد پہلی مرتبہ یہ محسوس ہو رہا ہے کہ شاید بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دوریوں کی دیوار گرنے کو ہے۔ تجارت، ثقافت، تعلیم اور دفاع سب میدانوں میں نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ دونوں ملک اگر ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں تو خطے میں بھارت کی بالادستی کے خواب کو چکناچور کرنا زیادہ مشکل نہیں۔
مودی کی بنگلہ دیش میں پٹائی محض ایک سیاسی شکست نہیں بلکہ ایک نظریاتی عبرت ہے۔ اس نے دکھا دیا کہ ظلم، سازش اور دھوکہ دیرپا نہیں ہوتے۔ بیانیہ ہمیشہ طاقتور ہوتا ہے اور جو قومیں اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں وہ وقت کے دھارے کو بدل دیتی ہیں۔ پاکستان نے اس بار بندوق کے زور پر نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ جیت کر وہ معرکہ سر کر لیا جو 53 برس سے ادھورا تھا۔تاریخ کا پہیہ پھر گھوم رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب اندرا گاندھی ڈھاکا میں جیتی تھیں اور آج مودی وہاں ہارا ہے۔ اور یہ ہار صرف مودی کی نہیں بلکہ ہندو انتہا پسندی کے اس پورے منصوبے کی ہے جو پاکستان کو کچلنے کے خواب دیکھتا تھا۔ پاکستان آج ڈھاکا کے عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور یہی وہ سب سے بڑی فتح ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔