Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امت کا ابراہیم کہاں۔۔۔۔۔؟

میرا کام توصرف تجزیہ کرناہےجبکہ یہ ساری سوالات توان مقتدرحضرات سے پوچھنے چاہئیں اوران کابھی فرض بنتا ہے کہ قوم کواعتمادمیں لیاجائے۔تاہم جہاں تک میرے سیاسی تجزیہ کاتعلق ہے تواس کامختصرجواب تویہ ہے کہ براہِ راست نہیں؛بالواسطہ اورمشترکہ سفارتی‘قانونی راستوں سے کچھ حدتک اثراندازہو سکتاہے مگرفیصلہ کن سنجیدہ اثر کے لئے بڑی طاقتوں اورعلاقائی اتحاد کی ہم آہنگی ضروری ہے۔پاکستان براہِ راست اس لئے جواب نہیں دےسکتاکہ پاکستان اوراسرائیل کے سفارتی تعلقات‘تجارت نہیں‘اس لئے یکطرفہ اقتصادی یادوطرفہ دبائوکے اوزارمحدودہیں۔ اسرائیل کی جنگی پالیسی پربڑی طاقتوں (خصوصاً امریکا) کااثرزیادہ ہے‘وہاں تک رسائی‘ قائل کرناکلیدی رکاوٹ ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت،جب تک اسرائیل پاکستان پربراہِ راست حملہ نہ کرے،پاکستان طاقت کا استعمال نہیں کر سکتا خواہ وہ ایٹمی ہویاروایتی۔جوابی طور پر عسکری دبائو کو ’’کراس تھیٹرانتقامی کارروائی‘‘ قراردے کر اسرائیل کومظلوم بننے کابہانہ مل جائے گا۔ (ایک محاذپرحملے کاجواب کسی اورمحاذپردینا) کو غیرقانونی جارحیت ماناجائے گا،چاہے نیت انسانی حقوق کاتحفظ ہی کیوں نہ ہو۔تاہم اسرائیل پربراہ راست حملہ کرنے کے لئے اصل قانونی پابندیوں اوررکاوٹوں کو بھی سامنے رکھناہوگا۔
طاقت کااستعمال صرف دفاع میں یااقوامِ متحدہ کی اجازت سے ہی قدم اٹھاسکتاہے۔بڑی طاقتوں کااسرائیل پراثرزیادہ ہے‘ پاکستان اکیلافیصلہ کن عسکری دبائو نہیں ڈال سکتا ۔ پاکستان کااسرائیل سے براہِ راست سرحدی یااقتصادی کنکشن نہ ہونے کے باعث جغرافیائی محدودیت بھی آڑے آتی ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کا کردار ’’ڈیٹرنس‘‘تحفظ)دھمکی) کوروکنے کے لئے ہیں، عملی جنگی کارروائی کے لئے نہیں،خاص طورپرانسانی بحران کے معاملات میں یہ ممکن نہیں۔اگرایساہوتاتوسوویت یونین اپنی شکست اورملک کوٹوٹنےسےبچانے کے لئے افغانستان میں ایٹمی جنگ سے کبھی دریغ نہ کرتااوریہی معاملہ امریکا کے لئے افغانستان میں پیش آیااوردنیاکی سب بڑی قوت ہونےکےباوجودوہ براہ راست افغانستان میں ہیرو شیما اورناگاساکی والی غلطی دہرانہ سکاجبکہ ٹرمپ نے اپنے دورِحکومت میں’’بموں کی ماں‘‘ جیسا خطرناک بم استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔
ان حالات میں پھرپاکستان کیاکر سکتا ہے؟ اب سعودی عرب کے وزیرخارجہ کے قطعی بیان کے بعدوہ دوریاستی حل کے علاوہ کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا،اب ضروری ہوگیاہے کہ پاکستان فوری طورپراوآئی سی کااجلاس طلب کرکےوہاں پاک بھارت میں اسرائیل کےکردارکاذکرکرکے اسلامی ملکوں کے اتحادکے لئےسعودی عرب کے تعاون سے ترکی، ایران اورملائشیاسے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کی داغ بیل ڈالے اوربعد ازاں دیگرممالک کوبھی شامل کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل نے2024ء میں رمضان سیزفائرکے لئے قرار داد2728منظورکی تھی؛بعد ازاں اوربھی کئی قراردادیں منظور ہوئیں ہیں۔پاکستان ان فورمز پرقراردادوں کے نفاذکامطالبہ بڑھاسکتاہے۔ اسلامی تعاون تنظیم یادیگربلاکس میں مشترکہ اقتصادی‘سیاسی دبائوکے اقدامات کرسکتاہے اورعالمی میڈیاوسول سوسائٹی کی سطح پرحکمتِ عملی استعمال کرسکتاہے۔بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کیسزمیں مداخلت یاشواہدفراہم کرسکتاہے،بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی قانونی جہت اورفیصلے کوہائی لائٹ کرنے کےلئےآئی سی جے نے26جنوری، 28مارچ اور24مئی2024ء کو عبوری احکامات جاری کئے‘جن میں رفح آپریشن روکنے‘ تحفظی اقدامات کی ہدایات شامل ہیں،ان کی تعمیل کے لئے عالمی دباؤبڑھاسکتاہے۔
متعددیورپی ممالک نےفلسطین کوسفارتی طور پر تسلیم کرنے کااعلان کر دیا ہے۔ پاکستان،سعودی عرب، ترکی اورملائشیا بھی اسی نوع کی قانونی شمولیت یاحمایتی مہم کے ذریعے کیس کی سیاسی واخلاقی وزن بڑھاسکتے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم،عرب و اسلامی سربراہی عمل مشترکہ قراردادیں،تحقیقات کی حمایت،اسلحہ کی برآمدات پرقدغن اورامدادی راستوں کی ضمانت یہ سب اجتماعی طورپرمؤثرہوسکتے ہیں۔ ترکی، مصر، قطروغیرہ کی جاری ثالثی کوششوں کی مدد؛یورپی یونین وبرطانیہ میں رائے عامہ اور پارلیمانی مباحث میں شرکت‘لابنگ۔حالیہ دنوں میں بھی یورپی سطح پرغزہ کے انسانی بحران پرسخت بیانات آئے ہیں۔دوطرفہ وکثیرالجہتی سفارتکاری شروع کرتے ہوئے اسرائیل کولگام ڈالی جاسکتی ہے۔
مہاجرین‘زخمیوں کےلئے امداد، میڈیاوسول سوسائٹی کی مہمیں اورعالمی کمپنیوں پر اصولی اپیلیں یہ سب براہِ راست بندوقیں خاموش نہیں کرتیں مگرسیاسی لاگت بڑھاتی ہیں۔اس کے لئے عوامی،اخلاقی اورانسانی امدادکادبائوبڑھانے کی ضرورت ہے۔ زمینی حقیقت (آج کی صورتِ حال کی جھلک)کوتمام مسلم ممالک اپنے میڈیاکے ذریعے بین الاقوامی طور پررسائی حاصل کرتےہوئےحقائق ان کے سامنے رکھیں کہ لڑائی جاری رہنے اورغزہ سٹی/رفح جیسے علاقوں میں کارروائی کے منصوبوں پردنیابھرسے مزاحمت سامنے آرہی ہے؛اقوامِ متحدہ،یورپی ومسلم ممالک کی سطح پرغیرمعمولی تشویش برقرار ہے۔ پاکستان نے بھی کھل کرمذمت کی ہے۔
پاکستان،چاہےایٹمی قوت ہو،بین الاقوامی قانون کے تحت غزہ میں اسرائیل کے خلاف عسکری جوابی کارروائی نہیں کرسکتااورنہ ہی پاکستان اکیلااسرائیل کوجنگ روکنے پرمجبورکرسکتاہے۔البتہ وہ سفارتی، قانونی، اقتصادی اور اخلاقی ذرائع سے جنگ رکوانے میں بالواسطہ اثراندازہوسکتاہے۔اصل موثردبائوتب ہوگاجب غیرجانبدار طاقتوں، بڑی طاقتوں، اوراوآئی سی کی مشترکہ کوششیں ہم آہنگ ہوں؛اورقانونی فورمزسلامتی کونسل/اقوامِ متحدہ،عرب واسلامی بلاک اوردوطرفہ سفارت کاری کے باہم جڑے طریقوں سے دبائو بڑھانے میں بامعنی کرداراداکرسکتا ہےخاص طورپر جب یہ کوششیں ایسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگ ہوں جن کااسرائیل پراصل اثرورسوخ ہے۔
آج،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے‘یاتوہم تاریخ کے حاشیے پرکمزورالفاظ کی صورت رہ جائیں، یا اپنی یکجہتی،قانون،سفارت اورایمان کے ذریعے ایک ایسا باب رقم کریں جوآنے والی نسلوں کویہ یقین دے کہ ہم نے ظلم کوصرف دیکھانہیں،اس کے خلاف کھڑے بھی ہوئے۔ ایٹمی قوت صرف بارودکانام نہیں،یہ ایک ذمہ داری ہے ،کمزورکاسہارابننے کی،انصاف کاعلم بلندکرنے کی۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے توکل کے مورخ لکھیں گے:جب غزہ جل رہاتھا،پاکستان خاموش تھااوریہ سطر،ہماری پوری صدی کوشرمندہ کردے گی۔
یہ وقت محض ماتم کانہیں،مشورے اورعمل کاہے۔ یہ وقت مسلک اورقومیت کے پردے پھاڑکر،ایک امت بننے کاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم ایک ایسی اسلامک سمٹ کانفرنس کاانعقاد کریں جوزبانی بیانات نہیں،عملی حکمتِ عملی دے؛جومحض تصویروں کی نمائش نہیں، بلکہ فیصلوں کی بازگشت ہو‘جوامت کوایک جھنڈے تلے،ایک صف میں کھڑاکردے۔یہ کانفرنس اس لئے ناگزیرہے کہ بیت المقدس کی فصیلیں ہمیں پکاررہی ہیں،غزہ کی زمین لہومیں نہا کرکہہ رہی ہے ’’امت کہاں ہے‘‘۔
کشمیر کی وادیاں چیخ رہی ہیں،برماکے جلے ہوئے گاؤں گواہی دے رہے ہیں،اورافریقاکے قحط زدہ مسلمان ہمارےضمیرکوجھنجھوڑ رہے ہیں۔امت کے ابراہیم کی تلاش کامطلب ایک شخص نہیں،بلکہ وہ روح ہے جوہرمسلمان کے دل میں بیدارہو،تاکہ ہم سب مل کروہ قدم اٹھائیں جوملت کوغلامی کے اندھیروں سے نکال کرعزت کی روشنی میں لے آئے۔
آئیں ہم اس عہد کی تجدیدکریں کہ جب تک امت کاہرفرد،ہربستی،ہرملک ایک دوسرے کاسہارانہیں بن جاتاہم نہ بیٹھیں گے،نہ جھکیں گے،نہ بکیں گے۔
آئیں ہم اپنے رب سے عہدکریں کہ ہم اس امت کے ابراہیم بنیں گے،اورطاغوت کے ہربت کوپاش پاش کردیں گے۔
آج،یہاں،اس مجلس میں ہم عہدکریں کہ ہم امت کے ابراہیم بنیں گے۔ہم وہ امت ہیں جوکبھی شکست تسلیم نہیں کرتی،جواپنے بچوں کوقرآن اور شمشیر دونوں کاوارث بناتی ہے،جواپنے خوابوں کوخون سے سینچتی ہے۔ہم طاغوت کے ہربت کوتوڑیں گے،چاہے وہ طاقت کاہویاجھوٹ کا۔ہم ہراس باطل قوت کوللکاریں گے جواللہ کے دین کومٹاناچاہتی ہے۔
ہم اپنے مسلک،اپنی زبان،اپنی نسل کے حصارتوڑکرایک امت کی صورت میں اٹھیں گے۔ہم وہ آوازبنیں گے جونہ دبائی جاسکے،وہ ہاتھ بنیں گے جواللہ کے سواکسی کے آگے نہ پھیلیں،وہ دل بنیں گے جونہ بکیں۔
اے اللہ ہماری غفلت کوبیداری میں بدل دے، ہمارے کمزورہاتھوں میں اسلام کی نصرت کالوہابھردے۔
ہمیں ابراہیم کاحوصلہ،اسمعیل ؑکی قربانی کا جذبہ،موسیٰؑ کی جرات اور للکار دے، اور محمدﷺکی رحمت اورسیرت عطافرما۔ہمارے دلوں کوایمان کے نورسے بھردے،ہماری صفوں کویکجان کردے۔ہمیں عمرکی غیرت دے ، علی المرتضیؓ کی بصیرت دے اور سیدنابلال ؓ کا صبرعطافرما۔
اے اللہ ہمیں ایک امت بنادے،ہمارے صفوں میں اتفاق پیداکردے،اورہمیں ظلم کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیواربنا دے۔اے اللہ ہمارے شہیدوں کے خون کو ضائع نہ ہونے دے،ہمارے شہیدوں کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرما،اے اللہ ہماری ماں کے آنسواپنے عرش پرقبول فرما،ہمارے زندہ لوگوں کواپنی راہ کاسپاہی بنا،اوراس امت کووہ قیادت دے جوظلم کے ایوان ہلا دے۔
اے اللہ ہمیں اس امت کابانی اورمحافظ بناجس پرفرشتے بھی فخرکریں۔آمین،یارب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں