انتخابات سے پہلے لیڈروں کی لچھے دار باتیں اور طاقت حاصل کرنے کے بعد ان کے رویے میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں وطن عزیز کے باشعور عوام اس تیز رفتار اور سوشل میڈیا کے دور میں بہت اچھی طرح سے جان گئی ہے اور اب وطن عزیز میں اکثر پختہ حمایت یافتہ حلقوں میں آوازیں سنائی دینی لگی ہیں، اب عوام اپنے حق اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھانے لگے ہیں اور سوال کرنے لگے ہیں کہ ’’تبدیلی محض ایک نعرہ تھا یا ایک حقیقی وعدہ؟‘‘ پر اس کا جواب کسی بھی پارٹی یا ان کے لیڈروں کے پاس نہیں ہے کیونکہ یہ سب ہی حقیقیت میں میدان انتخابات میں خالص اپنے مفادات کے لیے اترتے ہیں ان کو عوام الناس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اس ہی وجہ سے سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈران امیر سے امیر تر اور وطن عزیز کی عوام غریب سے غریب تر اور کئی تو غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور نظر آرہی ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر عوام کا ردِ عمل اور ان کا صبر اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے پر ہمارے حکمران اور سیاسی جماعتوں کے کامن پر جو بھی رینگتی نظر نہیں آرہی ہے اور انہیں اس بات کا بھی خوف نہیں ہورہا کہ عوامی صبر کے کیا نتائج انہیں بھگتنے پڑیں گے۔ معاشی بدحالی کے باوجود صرف عوام کو مسلسل ’’قربانی‘‘ کا ہی درس کیوں دیا جاتا ہے؟ یہ قربانی حکمران، حکومتی ادارے اور ان میں کام کرنے والے اہل کار اور تمام سیاسی نمائندگان کیوں نہیں دیتے کیا وہ قربانی دینے سے ماورا ہیں انہیں ہر چیز کی سہولت مفت میں میسر ہے اور پسنے اور قربانی دینے کے لیے صرف عوام ہی رہ گئی ہے۔
حکومت کے پیش کردہ ترقی کے اعداد و شمار اور عام آدمی کے ذاتی مالی حالات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو کئی تلخ حقیقیت سامنے آئیں گی اور ’’ترقی‘‘ صرف فائلوں میں ہی نظر آئے گی جس کا حقیقی زندگی میں دور تک وھی کوئی واسطہ یا تعلق نظر نہیں آئے گا۔ سب اچھا ہے کی عینک صرف حکمران، حکومتی اداروں اور سیاسی نمائندوں کو پہن کر سب اچھا ہے ہی نظر آرہا ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی عوام کب تک ہم ’’اچھے وقت‘‘ کا انتظار کریں گے؟ طاقت کی زبان ہمیشہ دو ٹوک ہوتی ہے یا تو ’’انتظار کرو‘‘ یا ’’ہمارا ساتھ دو‘‘ لیکن کیا کبھی اس زبان میں یہ لفظ شامل ہوتا ہے، ’’غلطی ہو گئی‘‘ یا پھر ’’ہمارے پاس وقت ختم ہوگیا؟‘‘ سیاسی بیانیے کی لغت میں ’’اچھا وقت‘‘ ایک ایسا موہوم وعدہ بن چکا ہے جو ہر انتخاب سے پہلے آسمان پر تارا بن کر چمکتا ہے اور اقتدار ملتے ہی افق میں ڈوب جاتا ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ’’تھوڑا صبر کریں، چیزیں جلد ہی بہتر ہوں گی‘‘ لیکن یہ ’’جلد‘‘ کب آئے گا، اس کی کوئی تاریخ نہیں دی جاتی۔ یہ انتظار کا حکم دراصل حکمرانی کا ایک مؤثر حربہ ہے جو موجودہ مسائل پر تنقید اور سوالات کی شدت کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
عام آدمی کی زندگی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ عام فہم حساب پر چلتی ہے۔ جب سرکاری اعداد و شمار ترقی کا جشن منا رہے ہوں اور عوام کی جیب مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہی ہو تو بیانیے اور حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ طاقت کی زبان کہتی ہے کہ قربانی ضروری ہے، معیشت کی بحالی کے لیے کڑوے گھونٹ پینے ہوں گے لیکن عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ قربانی ہمیشہ متوسط اور غریب طبقے کو ہی کیوں دینی پڑتی ہے؟ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں، جب روزگار کے دروازے بند ہونے لگیں اور جب بچوں کی تعلیم ایک لگژری بن جائے، تو ’’اچھے وقت‘‘ کا فلسفہ اپنا سحر کھو دیتا ہے۔ یہیں سے عوامی صبر ٹوٹنے لگتا ہے۔
’’عوامی صبر کوئی نہ ختم ہونے والا سمندر نہیں ہے، یہ ایک جھیل ہے جس میں اگر مسلسل تلخی اور محرومی کا پانی بھرتا رہے تو بالآخر وہ اپنا کنارہ توڑ دیتی ہے۔‘‘
طاقت کا ایک اور ہتھیار احتساب سے فرار ہے۔ جب کسی پالیسی کا نتیجہ خراب نکلتا ہے تو بجائے اس کے کہ واضح الفاظ میں غلطی تسلیم کی جائے، بیانیے کو فوراً دوسرے رخ پر موڑ دیا جاتا ہے۔ کبھی تاریخی وجوہات کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، کبھی عالمی حالات کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے اور کبھی اپوزیشن کو سازشی قرار دے کر توجہ بٹا دی جاتی ہے۔ یہ خاموشی کی زبان عوامی سماعتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندے ہمیشہ درست ہوتا ہے مگر ایک زندہ اور فعال جمہوریت میں، لیڈر کی طاقت کا پیمانہ اس کی تقاریر نہیں بلکہ حالات کی تبدیلی اور نتائج کی فراہمی ہوتی ہے۔ عوام اب روایتی بہانوں اور مبہم امیدوں کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ٹھوس اقدامات اور ان کا فوری اثر چاہتے ہیں۔
’’اچھے وقت‘‘ کا انتظار کرتے ہوئے قومیں اپنی کئی نسلیں گنوا دیتی ہیں۔ سیاست کو محض انتخابی دورانیے کے اندر نہیں سوچنا چاہیے بلکہ نسلوں کی فلاح کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کی اصل زبان ڈنڈے اور حکم کی نہیں بلکہ عمل، دیانت داری اور بروقت نتائج کی ہوتی ہے۔ عوام کی سماعت اب ہر بکواس کو پہچانتی ہے اور ان کا صبر اب جواب مانگتا ہے۔ اگر وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنایا گیا تو اگلا انقلاب سڑکوں پر نہیں بلکہ ووٹ کی پرچی سے آئے گا، جہاں وہ ’’اچھے وقت‘‘ کا وعدہ کرنے والوں کو ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیں گے۔