ملک میں مسلسل سیاسی بے یقینی اور محاذ آرائی کا ماحول معیشت کے لیے بہت تیزی کے ساتھ زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ جب بھی وطن عزیز میں سیاسی افق پر غیر یقینی کے بادل چھاتے ہیں تو کاروباری اعتماد کو شدید دھچکا لگتا ہے اور معیشت کے عدم استحکام کی باعث بنتے ہر قسم کی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہونے لگتی ہیں چاہے وہ ملکی یا غیر ملکی ہو، سرمایہ کار ایسے ماحول میں اپنا پیسہ لگانے سے گریز کرتے ہیں جہاں حکومتی پالیسیوں کے تسلسل پر سوالیہ نشان ہو۔ مختصر مدت کے سیاسی فائدوں کے لیے طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہونے لگتے اور ساتھ ہی اسٹاک مارکیٹ و کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ معمول بن جاتا ہے جو مزید بے یقینی کو جنم دینے لگتا ہے اور ساتھ ہی اصلاحات میں رکاوٹ بننے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ ملک کو درپیش سخت معاشی اصلاحات، جن میں ٹیکس کا نظام، ریاستی اداروں کی نجکاری اور توانائی کے شعبے کی درستگی شامل ہے، سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت مشکل فیصلے کرنے سے کتراتی ہے کیونکہ اسے اپنی مدت پوری ہونے کا یقین نہیں ہوتا۔
پاکستان کی معیشت اس وقت کئی سنگین چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر غریب عوام کی کمر توڑ رہا اور ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء خاص کر سبزیاں اور دالیں تو مسلسل اپنی اڑان بھر رہی ہیں اور ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے ان میں سپر سونک کی طاقت بھر دی گئی ہو اور ساتھ ہی بجلی، گیس اور پٹرول تک ہر چیز کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ مہنگائی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس سے محدود آمدنی والا غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔
ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ آسمان کو چھو رہا ہے۔ قرضوں کی ادائی اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے حکومت کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے بجائے قرض کی واپسی میں صرف ہو جاتا ہے اور باقی بچ جانے والا حکمرانوں، حکومتی اہل کاروں اور سیاست دانوں کی عیاشیوں میں لگ جاتا ہے اور عوام کے ہاتھ خالی تسلیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے سخت شرائط پر مبنی پروگراموں پر انحصار کرنا مجبوری بن چکا ہے۔ معاشی سست روی اور صنعتی ترقی کے فقدان کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مناسب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو پا رہے اور اس کے ساتھ ہی تعلیم کا معیار دن بدن گرتا ہی جارہا ہے اور ساتھ ہی تعلیم کا حصول بھی تقریباً ناپید ہوتا نظر آرہا ہے جو کہ ایک سنگین صورت حال ہے۔ اس وقت ملک میں قومی مفاہمت اور پائیدار اصلاحات کی سخت ضرورت ہے اور یہ وقت الزام تراشی یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں ہے۔ ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ایک قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں جو صحیح سمت میں چلتے ہوئے، اپنی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد اور ترقی کے لیے سوچیں اور کوئی ایسا لائحہ عمل بنائیں جس پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ سیاسی استحکام کو ترجیح دی جائے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی معیشت کی خاطر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، کم از کم ایک مشترکہ معاشی لائحہ عمل پر متفق ہوں۔ چند سالہ ایک معاشی چارٹر تشکیل دینا ضروری ہے جو حکومت کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہے۔
طویل المدتی اور پائیدار اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے، جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، برآمدات میں اضافہ، اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا شامل ہونا چاہیے۔ حکومتی اقدامات میں مکمل شفافیت اور سخت احتساب کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جاسکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔ جب تک سیاسی قیادت دانش مندی کا مظاہرہ نہیں کرتی اور معیشت کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے متحد ہوکر کام نہیں کرتی، تب تک پاکستان اس سنگین بحران سے نکل نہیں پائے گا۔ مستحکم سیاست ہی مستحکم معیشت کی ضمانت ہے اور یہ حقیقت جتنی جلدی تسلیم کرلی جائے اتنا ہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔
موجودہ ملکی حالات سے عوام بھی بہت زیادہ متاثر ہوکر رہ گئی ہے اور اس کے نتائج میں مہنگائی کا ایک طوفان سر اٹھارے کھڑا ہے اور عوام کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں ان کی یہ سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کہ وہ کہاں سے اپنے اخراجات پورے کریں اپنی قلیل آمدن میں۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا۔
دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت وطن عزیز اور ہماری عوام پر اپنا فضل و کرم فرمائین اور حکمرانوں کو عقل سلیم عطا فرما کر ان کے دل میں عوام کا درد پیدا کردیں `آمین ۔