’’چین کی ایٹمی توانائی میں سبقت، اس کے ثمرات، نقصانات اور سیاسی اثرات‘‘ کس حد تک اقوام عالم اور امریکہ پر اثر انداز ہوں گے یہ بات عالمی طورر پر بے چینی کا سبب بنتی نظر آرہی ہے کیونکہ چین نے ایٹمی توانائی کے میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ سیاسی برتری کی طرف ایک اہم قدم بھی ثابت ہوا ہے اور اس کے ماحولیاتی، دفاعی، سفارتی اور معاشی اثرات دنیا بھر پر مرتب ہو رہے ہیں جیسا کہ چین نے یہ سبقت کیسے حاصل کی؟ (ٹیکنالوجی، منصوبے، سرمایہ کاری). امریکہ و دیگر طاقتوں کا ردعمل کیا نظر آرہا ہے؟ یہ پیش رفت دنیا کے لیے کتنی سود مند یا خطرناک ہوسکتی ہے؟ پاکستان جیسے ممالک کے لیے کیا مواقع یا خطرات موجود ہیں؟
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں طاقت صرف عسکری قوت یا معیشت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ توانائی کی خود کفالت اور ایٹمی صلاحیت بھی ایک ملک کی بالادستی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں جس برق رفتاری سے ترقی کی ہے اس نے عالمی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کو ایک نئی سوچ اور فکر مند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ چین اب صرف دنیا کی سب سے بڑی تجارتی طاقت ہی نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی صفِ اول کی پوزیشن پر فائز ہوچکا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے عالمی منظر نامہ میں تبدیلی کی لہر اٹھتی نظر آرہی ہے۔
چین نے اپنی ایٹمی پالیسی کو طویل مدتی قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا ہے۔ اس وقت چین میں پچاس سے زائد فعال نیوکلیئر ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں اور بیس سے زائد زیرِ تعمیر ہیں۔ چین کی حکومت نے سن بیس پینتس تک دنیا کا سب سے بڑا نیوکلیئر پاور سسٹم قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وہ نئی ٹیکنالوجیز جیسے ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹرز، فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز اور تھوریم پر مبنی نظام پر بہت تیزی کے ساتھ تحقیق کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کا بھی حصہ ہے۔ چین دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی نیوکلیئر پلانٹس فراہم کر رہا ہے جس سے وہ ’’ٹیکنالوجی ڈپلومیسی‘‘ کے ذریعے اقوام عالم پر اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔
امریکہ جو کبھی نیوکلیئر انرجی میں دنیا کا لیڈر تھا، اب سست ترقی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ پسپا ہوتا نظر آرہا ہے۔ امریکی ری ایکٹرز کی تعمیر میں تاخیر، سرمایہ کاری کی کمی اور سخت قوانین نے نیوکلیئر انڈسٹری کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ چین کے برعکس امریکہ میں بیشتر پلانٹس نجی شعبے کے کنٹرول میں جاچکے ہیں جس کے باعث پالیسی میں تسلسل قائم نہیں رہا۔ اب واشنگٹن اس پیش رفت کو چین کی ’’ٹیکنالوجیکل ڈپلومیسی‘‘ قرار دے کر اس کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
چین کی اس تیز رفتار ترقی نے دنیا کے کئی خطوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی ردِعمل اور اثرات منظر عام پر آرہے ہیں۔ روس اسے ایک اسٹریٹجک چیلنج کم اور تجارتی موقع زیادہ سمجھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک توانائی تعاون میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی دونوں ممالک نے اپنی کرنسی میں درآمدات اور برآمدات شروع کردی ہے جس سے ڈالر کو دھچکا لگتا نظر آرہا ہے۔ بھارت کے دفاعی ادارے اور تھنک ٹینکس چین کی برتری کو خطے میں توازن کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ یورپی یونین اور جاپان اس دوڑ میں شامل نہیں ہو رہے مگر عالمی حفاظتی ضوابط سخت کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں دنیا کو خطرہ لاحق ہے کہ ایٹمی توانائی کے نام پر ایک نیا جغرافیائی سیاسی بلاک قائم نہ ہو جائے۔
ایٹمی توانائی کا پھیلاؤ خود اپنے اندر کئی اندیشے رکھتا ہے۔ خطرات، اندیشے اور ممکنہ نقصانات کو مد نظر رکھ کر اگر تحفظ کے عالمی معیارات کو نظر انداز کیا گیا تو حادثات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جیسا کہ چرنوبل اور فوکوشیما میں ہوا تھا۔ نیوکلیئر ویسٹ (فضلہ) کی محفوظ تلفی اب بھی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ساتھ ہی دہشت گرد عناصر کے ہاتھ ایٹمی مواد لگنے کا خدشہ بھی لاحق ہے اور عالمی امن کے لیے یہ سب تباہ ثابت کن ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی ایٹمی ترقی کا عسکری استعمال، ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان پر اس سب کے کیا ممکنہ اثرات قائم ہوسکتے ہیں اور اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں اور ان کی کیا سفارشات ممکن ہوں گی؟ پاکستان جو چین کا قریبی اسٹریٹجک و معاشی شراکت دار ہے، اس پیش رفت سے کئی زاویوں سے متاثر ہوسکتا ہے۔ چین کی مدد سے پاکستان نے ’’چشمہ‘‘ کے ساتھ ’’کے ٹو اور کے تھری‘‘ نیوکلیئر پلانٹس قائم کیے ہیں اور اس کے لیے مستقبل میں مزید سستی ٹیکنالوجی حاصل کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران کے حل میں اس سے بڑی مدد مل سکتی ہے۔
اس ضمن میں چین پر علمی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس کے لیے چین کو بھرپور تیاری کی ضرورت ہے اور امید کا جاسکتی ہیں کہ چین مکمل طور پر اس سب کے لیے تیار بھی ہو اور اس کے ساتھ ہی چین کو مغربی ممالک کا ممکنہ دباؤ یا نگرانی کا سامنا کرنا بھی پڑ سکتا ہے۔ چین پر انحصار مزید گہرا ہوگا جو اقتصادی خود مختاری کو محدود کرسکتا ہے۔ اگر خطے میں نیوکلیئر طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو پاکستان کو بھی سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا ہوگا۔
چین کی ایٹمی توانائی میں سبقت دنیا کے لیے ایک تاریخی موڑ ہے۔ اگر یہ پیش رفت صرف ترقی اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی تک محدود رہے تو دنیا کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اگر اس میں سیاسی یا عسکری عزائم شامل ہوں تو یہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو توانائی بحران کے حل کے لیے استعمال کرے۔ چین سے سیکھ کر اپنی مقامی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو ترقی دے اور عالمی سطح پر شفاف اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرے تاکہ پاکستان خود انحصاری حاصل کر پائے اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک میں موجودہ توانائی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔