Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

وفاق المدارس اور ’’منے‘‘ میاں

رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور سے لے کر زرداری و شہباز شریف کے ڈھیٹ دور یعنی نومبر 2025ء تک، دینی مدارس عالمی صیہونی ،صلیبی طاقتوں اور ان کے مقامی راتب خوروں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ، کہا جاتا ہے کہ مدارسِ دینیہ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے قلعے ہیں۔ یہ ادارے قرآن و سنت کی تعلیم عام کرنے، دینی شعور بیدار کرنے اور اخلاقی تربیت فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہی مدارس سے علم و تقویٰ کے وہ روشن چراغ اٹھے جنہوں نے معاشرے میں دین کی روشنی پھیلائی۔ مدارس نہ صرف دین کے محافظ ہیں بلکہ قومی وحدت، امن اور اخوت کے فروغ کا بھی ذریعہ ہیں۔ ان کی خدمات کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے، کیونکہ یہی ادارے امت کی فکری و روحانی بنیادوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کے مدارس سے متعلق بیان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارسِ دینیہ صدیوں سے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف ہیں، جہاں قرآن و سنت کی تعلیم دی جاتی ہے اور طلبہ کو اخلاقی و دینی تربیت کے ساتھ حب الوطنی کا جذبہ بھی سکھایا جاتا ہے۔ ایسے اداروں کے بارے میں بے بنیاد الزامات عائد کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔
قائدینِ وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، نائب صدر مولانا انوارالحق اور ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ خواجہ آصف کی جانب سے اسلام آباد میں ہزاروں مدارس کے قبضے کی زمین پر قائم ہونے کا الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مدارس نہ صرف قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہیں بلکہ ان کی زمینوں اور املاک کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔قائدین نے کہا کہ خواجہ آصف نے غلط اعداد و شمار پیش کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان جہاد ایک ریاستی پالیسی تھی، جس کا فیصلہ حکومتِ وقت نے کیا تھا، اس کا الزام مدارس پر عائد کرنا غیر منصفانہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی خواہ کسی بھی بنیاد پر ہو، مذہبی، سیاسی یا لسانی، وہ قابلِ مذمت ہے، مگر اس کے حقیقی اسباب پر غور کئے بغیر مدارس کو نشانہ بنانا دانشمندی نہیں۔وفاق المدارس کے رہنماں نے کہا کہ خواجہ آصف نے چند ماہ قبل مدارس کے طلبہ کو وطن عزیز کی ’’دوسری دفاعی لائن‘‘قرار دیا تھا، مگر اب وہی مدارس ان کے نشانے پر ہیں۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف تضاد کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ حکومت کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔قائدین نے میاں محمد نواز شریف اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ خواجہ محمد آصف کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لیں اور تمام حکومتی ذمہ داران کو ہدایت کریں کہ وہ مستقبل میں مدارس کے بارے میں غیر سنجیدہ یا متعصبانہ بیانات دینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس پاکستان کے دینی و تعلیمی نظام کا بنیادی ستون ہیں، جو نہ صرف مذہبی تعلیم بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی وحدت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج وہی دینی مدارس، جو صدیوں سے ایمان و اخلاق کے قلعے اور علم و تقوی کے سرچشمے ہیں، سازشوں اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ وہ ادارے جنہوں نے معاشرے میں علم و تقویٰ کی شمعیں روشن کیں، آج ان پر بے بنیاد الزامات کے تیر برسائیجا رہے ہیں۔ ’’حکومتی دسترخوان کی راتب خوری‘‘کا کمال یہ ہے کہ اس منفی مہم میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو انہی مدارس کی گود میں پروان چڑھے اور انہی قائدین و اکابرین کی عطا کردہ اسناد کے بل بوتے پر مولوی ،مفتی اور استاد بنے، جن کے اپنے پلے شرارتوں ،نفرتوں، حماقتوں، سازشوں کے سوا کچھ بھی نہیں، وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور 27ہزار کے لگ بھگ دینی مدارس سے دجالی میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے کے زور پر انکا،علم، حلم، تقویٰ وطہارت اور نیک نامی چھیننا چاہتے ہیں، یعنی ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ؟’’اوپر‘‘ کے حکم پر دجالی میڈیا پر جھوٹ کی طاقت سے وفاق المدارس کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والے ’’منے‘‘ منہ دھو رکھیں۔
ہم نے دیکھا ہے فرعونوں کو فنا ہوتے ہوئے
وقت آنے دو تمہاری اوقات بھی کھل جائے گی
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ، شیخ الحدیث قاری محمد حنیف جالندھری کے بیانات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، مخصوص حالات اور جذبات میں بولے گے جملوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ’’استادی‘‘ دکھانے والے حکومتی دسترخوان کے راتب خور اپنے اس عمل سے نفرتیں بڑھا کر معاشرے کو مزید پراگندہ کر رہے ہیں، اس خاکسار کا ذاتی طور پر نہ وفاق المدارس سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی’’منے‘‘ اور اس کے ’’ابا‘‘سے،ہاں البتہ یہ خاکسار نائن الیون کے کروسیڈی ایجنڈے سے ٹکرانے والوں اور نائن الیون کی کانٹوں بھری کوکھ سے جنم لینے والے فتنوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے ،اس لئے وفاق المدارس کو سپورٹ کرنا میری صحافتی ذمہ داری ہے،زمینی حقیقت یہ ہے کہ مدارس کی بنیاد خلوص، قربانی اور خدمتِ دین پر رکھی گئی ہے۔ یہ ادارے طوفانوں کے باوجود قائم رہے اور آئندہ بھی قائم رہیں گے۔ علم و ایمان کے یہ چراغ کبھی بجھ نہیں سکتے، کیونکہ ان کی روشنی وحیِ الٰہی اور اخلاصِ نیت سے منور ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کل بھی ملت کی امید تھے، آج بھی ہیں اور ان شااللہ تا قیامت رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں