(گزشتہ سے پیوستہ)
فرعون کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو وہ بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر اور کمزور سی جماعت قرار دے رہا تھا دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مسلح لشکر کی تیاری کا حکم دے رہا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو یقین تھا کہ بنی اسرائیل محض ایک کمزور سی اور مٹھی بھر جماعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ان کے شامل حال ہے۔ لہٰذا اس نے ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تیار ہونے میں خواہ مخواہ کچھ عرصہ لگ گیا۔ فرعون کے اس لشکر نے بالآخر بنی اسرائیل کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر جا پکڑا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں لشکروں میں صرف اتنا فاصلہ رہ گیا تھا کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پر کھڑے تھے۔ پیچھے سے فرعون کا لشکر تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ان کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ بنی اسرائیل جو فرعون سے پہلے ہی سخت خوف زدہ تھے یہ صورت حال دیکھ کر سخت گھبرا گئے۔ آگے سمندر تھا پیچھے فرعون کا لشکر دونوں طرف موت ہی موت کھڑی نظر آرہی تھی۔ لہٰذا ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے‘ موسیٰ اب تو ہم مارے گئے۔
لیکن موسیٰ علیہ السلام پر اس صورت حال کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالی ٰنے ان سے جو فتح و نصرت کے وعدے کر رکھے ہیں وہ یقینا پورے ہوں گے اور اس مصیبت سے نجات کے لئے بھی اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ لہٰذا انہوں نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات میں بھی ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سید نا موسیٰ علیہ السلام نے بموجب وحی الٰہی جب اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا اور درمیان میں کافی کشادہ راستہ بن گیا اور راستہ خشک بھی فوراً ہو گیا۔ نیچے دلدلی زمین نہیں تھی۔ ایک طرف کا پانی بھی ساکن جامد پہاڑ کی طرح کھڑا کا کھڑا رہ گیا اور دوسری طرف کا بھی۔ لیکن مفسرین کی نقل کردہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خشک راستہ نہیں بلکہ بارہ راستے بنے تھے اور (کل فرق) کے الفاظ بھی ان روایات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ کل کا لفظ دو کے لئے نہیں آتا۔ روایات کے مطابق سمندر میں بارہ راستے بنے تھے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے تقریباً بارہ ہزار افراد تھے جو ہجرت کر کے آئے تھے اس لحاظ سے ان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار بنتی ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔ جبکہ فرعون کے لشکر کی تعداد ان سے بہت زیادہ تھی۔
اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طورپر بنی اسرائیل کے لئے نجات کی راہ پیدا کر دی اور بنی اسرائیل اس میں سے گزر کر بخیر و عافیت اس بحیرہ کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اس وقت فرعون کا لشکر انہی راستوں سے گزر کر سمندر پار کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ شاید اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خیال آیا ہو تو اب دوبارہ سمندر پر اپنا عصا ماریں۔ تاکہ پانی پھر سے آپس میں مل جائے اور فرعون کا لشکر ان تک نہ پہنچنے پائے لیکن اسی وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ ‘ یعنی سمندر کو اسی حال میں پہاڑوں کی طرح کھڑا چھوڑ دو۔ کیونکہ اللہ تعالی ٰکی مرضی صرف یہی نہیں تھی کہ بنی اسرائیل اسن فرعونیوں سے نجات پا جائیں بلکہ یہ بھی تھی کہ اس ظالم قوم کو سمندر میں غرق کر کے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے۔
فرعون اور آل فرعون اگر بنی اسرائیل کا تعاقب نہ کرتے یا سمندر سے ہی واپس چلے جاتے تو ان کا صرف اتنا ہی نقصان ہوتا کہ ایک غلام قوم ہاتھ سے نکل گئی۔ مگر اللہ کی مشنیت پوری ہوکر رہتی ہے۔ ان کی ہلاکت ہی انہیں مقام ہلاکت تک کھینچ لائی تھی۔ پھر جب انہوں نے سمندر میں کھلے راستے دیکھے۔ پھر بھی فرعون کو یہ خیال نہ آیا کہ ممکن ہے کہ سمندر میں اس طرح راستہ بن جانا ایک خرق عادت امر اور موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہو۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو۔ فوراً اپنے گھوڑے انہی راستوں پر ڈال دئیے اور جب فرعون کا پورا لشکر سمندر کی زد میں آگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ اپنی طبعی حالت پر واپس آجائے اور آپس میں مل جائے۔ چنانچہ خدائی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والا فرعون اپنے تمام اہلیان سلطنت اور لائو لشکر سمیت اس سمندر میں غرق ہو گیا۔
یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کیلئے نشانی ہے۔ ظالموں کیلئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا ور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انہیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کیلئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انہیں تکلفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ برباد کر دیتا ہے۔ یعنی ایسی واضح نشانی دیکھ کر بھی منکرین حق کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو سزا دینے کی اللہ پوری قدرت رکھتا ہے لیکن فورا ً سزا اس لئے نہیں دیتا کہ وہ رحیم بھی ہے۔