لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث پانچ ثابت شدہ گستاخوں کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا ، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کے ایک وفد نے اس خاکسار کی ہمراہی میں جمعرات کی رات جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی۔
سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف جاری قانونی کارروائی کے عمل میں جب کبھی بھی اسلام دشمن قوتوں اور گستاخوں کے سہولت کاروں نے کوئی رخنہ اندازی کی کوشش کی تو مولانا فضل الرحمن ہی کی کاوشوں نے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔گزشتہ تقریبا چار سالوں سے متعدد مواقع پر مولانا فضل الرحمن کے اہم کردار کا یہ خاکسار عینی شاہد ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی ثابت شدہ گستاخوں کے خلاف قانونی کارروائی کے عمل پر اثر انداز ہونے اور گستاخوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان گستاخوں کے خلاف عدالتی محاذ پر سرگرم افراد نے ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمن ہی کی طرف دیکھا اور اسی طرف انہیں امید کی آخری کرن نظر آئی۔اسی لئے خاکسار اپنے کالموں میں پورے شرح صدرک لکھتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔اسلام کی بالادستی اور مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس کے تحفظ کے حوالے سے ان کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے موقع پر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے جنرل سیکریٹری نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے جن پانچ گستاخوں کی سزائے موت کو آئین،قانون اور انصاف کے تقاضوں کو ’’قتل’’ کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا گیا،کے خلاف مقدمے کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 28 اکتوبر 2025 ء کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے ایک ملزمہ کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا تھا۔جس کے خلاف توہین رسالت و توہین صحابہ و اہل بیت کی دفعات کے تحت مقدمہ 13 مئی 2020 ء کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ راولپنڈی میں محمد حسنات فاروق کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔مورخہ 19 جنوری 2022 ء کو سیشن کورٹ راولپنڈی نے ملعونہ انیقہ عتیق کو ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ ملزمہ نے مورخہ 27 مارچ 2020 ء کو اپنے واٹس ایپ سٹیٹس پر توہین آمیز خاکے لگائے تھے۔
مدعی مقدمہ نے ملعونہ کا واٹس ایپ سٹیٹس دیکھنے کے بعد اسے میسج کیا کہ ’’یہ تم نے کیا سٹیٹس لگایا ہوا ہے؟‘‘۔ملعونہ نے جواب دیا کہ’’ جو تمہیں نظر آرہا ہے‘‘۔مدعی مقدمہ نے پھر اسے میسج کرکے کہا کہ ’’یہ توہین رسالت ہے۔اسے ڈیلیٹ کرکے اللہ تعالی سے معافی مانگو‘‘۔اس پر ملعونہ نے سٹیٹس ڈیلیٹ کرنے کے بجائے مدعی مقدمہ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور کہا کہ’’ مجھے اظہار رائے کی آزادی ہے‘‘۔مدعی مقدمہ نے پھر اسے خبردار کیا کہ ’’یہ توہین رسالت ہے اور تم واجب القتل ہوگی اگر تم نے معافی نہ مانگی تو۔اگر تم معافی نہیں مانگتی تو میں تمہارے خلاف مقدمہ درج کروانے پر مجبور ہوں گا‘‘۔اس کے بعد بجائے اس کے کہ ملعونہ معافی مانگی،اس نے مدعی مقدمہ کو بھی توہین رسالت اور توہین امہات المومنین پر مبنی میسجز اور مواد بھیجنے شروع کر دیئے۔اس کے بعد بھی 27 مارچ سے لے کر 02 اپریل 2020 ء تک مدعی مقدمہ نے مسلسل ملعونہ کو توبہ تائب ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کی اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے گریز کیا۔مگر ملعونہ مسلسل توہین کا ارتکاب کرتی رہی۔جس کے بعد مجبوراً مدعی مقدمہ نے ملزمہ کے خلاف کارروائی کے لئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ راولپنڈی کو درخواست دی اور 13 مئی 2020 کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ راولپنڈی نے مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے وقت ملزمہ سے وہ موبائل فون بھی برآمد ہوا کہ جس موبائل فون میں موجود واٹس ایپ اکانٹ پر اس نے گستاخانہ واٹس ایپ سٹیٹس لگائے تھے۔وہ سم بھی برآمد ہوئی کہ جس سم پر وہ واٹس ایپ اکائونٹ بنا ہوا تھا۔ملزمہ سے برآمد ہونے والے موبائل فون کے ٹیکنیکل اور فرانزک رپورٹس میں ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا ذکر کردہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور تمام گستاخانہ میسجز اور مواد موبائل سے برآمد ہو گیا۔
برآمد ہونے والے موبائل فون کے ٹیکنیکل اور فرانزک رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صرف مدعی مقدمہ کو ہی توہین رسالت و توہین آمیز میسجز وغیرہ نہیں بھیجے بلکہ مدعی مقدمہ کے علاوہ بھی مزید تین لوگوں کو گستاخانہ میسجز اور مواد سینڈ کیا تھا۔اس کے علاوہ ملعونہ نے اپنے فیس بک اکائونٹ کے ذریعے بھی گستاخانہ مواد کی تشہیر کی تھی۔
یہ بات انتہائی قابلِ ذکر و قابل توجہ ہے کہ مذکورہ ملزمہ کے خلاف نہ صرف یہ کہ شواہد کی بنیاد پر تمام الزامات درست ثابت ہوئے تھے بلکہ اس نے ٹرائل کورٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے بیان میں خود بھی اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی تھی۔یہ توہین رسالت کے متعلق پاکستان کی تاریخ کا شائد پہلا مقدمہ تھا کہ جس میں توہین کی مرتکب گستاخہ نے خود بھی عدالت کے سامنے اقبال جرم کیا۔ملزمہ کے خلاف شواہد اور اقبال جرم کے بعد ٹرائل کورٹ نے اسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ان تمام حقائق کے باوجود لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ڈویژنل بینچ نے مدعی مقدمہ کے وکیل کے دلائل سنے بغیر مذکورہ ملزمہ کی جانب سے دائر اپیل کی چار سے پانچ منٹ کی سماعت کے بعد مورخہ 28 اکتوبر کو حقائق اور ریکارڈ کے برعکس فیصلے کے ذریعے سزائے موت کو کالعدم قرار دے کر اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
(جاری ہے)