Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

سزائے موت کی مختلف اشکال

دنیا میں58 ممالک ایسے ہیں جن میں سزائے موت قانونی طور پر اب بھی فعال ہے-جبکہ 95 ممالک اس سزا کو کالعدم قرار دے چکے ہیں۔یورپی یونین میں سزائے موت پر بنیادی حقوق کے چارٹر کے مطابق پابندی عائد ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے اب دنیا کی قریبا 60 فیصد آبادی ایسے ممالک سے تعلق رکھتی ہے جہاں موت کی سزا کو اب بھی قانونی حیثیت حاصل ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے شائع ہونے والی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر 95 ممالک نے سزائے موت پر عملدرآمد روکا ہے۔ان میں 9 ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے غیر معمولی حالات کے علاوہ اس سزا پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔جبکہ 35 ممالک نے سزائے موت کا قانون ہونے کے باوجود پچھلے دس سالوں میں سزائے موت کے قانون کا استعمال نہیں کیا اور یہ قانون اب اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے جبکہ 58 ممالک میں سزائے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے جہاں اس سزا پر عملدرآمد کیا جاتا ہے-ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2009 میں دنیا کے 8 ممالک میں قریبا 714 افراد کو سزائے موت دی گئی۔کئی ایسے ممالک بھی ہیں جو سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے پوری معلومات فراہم نہیں کرتے۔ان ممالک میں عوامی جمہوریہ چین سرفہرست ہے۔جس کے بارے میں عمومی رائے ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں ہر سال سینکڑوں افراد سزائے موت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق 2020 کی پہلی سہ ماہی میں دنیا بھر میں 17000 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تاہم کافی سزاں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا-سزائے موت پانے والے مجرم کو ہلاک کرنے کے لیئے مختلف طریقے استعمال کیئے جاتے ہیں۔ان طریقوں میں برقی کرسی، مجرم کو سنگسار کرنا، گولی مارنا، پھندے سے پھانسی دینا اور زہریلے ٹیکوں کا استعمال شامل ہے-موت کی سزا بیشتر ممالک میں سنگین جرم کرنے والوں کے لیئے سب سے بڑی سزا ہے جس کا انجام سزا پر عملدرآمد کی صورت میں ہوتا ہے۔سزائے موت کے تناظر میں تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو زمانہ قدیم سے لے کر اب تک مختلف معاشروں اور مختلف ادوار حکومت میں حکمرانوں نے سزائے موت کے قانون کو رائج رکھا ہے۔صاحبانِ اقتدار دہشت گردوں کیساتھ ساتھ ملک دشمنوں، سیاسی مخالفین اور جرائم پیشہ عناصر کو سزائے موت دے کر موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں۔مختلف ممالک میں سزائے موت کا طریقہ مختلف ہے۔یعنی پھانسی کے علاوہ بھی مجرموں کو دوسری دنیا تک پہنچانے کے لیئے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ان کی نوعیت مختلف اور جداگانہ ہے۔عرب ممالک میں تو سزائے موت کے مجرموں کا سر قلم کرکے موت کی سزا دی جاتی ہے۔مختلف ممالک میں سزائے موت دینے اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے پالیسیاں اور قوانین مختلف ہیں۔یورپی یونین کے رکن ممالک میں یونین کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت سزائے موت دینے پر پابندی ہے۔
47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل آف یورپ نے اپنے رکن ممالک میں سزائے موت دینے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں بھی سزائے موت پر پابندی ہے-اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اپنی قرار دادوں کے ذریعے سزائے موت کی مخالفت کی ہے۔اس پر اتفاق رائے سے پابندی لگانے کی بات کر رکھی ہے۔تاہم عالمی سطح پر سزائے موت کی مخالفت کے باوجود دنیا کی بہت بڑی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں سزائے موت پر عملدرآمد اب بھی تسلسل سے جاری ہے۔ان ملکوں میں چین، بھارت، امریکہ اور انڈونیشیا سرفہرست ہیں۔ان چاروں ممالک نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سزائے موت کی مخالفت میں پاس ہونے والی قراردادوں کی بھرپور انداز میں مخالفت کی ہے-بادشاہوں کے دور سے لے کر اس ترقی یافتہ جدید سائنسی دور تک اگر مختلف ادوار کو دیکھیں تو سزائے موت کے مختلف طریقے دکھائی دیں گے-پھانسی کی سزا ہمارے ملک پاکستان میں بھی رائج ہے۔جس کے متعلق آپ اچھی طرح آگاہ ہوں گے۔دنیا کے دیگر کئی ممالک میں مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے گولی مارنے کا طریقہ رائج ہے۔مجرم ایک سے زائد ہوں تو انہیں فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔پھر اشارہ ملتے ہی اسکواڈ کے لوگ مجرموں پر گولیاں برسانا شروع کر دیتے ہیں-پرانے وقتوں میں مجرموں کو موت کی سزا ملتی تھی تو موت سے قبل اسے بے پناہ اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔جلا د یا کوئی سرکاری اہلکار بادشاہ یا مسند اقتدار پر بیٹھے ہوئے شخص کے حکم پر تیز دھار چھری یا چاقو سے سزا یافتہ شخص کے جسم کی کھال اتارتے تھے۔یہ اذیت ناک مرحلہ مجرم کو موت سے پہلے کئی بار مارتا تھا۔ائے موت کے مجرم کو اس طرح سے بھی سزا دی جاتی تھی کہ اس کے جسم کے کچھ اعضا کو کاٹ دیا جاتا تھا۔جس سے رفتہ رفتہ اس کی موت واقع ہو جاتی تھی۔عام طور پر اس طریقہ کار کو اختیار کرتے وقت مجرم کے معدے کے قریب گہرے زخم لگائے جاتے تھے اور پھر باری باری جسم کے مختلف اعضا کو کاٹا جاتا تھا-بعض ممالک میں قرآن کریم میں دئیے گئے احکامات کی روشنی میں زانی شادی شدہ مرد اور عورت کو سنگسار کرنے کا حکم ہے۔اس حکم کے تحت سزا یافتہ مرد اور عورت کو سنگ باری کے ذریعے ہلاک کیا جاتا ہے۔اس سزا کے تحت مجرم کے آدھے جسم کو زمین میں گاڑھ دیا جاتا ہے۔ا س کے بعد چاروں طرف کھڑے لوگ اس پر سنگ باری کرتے ہیں جس سے مجرم اور مجرمہ کی ہلاکت ہو جاتی ہے۔مجرم کو اگر زمین میں نہ گاڑھا جائے تو اسے کھلے میدان میں بٹھا دیا جاتا ہے اور وہاں موجود لوگ اس پر پتھر برساتے ہیں۔یوں اس کی ہلاکت ہو جاتی ہے۔پاکستان میں سزائے موت کے مجرم کو پھانسی دینے کا طریقہ رائج ہے جو اس کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر دی جاتی ہے۔کیا واقعی سزائے موت پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔اس سے سنگین جرائم میں کوئی کمی آئے گی یا آ سکتی ہے؟ یہ اہم سوال ہے جو معاشرے کا ہر فرد آج پوچھتا ہے-

یہ بھی پڑھیں