Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

موجودہ حکومت کی صحت کے شعبے میں اصلاحات

جب کسی بھی ملک میں صحت کے معاملات بگڑنے لگیں، عام آدمی بنیادی طبی سہولیات تک رسائی سے محروم ہو جائے، ہسپتالوں میں علاج مہنگا ہو جائے، دوائیں نایاب ہو جائیں، بچوں کی ویکسینیشن رک جائے اور بیماریوں کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے تو ایسے حالات میں حکومت کا کردار فیصلہ کن بن جاتا ہے کیونکہ صحت کا شعبہ محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ قوموں کی بقا اور ترقی کا بنیادی ستون ہے اور جب اس ستون میں دراڑیں پڑتی ہیں تو پورا معاشرتی ڈھانچہ کمزور ہونے لگتا ہے۔اسی وجہ سے دنیا کے تمام ذمہ دار ممالک میں صحت کے معیار کو بلند کرنا ریاست کی سب سے پہلی ترجیح قرار دیا جاتا ہے اور یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے موجودہ حکومت نے صحت عامہ کے بحران کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی۔گزشتہ ادوار میں صحت کا نظام اکثر غیر مربوط، کم فنڈڈ، بدانتظامی کا شکار اور بنیادی اصلاحات سے محروم رہا، جس کے نتیجے میں شہری نہ صرف علاج کے لیے پریشان ہوتے رہے بلکہ دیہی علاقوں میں تو بنیادی مراکزِ صحت بھی یا تو غیر فعال تھے یا پھر مطلوبہ عملے اور آلات کے بغیر محض نام کی عمارتیں بنی ہوئی تھیں، لہٰذا جیسے ہی موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں اس نے صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے ایسی اصلاحات کا آغاز کیا جن کا مقصد نہ صرف فوری مسائل کا حل تھا بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ایسا پائیدار نظام تشکیل دینا بھی تھا جو بدلتی ہوئی طبی ضروریات اور عالمی ادارۂ صحت کے معیارات پر پورا اتر سکے، چنانچہ حکومت نے سب سے پہلے قومی سطح پر صحت کا ڈیٹا جمع کرنے، بیماریوں کے پھیلاؤ کی نگرانی کرنے اور ہسپتالوں کی استعداد کا جائزہ لینے کے لیے ایک پورٹ فولیو تیار کیا، جس کے بعد ملک بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیااور سب سے بڑی پیش رفت یہ رہی کہ حکومت نے صحت کو محض ایک شعبہ یا وزارت سمجھنے کے بجائے اسے ایک قومی ذمہ داری کے طور پر لیا اور عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا کہ صحت کے میدان میں حقیقی تبدیلی کے لیے سیاسی عزم، مالی وسائل اور انتظامی اصلاحات کی یکجائی بنیادی شرط ہے۔اسی سلسلے میں موجودہ حکومت نے سب سے پہلے غیر فعال یا جزوی فعال بنیادی مراکزِ صحت کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔سینکڑوں دیہی مراکز میں نئے آلات، عملے اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی۔ کئی جگہوں پر/7 24مراکز کھولے گئے جہاں پہلے صرف چند گھنٹے سہولیات دستیاب تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا بڑا منصوبہ شروع ہوا۔جس میں ایمرجنسی وارڈز کی بہتری، آپریشن تھیٹرز کی جدید کاری، لیبارٹریوں میں نئے ٹیسٹ، ڈائیلاسز مشینوں کی فراہمی، انکیوبیٹرز، وینٹی لیٹرز اور ضروری ادویات شامل تھیں۔پنجاب میں حکومت نے لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں بڑے تدریسی ہسپتالوں کے نئے بلاکس قائم کیے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور ڈی جی خان کے ہسپتالوں کو جدید مشینری فراہم کی گئی۔ سندھ کے شہر کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں نئے کارڈیک یونٹس اور برن سنٹرز قائم کیے گئے، جبکہ اندرون سندھ کے اضلاع میں بنیادی سہولیات بہتر بنائی گئیںہیں۔
خیبر پختونخوا میں ہسپتالوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ ٹراما سینٹرز کا جال بچھایا گیا ہے۔ صوبے میں زچہ و بچہ مراکز کو مضبوط کیا گیا اور علاج کے لیے نئے ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ بلوچستان میں مکران، کوئٹہ اور سبی میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر، موبائل کلینکس اور ٹیلی میڈیسن سروسز کو متعارف کروایا گیا تاکہ دور دراز علاقوں تک صحت کی سہولت پہنچائی جا سکے۔ ویکسی نیشن کے میدان میں حکومت نے نہ صرف پولیو کے خاتمے کے لیے ایک مربوط عملی منصوبہ بنایا بلکہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کو تیز کیا گیا۔ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کو بہتر بنایاگیا، والدین کو آگاہی فراہم کی گئی اور آخری رہ جانے والے حساس علاقوں تک ٹیموں کو پہنچایا، نتیجتاً وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خسرہ، ٹی بی، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس اور کورونا کے بعد بچوں اور بڑوں کے لیے نئی ویکسینیشن لائنز بھی متعارف کروائی گئیں۔ حکومت نے EPI پروگرام کو ڈیجیٹل کیا تاکہ ہر بچے کا ریکارڈ محفوظ ہو اور ویکسی نیشن کا عمل شفاف ہو سکے۔اس کے علاوہ حکومت نے نئی ویکسین کے لیے بین الاقوامی اداروں سے شراکت داری کی جس سے دور دراز علاقوں تک ویکسین محفوظ حالت میں پہنچنے لگی۔ادویات کی فراہمی کے معاملے میں حکومت نے مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو بحال و فعال کیا گیا۔ ادویات کی قیمتوں کے نظام کو شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی بھی بڑھائی گئی۔ اس کے علاوہ تمام صوبوں میں ہیلتھ کارڈ یا یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کو توسیع دی گئی، جس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت ملی ۔کئی بڑے نجی اور سرکاری ہسپتال اس نظام سے منسلک ہوئے ہیں، دل، گردے، کینسر اور ٹراما جیسے مہنگے علاج تک رسائی آسان ہوئی اور بہت سے خاندانوں پر سے مالی بوجھ کم ہواہے۔ڈجیٹلائزیشن کی جانب بھی حکومت نے اہم پیش رفت کی ہے۔ قومی صحت انفارمیشن سسٹم بنایا گیا، ہسپتالوں کا ڈیٹا مرکزی نظام سے جوڑا گیا، مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دی گئی، ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاکٹروں کو تربیت دی گئی اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ایسے علاقوں میں سہولت پہنچائی گئی جہاں ڈاکٹروں کی کمی تھی۔حکومت نے میڈیکل ایجوکیشن کے معیار کی بہتری کے لیے ایم بی بی ایس نصاب کو اپ ڈیٹ کیا، نئے نرسنگ کالجز کھولے، پیرامیڈیکل عملے کی تربیت بہتر کی اور طبی تحقیق کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا۔حکومت نے ماں اور بچے کی صحت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جن میں غذائی قلت کے خاتمے، آئرن اور فولک ایسڈ کی فراہمی، زچہ و بچہ مراکز کی مضبوطی، دائیوں کی تربیت اور دیہی علاقوں میں حفاظتی سہولیات کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ ماحول اور صحت کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے صاف پانی کے منصوبے، گندے نالوں کی صفائی، ڈینگی کنٹرول پروگرام، فضائی آلودگی میں کمی اور خوراک میں ملاوٹ کے خلاف مہم چلائی گئی۔یہ تمام اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب ریاست کو معاشی دباؤ، مہنگائی، عالمی صورتحال اور بیماریوں کے پھیلاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، اس کے باوجود موجودہ حکومت نے صحت کے میدان میں ایک ایسا عملی نقشہ فراہم کیا جو نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے،البتہ نظام کو مکمل طور پر مستحکم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانے کے ساتھ ساتھ تحقیق کو فروغ دینا ہوگا اور صحت کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھنی ہوگی تاکہ پاکستان ایک ایسی مثال بن سکے جہاں ہر شہری کو اس کی آمدنی یا رہائش کی پروا کیے بغیر معیاری طبی سہولت مل سکے اور یہی وہ وژن ہے جس کی بنیاد موجودہ حکومت نے اپنے اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے رکھی ہے۔ایک ایسا وژن جو امید، بہتری اور مضبوط قومی صحت کے نظام کی طرف ایک روشن قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں