Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

افغان طالبان کا غیر منطقی موقف!

جرمنی کے ’ڈی ڈبلیو نیوز‘ DW News کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں طالبان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ناقابل فہم بیان دیا ہے ۔ جب ان سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے بارے میں پوچھا گیا، جو اقوام متحدہ کی جانب سے ایک نامزد دہشت گرد تنظیم ہے اور پاکستان میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے، تو مجاہد نے جواب دیا: ’’ہم ٹی ٹی پی کو دہشت گرد نہیں کہتے کیونکہ ’دہشت گرد‘کا لفظ پشتو لغت میں بھی موجود نہیں ہے، نہ ہی یہ ہماری اصطلاحات کا حصہ ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے‘‘۔
یہ بیان نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ زمینی حقائق، اخلاقیات اور گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی قوم کو دہشت گردی کے حوالے سے درپیش مسائل کا بے رحمانہ انکار بھی ہے۔ یہ بیان دراصل عالمی توجہ منتشر کرنے ، ایک دہشت گرد گروہ کو پناہ دینے اور ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش ہے۔
طالبان ترجمان کا یہ کہنا کہ پشتو لغت میں ’’دہشت گرد‘‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے، کئی اعتبار سے غیر منطقی ہے۔ لغت کے الفاظ نہیں بلکہ کالعدم گروہ کے مجرمانہ کرتوت ان کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے مساجد پر بمباری کی ہے، اسکولوں پر حملے کیے ہیں، جنازوں پر گھات لگا کر حملے کیے ہیں، فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے افسران کو قتل کیا ہے۔ اگر یہ دہشت گردی کے افعال نہیں ہیں تو پھر کیا ہے؟۔مزید برآں، طالبان خود اپنے مخالفین کے لیے مرتد، جاسوس، گمراہ اور غدارجیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ کیا ٹی ٹی اے نے ان اصطلاحات کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے سے پہلے پشتو لغت میں ان کی جانچ کی تھی؟ ظاہر ہے، یہ لسانیات کا نہیں بلکہ سماجی اخلاقیات اور سیاسی مصلحت کا معاملہ ہے۔
بیان کا دوسرا حصہ، کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، ناقابل تردید شواہد کی بدولت رد ہو رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کی قیادت، بشمول اس کے اعلی کمانڈر اور فیصلہ ساز شوری، افغانستان میں روپوش ہیں۔ ان میں سے کئی افغان سرزمین پر مارے ج چکے ہیں ۔ ان کے محفوظ ٹھکانے، تربیتی کیمپ، لاجسٹکس اور آپریشنل منصوبہ بندی کے شواہد پاکستان نے بارہا پیش کئے ہیں۔ یہ حقائق صرف پاکستان کے دعوے نہیں ہیں۔ متعدد آزادانہ مرتب کردہ رپورٹس، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بھی شامل ہیں، میں بیان ہو چکے ہیں ۔ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے خطرناک حد تک آزادی کے ساتھ کام کرتی ہے۔ بار بار سفارتی کوششوں اور شواہد کے تبادلے کے باوجود، ٹی ٹی اے حکومت مسلسل آنکھیں چرائے ہوئے ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں خاموش سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
اگست 2021 ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، ٹی ٹی پی نے پھر سر اٹھایا۔ ہزاروں دہشت گرد افغانستان سے واپس آئے، نئے افراد بھرتی کیے گئے اور کئی سالوں میں پہلی بار، یہ گروہ ایک مرکزی کمان کے تحت اور بہتر رابطے کے ساتھ دوبارہ منظم ہوا۔ یہ بحالی فطری نہیں تھی۔ اسے افغانستان میں پیدا ہونے والے طاقت کے خلا نے ممکن بنایا اور اس سے بھی زیادہ واضح طور پر، ٹی ٹی اے کی جانب سے افغان سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے میں معنی خیز ناکامی نے اس کی راہ ہموار کی۔اگر ٹی ٹی پی صرف پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہوتی، تو پھر ان کی قیادت افغانستان میں کیوں براجمان ہے؟ ان کے کیمپ وزیرستان یا سوات میں نہیں بلکہ سرحد پار کیوں واقع ہیں؟ پاکستانی کی مسلسل اپیلوں کے باوجود طالبان حکومت نے ان نیٹ ورکس کو کیوں ختم نہیں کیا؟ شاید سب سے زیادہ واضح بات ٹی ٹی اے کا دوہرا معیار ہے۔ طالبان ISKP (اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ)کوخوارج،فسادی اور باغی کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ پھر بھی وہ ٹی ٹی پی کے لیے کبھی بھی ایسی اصطلاحات استعمال نہیں کرتے۔ کیوں؟ ٹی ٹی پی، جو زیادہ تر پشتون عسکریت پسندوں پر مشتمل ہے، افغان طالبان کے ساتھ لسانی وابستگی بھی رکھتی ہے۔
پاکستان نے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی ناقابل برداشت قیمت ادا کی ہے۔ پچانوے ہزار سے زیادہ عام شہری، فوجی، پولیس اور انٹیلی جنس اہلکار اس گروہ سے براہ راست منسلک حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ بازاروں میں بمباری کی گئی، اسکولوں میں بچوں کا قتل عام کیا گیا اور پورے کے پورے گائوں تباہ کر دیے گئے۔ اس انسانی تکلیف کو لغت کے دائرے میں محدود کرنا نہ صرف فکری بددیانتی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہے۔دنیا، بشمول اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور تقریباً ہر عالمی انسداد دہشت گردی ادارہ، ٹی ٹی پی کو ایک انسانیت دشمن دہشت گرد گروہ تسلیم کرتا ہے: اس کے اقدامات ہر بین الاقوامی اور اسلامی تعریف کے تحت دہشت گردی، ریاست کے خلاف مسلح بغاوت، شہریوں کے خلاف تشدد اور ’’فساد فی الارض‘‘ پھیلانے کے زمرے میں آتے ہیں۔
مجاہد اور ان کے ٹی ٹی اے کے ساتھی معصومیت کا ڈرامہ کرکے علاقائی اور بین الاقوامی انٹیلی جنس کی توہین کرنا بند کریں۔ اب اس طرح کی کھوکھلی باتوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان افغان ملی بھگت کو چھپانے کے لیے زبانی جمع خرچ کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی کر سکتا ہے۔ اگر طالبان حکومت واقعی علاقائی امن چاہتی ہے، تو اسے ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو پناہ دینا بند کرنا ہوگا، ان کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہوگا، اور پاکستانی سرزمین پر ہونے والے قتل عام کے ذمہ دار قیادت کو حوالے کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، ’’عدم مداخلت‘‘ کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد ہی رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں