Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ہر کوئی اپنی فرد عمل سنبھالے

ڈی جی آئی ایس پی آر کی غیر معمولی پریس کانفرنس کے بعد کی صورتحال متقاضی ہے کہ دونوں فریقین ٹھنڈے دل و دماغ سے غور وفکر کریں اور اصلاح احوال کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ بنیادی بات، کیا پاکستان اس کا متحمل ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت اور پاک فوج کے درمیان اس طرح کی دوری پیدا ہو کہ بات ایک دوسرے کو غدار قرار دینے پر آجائے۔ یقینی طور پر اس کا جواب ناں میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہونا کیا چاہئیے تا کہ اس گھمبیر اور بگڑی ہوئی صورتحال کو ٹھیک کیا جاسکے؟ اس ضمن میں جو سب سے پہلا کام دونوں فریقین کے کرنے کا ہے وہ ’سیز فائر‘ ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر دشنام طرازی فوری طور پر بند ہونی چاہئیے۔ اس کے بعد دیگر ایکشنز کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے ہم تحریک انصاف کے کرنے والے کاموں کا جائزہ لیتے ہیں۔ جو کام تحریک انصاف کے کرنے والے ہیں ان میں پہلا کام اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کو کنٹرول کرنے کا ہے۔ تحریک انصاف کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ سوشل میڈیا کے ان فری لانسرز نے خاص طور پر باہر بیٹھے ہوئے افراد نے تحریک انصاف کے کاز کی خدمت نہیں کی بلکہ کام کو مزید بگاڑا ہے لہٰذا ان افراد کی لن ترانیوں اور گالم گلوچ سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے اپنے آفیشل اکائونٹس سے بھی ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئیے جس سے نفرت کا اظہار ہو یا بات تلخی کی طرف جائے۔ اپنے اختلافی اور اصولی موقف کا اظہار ضرور کیا جائے لیکن یہ اچھے اور سلجھے ہوئے انداز میں ہونا چاہئیے۔ دوسرا کام، تحریک انصاف کو یہ کرنا ہے کہ وہ مزاحمتی سیاست کا راستہ ترک کرے۔ تحریک انصاف احتجاجی سیاست کا راستہ اختیار کرنے میں حق بجانب ضرور ہے کیونکہ اس کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے اور اس کی قیادت کو ناجائز مقدمات میں الجھایا دیا گیا ہے لیکن دریں حالات تحریک انصاف کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی دانش مندی کا راستہ ہے۔ مزاحمت کی بجائے مفاہمت کے ذریعے راستہ تلاش کرنا زیادہ بہتر لائحہ عمل رہے گا۔
احتجاج کرنا تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن ہیجان برپا کرنے والی سیاست سے گریز کرنا چاہئیے۔ احتجاج علامتی بھی ہو سکتا ہے اور جلسے جلوسوں کے ذریعے بھی عامتہ الناس اور مقتدر حلقوں تک اپنی بات پہنچائی جا سکتی ہے لیکن جلائو گھیرئو اور دھرنا سیاست سے اجتناب کرنے میں نہ صرف تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا بلکہ یہ پاکستان کے بھی بہترین مفاد میں ہے۔ تیسرا کام، یہ کرنے والا ہے کہ تحریک انصاف ایک قومی ایجنڈا سامنے لے کر آئے جس پر وہ ڈیفنس ایسٹیبلشمنٹ سمیت ہر سیاسی جماعت سے بات چیت کرنے پر تیار ہو۔ چوتھا کام، جو ترتیب میں اگرچہ پہلے لکھنا چاہئیے تھا یہ ہے کہ تحریک انصاف کو دوسری سیاسی جماعتوں کیساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے چاہئیں۔ قومی ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں کیساتھ مذاکرات میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ میثاق جمہوریت کی طرز پر ایک نئے ’’میثاق پاکستان‘‘ کے خدوخال طے کئے جائیں تا کہ پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے ہمیشہ کیلئے نجات کی کوئی صورت نکل سکے۔ پانچواں کام، بانی عمران خان کے کرنے والا ہے۔ انہیں چاہئیے کہ پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کی طرح اپنا کردار ادا کرنے دیں۔ وہ اپنی جماعت کی رہنمائی ضرور کریں اس کا انہیں پورا حق حاصل ہے لیکن پارٹی کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کی روش ترک کر دیں۔ ہر ایک بات اور حرکت کو کنٹرول کرنے سے پارٹی عضو معطل بن جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی آئین کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو کام کرنے دیا جائے تا کہ ادارہ جاتی مشاورت سے پارٹی کا سوچا سمجھا موقف سامنے آئے اور بہترین فیصلے ہوں۔ اس طرح جو حکمت عملی بنے گی اس میں توازن اور ٹھہراو ہو گا۔
فوجی ایسٹیبلشمنٹ کے کرنے والے کام ۔ پاکستانی عوام اپنی افواج سے بے پناہ پیار کرتے ہیں لہٰذا فوج کو سیاست سے عدم مداخلت کی راہ اختیار کرنی چاہئیے تا کہ وہ متنازعہ نہ بنے۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے اور یہ کہ اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے لیکن امر واقعہ ہے کہ فوج خود سے سیاست میں کردار ادا کرتی نظر آتی ہے جس کی وجہ سے تنقید ہوتی ہے۔ دوسرا کام، ڈیفنس ایسٹیبلشمنٹ اس تاثر کو دور کرے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کے خلاف بروئے کار آرہی ہے۔ اہل سیاست کو اپنا کام کرنے دیں، آپ کو بیچ میں پڑ کر پارٹی نہیں بننا چاہئیے۔ اگر آپ کو درمیان میں آنا بھی پڑے تو آپ کا کردار قومی ثالث کا ہونا چاہئیے ناں کہ ایک فریق کا۔ تیسرا کام، تحریک انصاف کی جانب سے مصالحتی پیشکش آنے کے بعد جو کام فوری طور پر کرنے والا ہے وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک اور پریس کانفرنس ہے۔ اس پریس بریفنگ میں انہیں اپنی رائے سے رجوع کرنا چاہئیے۔ پاکستان کے مقبول ترین رہنما عمران خان کو نیشنل سیکورٹی تھریٹ قرار دینے والے الفاظ انہیں واپس لینے چاہئیں۔ چوتھا کام، ڈیفنس ایسٹیبلشمنٹ کے کرنے والا چوتھا کام سیاسی استحکام کیلئے اپنی مدد فراہم کرنا ہے، وسیع تر قومی مفاد کے لئے اپنی ذاتی رنجش کو بھلا کر بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وطن عزیز سے نفرت کے ماحول کا خاتمہ ہو اور ملک آگے بڑھ سکے۔
حکومت کے کرنے والے کام۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر مشتمل حکومتی اتحاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا حل نکالے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت انہی مشکل حالات سے گذری ہے، انہیں پاکستان کی خاطر بڑے فیصلے کرنے چاہئیں۔ آج وہ موجودہ بندوبست کے بینی فشری ہیں لیکن انہیں سمجھنا چاہیے کہ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ صورتحال بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ احمد فراز کا یہ شعر حسب حال ہے۔
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
حکومتی اتحاد کو موجودہ صورتحال کا لطف لینے کی بجائے اپنا ذمہ دارانہ سیاسی کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب یہ دونوں جماعتیں زیر عتاب تھیں تو انہوں نے مستقبل کا لائحہ عمل میثاق جمہوریت کی صورت میں قوم کے سامنے رکھا تھا، اس دستاویز نے ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھا دیا تھا چنانچہ دونوں جماعتوں کو عوامی پذیرائی ملی اور انہوں یکے بعد دیگرے پاکستان کا اقتدار سنبھالا۔ آج ان جماعتوں کو پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی عصبیت کو تسلیم کر کہ اس کیساتھ مذاکرات کی راہ اپنانی چاہئیے۔ میثاق پاکستان ایک قومی ایجنڈا بن سکتا ہے۔ تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی عدم استحکام کا مستقل حل نکالنا چاہئے۔ سیاسی جماعتیں چور دروازے سے نہیں عوامی طاقت کے زور پر اقتدار میں آتی ہیں تو ان کا وزن اور زور قائم رہتا ہے ورنہ ان کی جو حالت ہوتی ہے وہ آج سب کے سامنے ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت تاریخ کی کمزور ترین جمہوری حکومت قرار دی جا سکتی ہے، ان کی حالت ضیا مارشل لا کے تحت قائم ہونے والی جونیجو حکومت سے بھی ایک درجے نیچے لگ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اتنی گری پڑی جماعتیں نہیں ہیں کہ وہ ایسٹیبلشمنٹ کے سہارے سے محروم ہو کر تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ دونوں جماعتوں ایسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کا سہارا نہ بھی لیں تو وہ سیاسی میدان میں تحریک انصاف کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی پر انحصار کرنے اور اپنا مضبوط بیانیہ بنانے کی بجائے ایسٹیبلشمنٹ کیساتھ گٹھ جوڑ رکھنے میں اپنی بقا سمجھتی ہیں جو سیاسی طور پر ایک فاش غلطی ہوتی ہے جس کا خمیازہ سیاسی جماعتوں کو وقت آنے پر بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں