فیض احمد فیض کی زندگی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جو جبر، مزاحمت، صداقت اور انسان دوستی سے بھرا ہوا ہے وہ شاعر جن کے لفظ نرم مگر اُن میں زمانے کے طوفانوں سے ٹکرانے کی قوت تھی ان کی زندگی کو محض شاعری تک محدود نہیں کیا جاسکتا وہ بیک وقت صحافی، استاد، فوجی افسر، انقلابی مفکر، ادبی شخصیت اور سب سے بڑھ کر عوامی حقوق کے بڑے محافظ تھے۔ جب پاکستان اپنے ابتدائی دور میں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ رہا تھا اور ریاست ہر اُس سوچ سے خوفزدہ تھی جو طاقت کے غیر منصفانہ ڈھانچے کو چیلنج کرتی تھی۔ فیض اسی خوف کی زد میں آئے، اسی لیے ان پر مقدمے بنے، جیلیں کاٹی گئیں اور سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ریاستی جبر کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کے طاقت کے مراکز کو یہ احساس ہوا کہ فیض کے خیالات محض ادبی نہیں، سیاسی بھی ہیں۔ ان کا جھکاؤ ترقی پسند تحریک کی جانب تھا جو مزدور، کسان، محروم طبقات اور عام انسان کے حقوق کی بات کرتی تھی۔ ان کی شاعری میں انقلاب کی نرمی تھی، احتجاج کی خوبصورتی تھی اور ناانصافی کے خلاف ایک دلگیر مگر پُرعزم لہجہ تھا۔ ریاست کو اس نرمی سے خوف تھا، کیونکہ نرم لہجے اکثر سخت سچ بولتے ہیں۔ فیض غداری کے الزام کا سامنا کرنے لگے، حالانکہ ان کی نیت وطن دشمنی نہیں، بلکہ وطن کو بہتر بنانے کی خواہش تھی۔
1951 میں انہیں راولپنڈی سازش کیس کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے مشہور اور متنازعہ مقدمہ تھا۔ فیض پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے اور ان کی قربت کچھ ایسے فوجی افسروں سے تھی جو حکومت کے طرزِ عمل سے ناخوش تھے۔ ریاست نے اس اختلاف کو سازش کا رنگ دے کر ایک عظیم ادیب اور شاعر کو تختۂ ستم پر کھڑا کر دیا۔ فیض پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سازش کی، لیکن بعد کے برسوں میں یہ بات واضح ہوگئی کہ مقدمہ زیادہ سیاسی تھا، کم قانونی۔ الزام ثابت نہ ہو سکے، مگر تب تک فیض کی زندگی کے چار برس جیل میں گزر چکے تھے۔
جیل ان کے لیے جسمانی اذیت کا مقام نہیں تھی، لیکن ذہنی اذیت کا گڑھ ضرور تھی تنہائی، گھر والوں سے دوری، سخت نگرانی اور غیر منصفانہ قید نے انہیں آزمایا مگر وہ ٹوٹے نہیں انہوں نے اسی قید میں زندان نامہ جیسی لازوال شاعری لکھی، جو آج بھی سیاسی قیدیوں کی دل جوئی کرتی ہے فیض نے اپنے دکھ کو احتجاج نہیں، روشنی میں بدل دیا۔ قید کے باوجود ان کا لہجہ ٹوٹا نہیں، بلکہ اور مضبوط ہوگیا۔ بعد میں جب انہیں رہائی ملی تو دنیا نے دیکھا کہ فیض کا لفظ مزید روشن ہو چکا ہے۔
ایوب خان کے مارشل لاء کے دور میں اگرچہ فیض کو دوبارہ جیل نہیں بھیجا گیا، لیکن اُن پر نرم مگر مسلسل جبر جاری رہا۔ ان کی تحریروں پر سنسر شپ لگتی رہی، ان کے لیکچر، تقریبات اور اشاعتی منصوبوں پر روک لگا دی جاتی ایک ایسا انسان جس نے پاکستان کے لیے سوچا، لکھا، جیا، اسے اپنے ہی وطن میں غیر ضروری اور مشکوک قرار دیا جاتا رہا۔ یہی وہ وقت تھا جب وہ ملک سے باہر ملازمت کرنے پر مجبور ہوئے۔ لبنان، لندن اور پھر واپس پاکستان۔ فیض اپنے وطن سے جدا ضرور ہوتے رہے، مگر وطن ان کے دل سے کبھی جدا نہیں ہوا۔
1977میں جب ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو حالات ایک بار پھر سخت ہو گئے۔ اس بار بھی فیض پر مقدمات نہیں بنے، لیکن ان کی تقریبات منسوخ کی گئیں، ان کی شاعری پر دباؤ ڈالا گیا، انہیں حکومتی محافل سے باہر رکھا جاتا رہا۔ ملک کے ماحول میں ایسا خوف تھا کہ ہر بائیں بازو کی سوچ رکھنے والا شخص قابلِ شبہ سمجھا جاتا۔ فیض کی پوزیشن اس فضا میں اور نازک ہو گئی۔ وہ کچھ عرصہ دوبارہ بیرون ملک گئے، مگر یہ جلاوطنی بھی ان کے لیے نئی نہیں تھی فیض جہاں جاتے اپنے وطن کو ساتھ لے جاتے۔
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کیا فیض غدار تھے؟
ان پر غداری کا الزام کیوں لگایا گیا؟
سچ یہ ہے کہ ریاست نے انہیں غدار اس لیے سمجھا کیونکہ وہ ’’اطاعت‘‘ والے نہیں تھے، وہ سوال اٹھاتے تھے۔ ان کی شاعری ہر اس قوت کے خلاف تھی جو انسان کے حقِ زندگی کو دباتی ہے انہوں نے استحصال، آمریت اور ناانصافی کے خلاف کھل کر لکھا۔ ایسے میں وہ ریاستوں کے لیے آسان شہری نہیں تھے۔ مگر تاریخ نے فیصلہ دے دیا کہ فیض غدار نہیں تھے انسانیت کے وفادار، اپنی دھرتی اپنے لفظ اور اپنے نظریے کے وفادار۔
1984 میں یہ عظیم شاعر لاہور میں دنیا سے رخصت ہوا۔ وفات سے پہلے بھی وہ بیماری اور بڑھتی عمر کے باوجود ادبی، سیاسی اور انسانی حوالے سے سرگرم رہے۔ ان کے چاہنے والوں نے انہیں رخصت کیا، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے ان کا اثر آج بھی قائم ہے۔ فیض مر نہیں سکتے، کیونکہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا لفظ کبھی نہیں مرتا۔
فیض کی شخصیت نے ہمیں سکھایا کہ سچ اگر نرمی سے بھی کہا جائے، پھر بھی طاقتور کو چبھتا ہے۔ انہوں نے مزاحمت کو غصے کے بجائے خوبصورتی میں ڈھالا، اور اسی لیے ان کا اثر آج بھی کم نہیں ہوا۔ ان پر ہونے والا ریاستی جبر ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ وہ کتنے بڑے شاعر تھے، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایک غیر منصفانہ ریاست اپنے ہی سچ بولنے والوں سے کتنا خوف کھاتی ہے۔
فیض پر ہونے والے اس ریاستی جبر کے ساتھ ایک عجیب اور قابلِ افسوس منظرنامہ یہ بھی تھا کہ اُس دور کے کچھ نام نہاد صحافی اور قلم کار سرکاری بیانیے کے علمبردار بن کر سامنے آئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے ضمیر کی قیمت پر حکومتوں کے دفاع میں لکھتے رہے، مقدموں کو سازش قرار دینے کے بجائے خود فیض کو سازشی بنا کر پیش کرتے رہے۔ اُن کے کالموں اور سرکاری اخبارات میں چھپنے والی عبارتیں آج بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اقتدار کے قریب رہنے والا قلم حق کی بجائے حکم کے تابع ہو جاتا ہے۔
جب فیض جیل کی تنہائی میں اشعار کا خونِ دل سے چراغ جلا رہے تھے، اس وقت کچھ صحافی ٹی وی اسکرینوں، ریڈیو نشریات اور اخبارات میں تختِ اقتدار کے گیت گا رہے تھے۔ ان کی تحریریں انصاف کا ساتھ دینے کے بجائے طاقتوروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تھیں۔ مراعات، پلاٹ، عہدے اور حکومتی نوازشیں حاصل کرنے کے لیے انہوں نے فیض جیسے سچ بولنے والوں کو مشکوک، خطرناک اور ’’غیر ذمہ دار‘‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
تاریخ مگر عجیب فیصلہ کرتی ہے۔ آج فیض احمد فیض کے چاہنے والے کروڑوں میں ہیں۔ ان کا ہر شعر نئی نسل کے دل میں روشنی بن کر اترتا ہے۔ ان کے نام پر ادبی ادارے، ایوارڈز، سمپوزیم اور دنیا بھر میں کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ دوسری طرف وہ چاپلوس صحافتی کردار جنہوں نے سرکاری فائلوں کا لفظ لفظ دہرا کر خود کو طاقتور سمجھا تھا آج گمنامی کی دھول میں کھو چکے ہیں۔ نہ ان کی تحریریں یاد ہیں، نہ ان کا کردار۔ ان کا ذکر آج صرف مثالِ عبرت کے طور پر ہوتا ہے کہ کیسے ریاستی جبر کے ساتھ چلنے والے قلم وقتی طاقت تو حاصل کر لیتے ہیں مگر تاریخ کے صفحات میں جگہ نہیں پاتے۔
وقت نے فیصلہ دے دیا کہ سچ کے لیے قید کاٹنے والے شاعر کو عزت ملتی ہے، اور مراعات کے لیے قلم بیچنے والے، جتنے بھی طاقتور کے قریب ہوں، آخرکار تنہا رہ جاتے ہیں۔ فیض کا مقدمہ صرف ایک شاعر کا مقدمہ نہیں تھا، یہ سچ اور چاپلوسی کے درمیان وہ لکیر تھی جو آج بھی واضح ہے اور ہمیشہ رہے گی
کالم کے آخر میں فیض کے چند انقلابی اور مزاحمتی اشعار شامل ہیں، وہ اشعار جو آج بھی ظلم کے خلاف ہر دل میں چراغ بن کر جلتے ہیں.
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
نکلے تو دل میں ایک ہی صورت بسی رہی
ظلمت کدے میں عشق کا چرچا کیے بغیر
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو کر قلم بنا لوں گا