Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

گرد میں لپٹا ہوا وجودِ بشر

شہروں کی چمکتی روشنیوں، بڑھتی آبادیوں، لمبی اونچی عمارتوں، تیز رفتار سڑکوں اور صنعتوں کی قطاروں نے بظاہر ایک ترقی یافتہ منظر پیش کیا ہے مگر اسی منظر کے پس منظر میں ایک گہری دھند، ایک سیاہ پردہ، ایک مریضانہ بھاری پن چھپا ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں کسی نہ کسی بیماری کے قریب دھکیل دیتا ہے۔ یہ فضا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، محض ہوا نہیں بلکہ ہمارے رویوں، ہماری پالیسیوں، ہماری ترجیحات اور ہماری غفلتوں کا مجموعہ ہے اور جب یہ فضا آلودہ ہو جاتی ہے تو حقیقت میں وہ ہمیں ہماری اجتماعی ناکامی کا آئینہ دکھا رہی ہوتی ہے۔ انہی حالات کے تناظر میں جب مریم نواز یہ کہتی ہیں کہفضائی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لئے ابھی بہت کام باقی ہے، عوام کو ساتھ دینا ہوگا، تو یہ محض ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ اس گہرے مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش ہے جس کی جڑیں ہمارے نظام، ہمارے معاشرے اور ہمارے رویوں میں پیوست ہوچکی ہیں۔سموگ صرف ایک موسمی آفت نہیں، یہ ایک سماجی رویے کا نام ہے جو پورا سال جاری رہتا ہے اور سردیوں میں دھند کے ساتھ مل کر اپنی بھیانک شکل دکھاتا ہے۔اگر ہم لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کراچی یا ملک کے دیگر شہروں میں بدلتی ہوئی فضا کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں کے انجنوں سے اگلتا ہوا زہریلا اخراج، کھیتوں میں جلائی جانے والی باقیات، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، درختوں کے بغیر سڑکیں، کنکریٹ کا پھیلا، آلودہ ایندھن، ناقص میٹریل سے چلنے والی فیکٹریاں، غیر معیاری پیٹرول، کوڑا جلانے کا غیر سائنسی رواج یہ سب وہ عوامل ہیں جو ہماری فضا کو ہر روز ایک نئے زہر سے بھر رہے ہیں۔۔فضا کی آلودگی کے خلاف جنگ دراصل ایک ذہنیت کے خلاف جنگ ہے اور ذہنیت صرف قانون سے نہیں بلکہ شعور سے بدلتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ہر کوشش، ہر منصوبہ، ہر پالیسی تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب عوام اپنی ذاتی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ شہر صاف ہوں، مگر ہم خود کوڑے دان کے چند قدم قریب ہو نے کے باوجود اس کا استعمال نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فضا شفاف ہو مگر ہم ضرورت اور سہولت کے بغیر بھی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے صحت مند ہوں مگر ہم انہیں ایسی ہی فضا میں سانس لینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ان کے ننھے پھیپھڑوں کے لئے زہر ہے۔ دراصل یہ پورا مسئلہ ایک ذہنی رویے کا آئینہ ہے جو سہولت پر قربانی کو ترجیح دیتا ہے اور جب قومیں قربانی دینے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں تو وہ اپنے ماحول کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہیں۔ سموگ ہمیں کچھ بتانا چاہتی ہے۔ یہ ہمیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین کو توڑا ہے اور اب فطرت جواب میں اپنا حساب ہم سے لے رہی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ درخت محض منظر کا حصہ نہیں بلکہ فضا کی سانس ہیں۔دنیا کے کئی ممالک جن کی آبادی ہماری طرح بڑی، شہر ہماری طرح مصروف، صنعتیں ہماری طرح وسیع ہیں،انہوں نے بھی اسی مسئلے کا سامنا کیا۔ مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے کیے۔عوام نے تبدیلی قبول کی۔پالیسیوں میں تسلسل رہااور قانون پر عمل درآمد میں نرمی نہیں برتی گئی۔ ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا، چاہے وہ بھٹوں کی جدید ٹیکنالوجی ہو، گاڑیوں کے ایندھن کے معیار میں بہتری ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ ہو، صنعتی زہریلے اخراج کی نگرانی ہو، یا کوڑے کرکٹ کے جلا پر سخت پابندی۔یہ سب کوئی یک طرفہ اقدامات نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی شراکت سے ہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔اس وقت ملک کی معیشت بھی سموگ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، کیونکہ ہر سال جب سموگ بڑھتی ہے تو اسکول بند ہوتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں، پروازیں منسوخ ہوتی ہیں، صحت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور معاشرہ بیمار ہونے لگتا ہے۔ فضائی آلودگی کسی ایک شعبے کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا مسئلہ ہے۔یہ ہمارے مستقبل، ہماری معیشت، ہماری صحت، ہماری تعلیم، ہمارے روزگار اور ہماری زندگی کے ہر پہلو کو چھوتی ہے۔ کیا ہم اتنے بڑے مسئلے کو محض چند موسمی فیصلوں سے شکست دے سکتے ہیں؟ یقینا نہیں، کیونکہ جیسے مسئلہ دیرپا ہے، اس کا حل بھی دیرپا حکمت عملی ہی سے ممکن ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اصل تبدیلی رویوں کی تبدیلی ہے۔ ہمیں بچوں کو اسکولوں میں ماحولیات کی تعلیم دینا ہوگی، سڑکوں پر درخت لگانے ہوں گے،شہری منصوبہ بندی میں فضا کا معیار بنیادی شرط بنانا ہوگا، میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، مذہبی خطبوں میں بھی ماحول کی اہمیت پر بات ہونی چاہئے اور سب سے بڑھ کر حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرنی ہوگی۔ دنیا بھر میں جب بھی کوئی ماحولیات کے حوالے سے کامیاب ہوا ہے تو اس کے پیچھے ایک ہی راز چھپا ہے؛قانون کی پابندی اور عوام کی شمولیت۔ہمیں بھی اسی فارمولے پر چلنا ہوگا۔ سموگ کسی سرحد کو نہیں دیکھتی، نہ کسی زبان یا صوبے کو، یہ پورے معاشرے کے اجتماعی رویے کو سزا دیتی ہے۔ہم اگر واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ آج اگرہم یہ فیصلہ کرلیں کہ ہم نے اپنے بچوں کے لئے ایک بہتر پاکستان چھوڑنا ہے تو یقین مانیے ہم اس دھند سے نکل سکتے ہیں، یہ کام صرف حکومت کا نہیں ، ہم سب کا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

یہ بھی پڑھیں