Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سدا دن ایک سے نہیں رہتے

سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت ہے۔ایک طوفان بدتمیزی ہے جو عرصے سے سیاست کے ایوانوں میں بپا ہے۔پی ٹی آئی کیا چاہتی ہے؟ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔اڈیالہ میں بیٹھا ایک شخص (بانی پی ٹی آئی) ڈھٹائی سے ضد اور انا کا قیدی بھی بنا ہوا ہے۔نہیں لگتا فوجداری مقدمات سے جلد یا بدیر اُن کی جان چھوٹ جائے گی اور اڈیالہ سے رہائی ممکن ہو گی۔کبھی بھی بیجا ضد،ہٹ دھرمی اور جھوٹی ”انا“ خیر کا باعث نہیں بنتی۔بانی نیلسن منڈیلا بننا چاہتے ہیں لیکن نہیں بن سکتے کہ اُن کی جیل یاترا کسی بڑے کاز کے لیئے نہیں بلکہ کریمنل مقدمات کے سلسلے میں ہے۔ایک بات ضرور ہے دو سال سے زائد عرصہ جیل کاٹنے کے باوجود اُن کے پائے استقلال میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی۔بانی مضطرب ضرور ہیں،بقول بہن عظمٰی خان جیل کی بیرک میں وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔قید تنہائی نے اُن کی ذہنی صحت کو بہت متاثر کیا ہےلیکن شاید اُن کے لیئے کوئی بہتر حل نکل آئے اگر حکومت کے ساتھ بیٹھ جائیں اور کچھ بات چیت کریں۔گفت و شنید سے ہی راستے نکلتے ہیں اور کامیابیاں ملتی ہیں۔تاریخ بتاتی ہے جس نے بھی ضد کی،ہٹ دھرمی اور ”انا“ نہیں چھوڑی گویا اُس نے مشکلات اور مصیبتوں بھرے راستے چن لیئے۔پی ٹی آئی میں دوسرے درجے کی قیادت اور سپورٹرز بانی کو ملک کا ”بڑا لیڈر“ مانتے ہیں لیکن میرے نزدیک بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکلوں میں بہتری کے راستے نکالے۔بات چیت کے دروازے بند کر دیئے جائیں تو نقصان اپنا ہی ہوتا ہے۔بانی صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ بانی سے ”گفتگو“ کے لیئے آمادہ نہیں۔جس بھنور میں پی ٹی آئی پھنس چکی ہے اُس سے نکلنا اب اُس کے لیئے مشکل ہی نہیں،ناممکن بھی ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دو واضح دھڑے بن چکے ہیں۔ایک دھڑا متحارب سیاسی جماعتوں بشمول حکومت سے بات چیت کے حق میں ہے،جماعت کے اندر ہونے والی میٹنگز میں اس کا اظہار بھی ہو رہا ہے جبکہ دوسرا دھڑا،جو اکثریت میں نہیں،شدت پسندی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔بڑی اعصابی جنگ ہے جو پی ٹی آئی کی صفوں میں اس وقت جاری ہے جس سے ممکنہ طور پر اچھے نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری اپنی حالیہ ایک میڈیا ٹاک میں بانی پی ٹی آئی کو ”ذہنی مریض“ قرار دے چکے ہیں۔بانی کیا واقعی ”ذہنی مریض“ ہیں تو اس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اور وکلاء کہیں ”ذہنی مریض“ کے اس ”ٹیگ“ کے ساتھ کورٹ نہ پہنچ جائیں۔آئین و قانون کے مطابق کوئی قیدی ذہنی مریض ڈکلیئر ہو جائے تو اُسے ”بیل“ کا آئینی حق حاصل ہو جاتا ہے۔تاہم پی ٹی آئی وکلاء کے لیئے یہ بڑے دل گردے کا کام ہو گا کہ ایسی کوئی عرضی کورٹ کے سامنے رکھیں،کورٹ سے ”بیل“ کی درخواست کریں۔اگر ایسی کوئی درخواست کورٹ کے سامنے آتی ہے تو کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ ” ذہنی مرض“ کی نوعیت جانچنے کے لیئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم دے۔اس کی رپورٹ پر فیصلہ کرے کہ بانی کی مینٹلی ہیلتھ کیسی ہے؟ وہ ٹھیک نہیں،تو ضمانت کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔آئین ہمیشہ مینٹلی ہیلتھ سے متاثرہ شخص کو بیل (ضمانت) کا حق دیتا ہے۔ایسی صورت حال میں یہ اہم سوال پیدا ہو گا کہ آیا ایک ذہنی مریض سیاست بھی کر سکتا ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ”ذہنی مریض“ والے بیان پر پی ٹی آئی نے اپنا کوئی خاص ردعمل نہیں دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بانی ”ذہنی مریض“ نہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا،پی ٹی آئی قیادت بانی کے طبی معائنے کے حوالے سے خود کوئی اعلان کرتی۔معاملہ صاف ہو جاتا،میڈیا میں جو ”بحث“ جاری ہے اُس سے سب کی جان چھوٹ جاتی۔اب ہم افواہوں پر آتے ہیں۔کچھ لوگ ہر طرح کی جھوٹی افواہیں پھیلانے کے ماہر ہوتے ہیں۔افواہ سازوں نے پچھلے دنوں تواتر سے یہ بات پھیلائی کہ خدانخواستہ بانی جیل میں انتقال کر گئے ہیں اور اُن کی نعش بھی کہیں چھپا دی گئی ہے۔اس حوالے سے بیرون ملک بیٹھے کچھ وی لاگرز نے بھی جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کر دئیے۔وہ جوکچھ کہتے رہے،بالکل بھی سچ نہیں تھا۔جھوٹ،جھوٹ ہی ہوتا ہے۔بالآخر بہن عظمی خاں نے اجازت ملنے پر اڈیالہ میں بانی سے ملاقات کی تو ڈیڑھ گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد باہر آ کر میڈیا اور پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ بانی بالکل ٹھیک ہیں اُن کی صحت بھی اچھی ہے۔یوں بیماری،ہلاکت یا جیل سے منتقلی کی ساری خبریں جھوٹ نکلیں جس کے بعد بہت سے لوگوں کو صبر آگیا۔سب کو یقین ہو گیا کہ بانی کے متعلق جو کہا جا رہا ہے،مطلق بھی سچ نہیں۔جھوٹ میں لپٹا ہوا وہ ایسا میڈیائی مصالحہ تھا جو آسانی سے بیچا جا رہا تھا۔لگتا ہے اب سب کو ٹھنڈ پڑ گئی ہو گی۔دوبارہ وہ اب کوئی ایسا جھوٹ نہیں بولیں گے۔اس سارے تناظر میں پی ٹی آئی کی سیاست جس طرف جا رہی ہے یا بانی جسے،جس طرف لے جانے پر تلے ہوئے ہیں۔اُس سے پی ٹی آئی کے لوگوں کی اکثریت متفق نہیں۔پی ٹی آئی کی منفی طرزِ سیاست نے ہی اُسے یہ دن دکھائے ہیں۔حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی اپنی وہ تمام سیٹیں ہار گئی ہے جو اُس نے گزشتہ عام انتخابات میں جیتی تھیں۔ہری پور والی سیٹ پر عمر ایوب کی اہلیہ کا ہارنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے۔خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کا گڑھ ہے جہاں اُن کی اپنی صوبائی حکومت ہے۔عمر ایوب اس حلقے سے کبھی نہیں ہارے۔لیکن نااہل ہونے کے بعد اُن کی اہلیہ ناز عمر ایوب کی ہار نے یہ بگل بجا دیا ہے کہ پی ٹی آئی میں اب وہ پہلے والا دم خم نہیں رہا جس کی وہ کبھی دعویدار تھی۔سدا دن ایک سے نہیں رہتے۔ہر ایک کے عروج و زوال کی کہانی شروع سے یونہی چلی آرہی ہے۔اب بھی شاید وقت ہے پی ٹی آئی اور اس کی لیڈر شپ وقت سے کچھ ”سبق“ سیکھے۔ورنہ وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔پی ٹی آئی اپنی سیاست اور طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہ لائی اور کسی زعم میں مبتلا رہی تو انجام کچھ اچھا نہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں