بانی چیئرمین تحریک انصاف کے نامزد کردہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی جانب سے چند روز قبل ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں تحریک انصاف کے آئین پر نظر ثانی کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام اس لئے اٹھایا جا رہا ہے تا کہ الیکشن کمیشن کیلئے قابل قبول انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ واضح رہے کہ 2022 ء سے 2024 ء تک الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے تین انٹرا پارٹی الیکشنز کو مسترد کر چکا ہے۔ مارچ 2024 ء میں جو آخری انٹرا پارٹی الیکشنز ہوئے انہیں بھی الیکشن کمیشن نے تاحال تسلیم نہیں کیا اور یہ کیس آج تک الیکشن کمیشن میں موخر پڑا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشنز سے آخر کیا مسئلہ ہے؟ گذشتہ تین سالوں میں تحریک انصاف نے جب بھی انتخابات کروائے الیکشن کمیشن نے انہیں مسترد کردیا۔ تحریک انصاف نے 22 جون 2022 ء کو عمران خان کی موجودگی میں انٹرا پارٹی الیکشنز کروائے۔ ان انتخابات کیلئے پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی اور نیشنل کونسل کے اراکین کو اختیار دیا گیا کہ وہ شو آف ہینڈ کے ذریعے پارٹی قیادت منتخب کریں۔ ان انتخابات میں عمران خان کا پینل بلا مقابلہ منتخب ہو گیا۔ جماعتی انتخابات کا یہ وہ پیٹرن ہے جسے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں فالو کرتی ہیں اور الیکشن کمیشن ان انتخابات کو تسلیم کر لیتا ہے۔
ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ الیکشن کمیشن نے کسی پارٹی کا آئین کھنگالا ہو اور اس کی روشنی میں انٹرا پارٹی الیکشن میں مین میخ نکالی ہو لیکن تحریک انصاف کے کیس میں یہ سب دیکھنے کو ملا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تفصیلات اور دستاویزات طلب کیں، سوال و جواب کا یہ سلسلہ پندرہ سولہ ماہ تک چلتا رہا، 5 اگست 2023 ء کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن نے باقاعدہ تحریک انصاف کے جماعتی انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا اور 23 نومبر 2023 ء کو اس پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اس فیصلے میں انٹرا پارٹی الیکشنز کو مسترد کر دیا گیا، تحریک انصاف کو کہا گیا کہ اگلے 20دن کے اندر اپنے انتخابات کروائے بصورت دیگر اسے انتخابی نشان سے محروم کر دیا جائے گا ۔ یہ سب ڈھکوسلا تھا۔ جن وجوہات کی بنا پر تحریک انصاف کے پارٹی الیکشنز مسترد کئے گئے تھے وہ کسی صورت ختم نہیں کی جا سکتی تھیں لیکن آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر اور دنیا کو دکھانے کیلئے الیکشن کمیشن نے یہ سب کچھ کیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں 2 دسمبر 2023 ء کو تحریک انصاف نے پھر انٹرا پارٹی الیکشنز منعقد کروائے۔ یہ پارٹی الیکشنز بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے معیار پر پورا نہیں اترے۔ جن حالات میں ان انتخابات کا انعقاد ہوا ان میں خانہ پری ہی ہو سکتی تھی لیکن الیکشن کمیشن ڈٹ گیا کہ ہر لحاظ سے اور ہر زاویے سے یہ انٹرا پارٹی الیکشنز ایسے ہوں کہ پاکستان تو پاکستان دنیا کی بہترین جمہوری ممالک بھی ایسے جماعتی انتخابات پر رشک کریں اور یہ الیکشنز تمام دنیا کیلئے ایک مثال بن جائیں۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہو سکتا تھا لہٰذا الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو بھی نہ مانا اور تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں پر مشکل ادوار آتے ہیں لیکن جن سخت حالات اور آزمائش کا سامنا تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو کرنا پڑا ہے اسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
تحریک انصاف کو 2022 ء سے ریاستی جبر کا سامنا تھا مگر اصل مار الیکشن کمیشن سے پڑی جس کے فیصلے نے تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا۔ اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، کورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں دیا۔ الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف عدالت عظمی پہنچ گیا، قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ سنایا اور یوں تحریک انصاف نے 2024 ء کے انتخابات میں اس طرح حصہ لیا کہ اس کے امیدوارں کے پاس پارٹی کا انتخابی نشان نہ تھا۔ یہ صورتحال کسی جماعت کیلئے سیاسی موت کے مترادف تھی لیکن تحریک انصاف بچ نکلی۔ 2024ء کے عام انتخابات کے نتائج پاکستان میں نرم انقلاب کی نوید ثابت ہوئے لیکن قوم کی جانب سے دئیے جانے والے اس مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا۔ الیکشن کے بعد تحریک انصاف نے 3 مارچ 2024 ء کو ایک بار پھر اس امید پر جماعتی انتخابات کا انعقاد کروایا کہ ہو سکتا ہے کہ اس بار یہ الیکشن کمیشن کیلئے قابل قبول بن جائیں۔ اس الیکشن میں کوشش کی گئی کہ ممکنہ حد تک تمام پروسیجر کو فالو کیا جائے۔ الیکشن میں مرکز اور تین صوبوں میں عمران خان کے نامزد پینل بلامقابلہ انتخاب جیت گئے جبکہ بلوچستان میں دو پینلز کا مقابلہ ہوا اور مرکز کی جانب سے نامزد کئے جانے والا پینل الیکشن ہار گیا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس انٹرا پارٹی الیکشن کو بھی آج تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن اس کی جو وجوہات بیان کرتا ہے وہ قانونی و آئینی موشگافیوں میں الجھی ہوئی ہیں۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کبھی کسی اور جماعت کے انتخابات میں یوں رخنہ اندازی نہیں کی ہے، سیاسی جماعتوں نے جیسے تیسے الیکشن کروائے الیکشن کمیشن نے زیادہ باز پرس نہ کی اور نہ اسے تفصیلات اور جزئیات سے سروکار رہا، اس نے ہمیشہ اپنی فائل کا پیٹ بھرا اور بس، لیکن تحریک انصاف کے کیس میں معاملہ آئینی و قانونی پیچیدگیوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا استدلال ہے کہ تحریک انصاف اپنے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروا رہی۔ تحریک انصاف یہ الیکشن کیسے کروائے؟ آپ نے اپنے فیصلے میں تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو جب مردہ ڈکلئیر کر دیا ہے تو آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے؟ آپ تحریک انصاف کے آئین کو مانتے ہیں لیکن کسی عہدیدار کو نہیں مانتے۔ ایک قومی ادارہ ہوتے ہوئے آپ کو رہنمائی کرنا چاہئیے تھی کہ تحریک انصاف اس پیچیدہ صورتحال سے، جو آپ کے 23 نومبر 2023 کے فیصلے کی وجہ سے پیدا ہوئی، باہر کیسے نکلے۔ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا ریگولیٹری ادارہ ہے، آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ اس کو جو اختیارات تفویض کرتا ہے ان کا تقاضا ہے کہ وہ اس طرح کی صورتحال اول تو پیدا ہی نہ ہونے دے، اور اگر ہو جائے تو اس کا حل نکالے۔ الیکشن کمیشن حل کی طرف نہیں آرہا بلکہ مسئلہ کو دن بدن اور الجھا رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نئے آئین کی ایکسرسائز کر بھی لیں تو وہ الیکشن کمیشن کیلئے ناقابل قبول ہی رہے گی۔ البتہ پارٹی قیادت اگر وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی درخواست کرے تو اس طرح شاید کوئی حل نکل آئے۔ میرے خیال میں تحریک انصاف کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔ دوسرا راستہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی طرز پر ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا ہے جو ‘تحریک انصاف پاکستان’ یا کسی اور نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروا کر وقتی طور پر کام چلایا جائے۔
الیکشن کمیشن کے 23 نومبر 2023 ء کے فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف کے موجودہ آئین کے تحت پارٹی انتخابات کا انعقاد عملًا ناممکن ہے الا یہ کہ الیکشن کمیشن یا وفاقی آئینی عدالت اس کا کوئی حل نکالے۔ اس آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشنز کیلئے پارٹی کے فیڈرل الیکشن کمیشن کا تقرر ہونا ہے جو ای سی پی کے فیصلے کے بعد ہونا ممکن نہیں ہے۔ جب پارٹی کے آئینی سیکرٹری جنرل، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشنل کونسل کا وجود ہی نہیں ہے تو پارٹی کا الیکشن کمیشن قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ جب الیکشن کمیشن نہیں ہو گا تو انٹرا پارٹی الیکشنز کیسے ہو سکیں گے؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نومبر 2023 ء کے اپنے فیصلے میں اسی کو جواز بنا کر تحریک انصاف کا پارٹی الیکشن مسترد کر دیا تھا۔ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا تحریک انصاف میں پارٹی الیکشن نہیں ہو سکتے، یہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہے جس کے سنگین مضمرات سامنے آرہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ ایسا ہے جیسے کسی شخص کے ہاتھ پائوں باندھ کر اسے بیچ سمندر یہ کہہ کر چھوڑ دیا ہے کہ بیٹا اب بچ کر دکھائو۔