Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

گورننس کی روشنی میں فطرت کا دفاع

اکیسیویں صدی میں حکمرانی محض اقتدار سنبھالنے یا ریاستی نظام چلانے کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک کسوٹی بن چکی ہے جس پر ریاستوں کی سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ داری کو پرکھا جاتا ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ کسی ملک کے پاس کتنے وسائل ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ان وسائل کو کس حکمت، شفافیت اور دوراندیشی سے استعمال کرتا ہے۔جدید دنیا میں وہی ریاستیں معتبر سمجھی جاتی ہیں جو عوامی فلاح ، ادارہ جاتی مضبوطی اورمستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں کیونکہ ناقص فیصلوں کی قیمت صرف حال نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں ۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں گورننس محض انتظامی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ قومی بقا کا پیمانہ بن جاتی ہے ۔جب گورننس مضبوط ہو تو ریاست پیچیدہ مسائل کو سنبھال لیتی ہے اور جب یہی کمزور پڑ جائے تو چھوٹے مسائل بھی بحران بن جاتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی گورننس کا ایک خاموش مگر نہایت اہم امتحان ماحولیاتی نظم و نسق میں سامنے آتا ہے، جہاں غلط فیصلوں کی قیمت نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ہمارے ہاں عموماً گورننس کو صرف سیاسی استحکام، معیشت یا قانون و امن کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا دائرہ ان تمام پہلوؤں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ تعلیم، صحت، شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور توانائی یہ سب اسی کے کے مختلف رخ ہیں اور ان سب کا ایک مشترکہ نقطہ ماحولیات ہے۔ جب ریاست تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں کرتی تو ماحولیاتی شعور جنم نہیں لیتا، جب صحت کے نظام پر توجہ کم ہوتی ہے تو آلودگی سے جنم لینے والی بیماریاں قومی بوجھ بن جاتی ہیںاور جب شہری منصوبہ بندی ناقص ہو تو وہی شہر ماحولیاتی آلودگی کے مرکز بن جاتے ہیں۔ یوں ماحولیاتی آلودگی کسی ایک شعبے کی ناکامی نہیں بلکہ مجموعی گورننس کی کمزوری کا اظہار ہوتی ہے۔اگر ہم موجودہ دور کے بڑے مسائل کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب کی جڑ میں کہیں نہ کہیں گورننس کا فقدان موجود ہے۔ آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، دیہی سے شہری ہجرت، بغیر منصوبہ بندی تعمیرات، ٹریفک کا بے قابو نظام، صنعتوں کا ضابطے کے بغیر پھیلاؤیہ سب وہ عوامل ہیں جنہیں بہتر حکمرانی کے ذریعے منظم کیا جا سکتا تھا۔ مگر جب فیصلے عارضی مفادات، سیاسی دباؤ اور وقتی فائدے کی بنیاد پر کیے جائیں تو نتیجہ ایک ایسے ماحول کی صورت میں نکلتا ہے جو نہ انسان کے لیے محفوظ رہتا ہے اور نہ ہی فطرت کے لیے قابلِ بردداشت۔یہی وہ مقام ہے جہاں گورننس اور ماحولیاتی آلودگی ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ فضائی آلودگی کو ہی دیکھا جائے تو یہ محض گاڑیوں یا فیکٹریوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ پالیسی، صنعتی نگرانی، توانائی کے ذرائع اور شہری نظم و نسق کا مشترکہ نتیجہ ہے۔آبی بحران بھی اسی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ پانی کی کمی اور پانی کی آلودگی کو عموماً قدرتی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ زیادہ تر انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لئے پانی کے تحفظ ، ذخیرہ اندوزی کے منصوبوں ، واٹر ٹریٹمنٹ سسٹمز ، صاف پانی کی فراہمی اور پانی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق پالیسی اقدامات پر کام شروع کیا ہے۔زمین کی آلودگی اور کچرے کا بحران بھی کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ برسوں کی بدانتظامی، ناقص بلدیاتی نظام اور عوامی شمولیت کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ جب کچرا ٹھکانے لگانے کے سائنسی نظام موجود نہ ہوں، جب ری سائیکلنگ کو پالیسی کا حصہ نہ بنایا جائے اور جب بلدیاتی ادارے اختیارات اور وسائل سے محروم ہوں تو شہر کچرے کے ڈھیر بن جاتے ہیں۔ یہاں بھی مسئلہ صرف صفائی کا نہیں بلکہ حکمرانی کے ڈھانچے کا ہے، جو شہریوں کو صاف اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ حالیہ برسوں میں گورننس کے دائرے میں ماحولیاتی پہلو کو نسبتاً زیادہ اہمیت ملنا شروع ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں ماحولیات کو محض ایک ذیلی شعبہ نہیں بلکہ قومی پالیسی کے ایک اہم جزو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سوچ میں تبدیلی خود ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ جب تک مسئلے کو تسلیم نہ کیا جائے، اس کا حل ممکن نہیں ہوتا۔موجودہ حکومت کی جانب سے شجرکاری اور سبزہ کاری کے بڑے منصوبے اسی بدلتی ہوئی سوچ کا مظہر ہیں۔ درخت لگانا بظاہر ایک سادہ عمل لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ فضائی آلودگی، درجۂ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
شہری جنگلات کا تصور، ویران زمینوں کو سبز کرنے کی کوششیں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی گورننس کے اس پہلو کو ظاہر کرتی ہیں جہاں ریاست مستقبل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں پر تنقید بھی ہوتی ہے، مگر یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ ماحول اب حکومتی بیانیے میں شامل ہو چکا ہے۔اسی طرح صنعتی اور توانائی کے شعبے میں بھی آلودگی کے مسئلے کو گورننس کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، صاف ایندھن اور جدید ٹیکنالوجی کی باتیں محض نعرے نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ پرانے طریقوں کے ساتھ آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا۔ اگر ریاست واقعی ان پالیسیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی موجودہ حکومت نے ماحولیاتی گورننس کو ایک سنجیدہ موضوع کے طور پر پیش کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور قدرتی آفات کے تناظر میں عالمی فورمز پر آواز اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب ماحولیات کو خارجہ پالیسی اور قومی مفاد سے الگ نہیں سمجھتی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ماحولیاتی آلودگی اور گورننس ایک دوسرے کے آئینے ہیں۔ موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات اگرچہ مکمل حل نہیں، مگر یہ اس سمت کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں جہاں سے بہتری کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ماحولیاتی ڈیٹا، مانیٹرنگ سسٹمز اور شفاف رپورٹنگ اس بات کی علامت ہے کہ فیصلے اب اندازوںکے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پرکیے جا رہے ہیں ۔نوجوانوں ، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو ماحولیاتی اقدامات میں شامل کرنا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت مستقبل کی نسلوں کو شریک کار بنا کر ایک پائیدار اور ذمہ دار ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔اصل امتحان اس تسلسل، شفافیت اور دیانت داری کا ہے جس کے ساتھ یہ پالیسیاں آگے بڑھتی ہیں۔یہ اقدامات اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت ماحولیات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ بنیاد سمجھنے لگی ہے۔ادارہ جاتی اصلاحات ، پالسیی سطح پر ہم آہنگی اور عوامی شعور بیدار کرنے کی کوششیں اس بدلتے ہوئے طرز حکمرانی کی علاقت ہیں ۔ اگر یہی سنجیدگی برقرار رہی تو ماحولیاتی تحفظ محض ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ عملی ریاستی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لے گا اور یہی وہ مثبت سمت ہے جو قوم کو بحرانوں سے نکال کر استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اگر گورننس واقعی عوامی فلاح کو مرکز بنا لے، اگر فیصلے وقتی مفاد کے بجائے طویل المدتی اثرات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں، تو ماحولیاتی آلودگی محض ایک مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا چیلنج بن جائے گی جسے ریاست اپنی بصیرت سے شکست دے سکتی ہے۔ ماحول کا تحفظ دراصل ریاست کی سنجیدگی کا ثبوت ہے، اور یہی ثبوت آنے والی نسلیں ہم سے طلب کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں