استاد نصرت فتح علی خان سے استاد راحت فتح علی خان اور اب شاہ زمان علی خان تک عقیدت کی ایک روشن روایت آگے بڑھ رہی ہے، جو اہلِ بیتؑ اور شہدائے کربلا سے محبت کے جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
کربلا کا لازوال پیغام قربانی، صبر، بہادری اور ظلم کے خلاف حق پر قائم رہنے کی عظیم تعلیمات کے ذریعے صدیوں سے نسلوں کو متاثر کرتا آیا ہے۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اہلِ بیتؑ سے اپنی گہری عقیدت اور اپنی منفرد آواز کے ذریعے اس پیغام کو دنیا بھر تک پہنچایا۔ ان کے یادگار کلاموں میں “شاہ سواری کربلا کی” اور “یہ بالیقین حسین ہے” جیسے عقیدت سے بھرپور کلام شامل ہیں، جو آج بھی سننے والوں کے دلوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ عظیم روحانی اور فنی ورثہ استاد راحت فتح علی خان نے آگے بڑھایا، اور اب ان کے صاحبزادے شاہ زمان علی خان اس روایت کو نئی نسل تک منتقل کر رہے ہیں۔
ان کا نیا کلام “زخموں سے چور چور نمازی السلام” امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس کلام میں محبت، احترام اور عقیدت کے جذبات نمایاں ہیں، جسے سننے والوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
راحت فتح علی خان اور شاہ زمان علی خان اپنی آواز، فن اور عقیدت کے ذریعے کربلا کے پیغام اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی اس خوبصورت روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، جو آنے والی نسلوں تک اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گی۔
