چند روز قبل کوٹ لکھپت جیل میں قید تحریک انصاف کے پانچ رہنمائوں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے متفقہ طور پر ایک تحریری پیغام بھیجا جس کا عنوان تھا ’’ نہ مفاہمت نہ مزاحمت‘ صرف سیاست‘‘ ۔ تحریر سے واضح ہے کہ یہ رہنما مزاحمت سے گریز کرتے ہوئے سیاسی ڈائیلاگ کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ کسی خرابی کے بغیر موجودہ صورتحال کا کوئی حل نکلے۔ یہ ان رہنمائوں کی سوچ ہے جو گذشتہ ڈھائی سال سے جیل کاٹ رہے ہیں اور دور ابتلا میں عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر ایسے کھڑے ہیں کہ ان مردان پنجاب کے علاوہ وفاداری اور استقامت کی کوئی اور مثال دستیاب نہیں ہے۔ پیرانہ سالی کے باوجود ان کے عزم اور حوصلے نے تحریک انصاف اور بانی چیئرمین تحریک انصاف کا سر جھکنے سے بچا لیا ہے ورنہ عمران خان کی باہمت قید کے علاوہ تحریک انصاف کے پاس پیش کرنے کیلئے اور کیا ہے؟ اعتزاز احسن نے کیا خوب کہا ہے۔ ہم اہل جنوں مردم پنجاب کے دم سے‘ زندانوں کی شب آج بھی ویران تو نہیں ہے۔
یہ وہ رہنما ہیں جنہوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کی لاج رکھی ورنہ ایک آدھ کو چھوڑ کر صف اول کے سبھی رہنما جنہوں نے عمران اقتدار کے مزے لوٹے تھے یا تو ایک ایک کر کے بھاگ گئے یا پھر گھروں میں خاموش دبک کر بیٹھ گئے۔ صعوبتیں برداشت کرنے والے یہ رہنما بھی پولیٹیکل ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں تو بانی چیئرمین تحریک انصاف کو اپنے ان وفا شعار ساتھیوں کے مشورہ کو اہمیت دینی چاہیے۔ دوسری طرف تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائد محمود خان اچکزئی ہیں جن کو عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری بھی سونپی ہے وہ بھی ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں لیکن ان مشوروں کے برعکس عمران خان نے اپنے تازہ ترین بیان میں مزاحمت کا پیغام دیا ہے اور پارٹی کو اس کیلئے تیار رہنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔
پاکستان میں مزاحمت کی سیاست کی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جب عوام نے وقت کی حکومت جسے ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہو ‘کا بزور قوت تختہ الٹ دیا ہو۔ جب بھی حکومتیں تبدیل ہوئیں ملٹری ایسٹیبلشمنٹ نے اپنا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈالا یا پھر مخالف فریق کیساتھ ٹرانزیشن ٹو ڈیموکریسی کیلئے افہام و تفہیم کی۔ فوجی آمریت کے ادوار جب فوجی قیادت خود حکمران تھی سے عوام اقتدار چھیننے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ ان ادوار کے حوالے سے اہم بات یہ رہی کہ عوام کی قوت برداشت نے جواب دینے میں آٹھ دس برس کا وقت لیا۔ جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ سیاسی تحریکیں وقت لیتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کو سامنے رکھ لیجئیے، آمریت کے خلاف سیاسی قوتوں کی جدوجہد نے اپنا ٹائم لیا ہے۔ لوگوں کی قوت برداشت آٹھ دس سال کے بعد جواب دینا شروع ہوتی ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب منظم تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہیں۔
جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک نے دس سال کے بعد زور پکڑا اور بالآخر ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا لیکن جاتے جاتے وہ اقتدار ملٹری قیادت کو سونپ گئے۔ یوں ایوب خان کو نکالنے کی حد تک تحریک کامیاب رہی لیکن مکمل اور حتمی کامیابی نہ سمیٹی جا سکی۔ اس مزاحمت کی سیاست کا عظیم نقصان مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں قوم نے بھگتا۔ اس سانحہ کی ذمہ دار فوجی قیادت بھی تھی اور سیاسی قیادت بھی، جس نے عوام کے جذبات کو سنبھالنے کی ذمہ داری ادا نہ کی۔ سانحہ مشرقی پاکستان سیاسی قیادت کی ناکامی اس لحاظ سے تھی کہ اس نے جنرل ایوب خان کے اقتدار کے خلاف تحریک کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف تحریک میں تبدیل ہونے سے نہ روکا، یہ فرق ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو ریاست کے خلاف نفرت نہ پھیلتی اور مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ آج تک کسی نے مشرقی پاکستان کے سانحے سے سبق نہیں سیکھا، اہل سیاست نے اور نہ ہی فوجی قیادت نے۔ ہر کوئی اپنی رو میں بہتا ہے اور بہتا چلا جاتا ہے۔ بات ہو رہی تھی عوام کی قوت برداشت کی جو فوجی حکمران کو آٹھ دس سال تک سہہ جاتی ہے۔ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کا بھی یہی سبق ہے۔ جنرل مشرف نے بھی 7 سال مزے سے حکومت کی، آٹھویں سال عدلیہ سے پنگا لینا انہیں مہنگا پڑ گیا۔ ان مثالوں سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان اگر مزاحمت کی راہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں موجودہ ہائیبرڈ نظام کو گرانے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔
فروری 2024 ء کے عام انتخابات میں عوام نے ان کے حق میں ووٹ دیا لیکن ووٹ چوری کے خلاف مزاحمت کیلئے عوام سڑکوں پر نہ آئی۔ جو قوم 9 فروری کو اپنے ووٹ کے تحفظ کیلئے کھڑی نہ ہو سکی اس قوم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ’’حقیقی آزادی‘‘ کے مبہم تصور کی خاطر بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہو جائے گی۔ عمران خان جب جیل سے باہر تھے تو انہوں نے خود سے بھی تین مرتبہ کوشش کی لیکن لوگ ویسی بڑی تعداد میں باہر نہ نکل سکے جو کسی جوہری تبدیلی کیلئے درکار ہوتے ہیں۔ 25 مئی 2022 ء کو عمران خان خیبر پختونخوا سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے آئے لیکن اسلام آباد سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے عوام کو تیار کرنے کیلئے پاکستان لیول پر ایک بڑی مہم چلائی، اس بار وہ لاہور سے قیادت کرتے ہوئے نکلے لیکن وزیر آباد میں ان پر قاتلانہ حملے کے سبب قافلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ عمران خان کی جانب سے تیسری کوشش 26 نومبر 2022 ء کو سامنے آئی۔ اس بار گھر گھر عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا۔ ایک ایک فرد کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، فیڈ بیک اور پیغام پہنچانے کی خاطر فون نمبرز تک نوٹ کیے گئے اس کے باوجود 26 نومبر کو راولپنڈی میں اتنا بڑا اجتماع نہ ہو سکا جس کو دیکھ کر حکمرانوں کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور حکومتیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ جب عمران خان کی موجودگی میں ’’عوامی انقلاب‘‘ نہیں آسکا تو اب کیونکر توقع کی جا سکتی ہے کہ عوام لاکھوں کی تعداد میں نکلیں گے اور سب کچھ تاخت و تاراج کر دینگے۔ پاکستان کی تاریخ اور پاکستانی عوام کے موڈ اور مزاج کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی انہونی وقوع پذیر نہیں ہو سکتی۔
اگر عمران خان اپنی جدوجہد کو صحیح معنوں میں’’حقیقی آزادی‘‘ کے خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ حقیقی آزادی کے تصور کو وضاحت کیساتھ قوم کے سامنے پیش کریں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ایک روڈ میپ ترتیب دیں۔ بڑے مقاصد یوں وقتی ہلے گلے اور شور شرابے سے حاصل نہیں ہوتے ان کے لئے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ آزادی اور وہ بھی حقیقی آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر تو پیش نہیں کرے گا۔ عمران خان کی خواہش اگر نظام کو الٹانے کی نہیں تو کم از کم اسے جھکانے کی ضرور ہے، ظاہر ہے ایسی خواہش پر کون باآسانی سر تسلیم خم کرے گا۔ انقلابی تبدیلی کیلئے ہفتوں مہینوں نہیں برسوں کی محنت درکار ہے۔ پاکستان کے معروضی حالات اور ماضی کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ سیاسی بحران کا ایک ہی حل سمجھ آتا ہے اور وہ ہے بات چیت۔ مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، اسی طرح ’’کچھ لو اور کچھ دو ‘‘ ہو گا اور سیاست آگے بڑھے گی۔ میں نے پہلے بھی ایک کالم میں رائے دی تھی کہ ملک کو ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے، اسے میثاق پاکستان کا نام دیں یا کوئی اور نام رکھ لیں۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو بالآخر اکٹھا بیٹھنا پڑے گا اور مستقبل کے سیاسی، جمہوری اور معاشی فریم ورک پر اتفاق کرنا ہو گا۔ یہی واحد قابل عمل راستہ اور حل ہے اس کے علاوہ جو دیگر راستے ہیں وہ دشوارگزار ہیں۔ پاکستان عرب بہار جیسے کسی ایڈونچر کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ پاکستانی قوم میں اتنی سکت اور حوصلہ ہے کہ وہ مزید مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کر سکے ۔