Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سعودی عرب، امارات تنازعہ

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سب اچھا نہیں رہا لیکن یہ پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے حوالے سے اپنی ریڈ لائن کراس کرنے کی وارننگ جاری کی ہو اور اس کے جنگی سازوسامان پر براہ راست حملہ کر دیا ہو۔ یو اے ای کی الفجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر جنوبی یمن کی بندرگاہ مکالہ پہنچنے والے جہاز کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب نے الزام عائد کیا کہ یو اے ای سے جانے والا اسلحہ اور گاڑیاں یمن کی جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کو دی جانی تھیں جبکہ امارات نے اس سے انکار کیا اور وضاحت دی کہ یہ اسلحہ اور 80فوجی گاڑیاں یمن میں موجود اماراتی کائونٹر ٹیررازم فورس کیلئے تھیں۔ یہ وضاحت قبول نہیں کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب نے یہ انتہائی اقدام کیوں اٹھایا؟ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے منع کرنے کے باوجود سادرن ٹرانزیشنل کونسل(ایس ٹی سی)نے دسمبر میں یمن کے دو اہم صوبے خضر موت اور المہرہ جن کی سرحدیں سعودی عرب سے ملتی ہیں پر چڑھائی کی اور انہیں اپنے زیر تسلط کر لیا۔ یو اے ای پر الزام ہے کہ وہ ایس ٹی سی کو درپردہ مدد فراہم کرتا ہے ۔
ایس ٹی سی اگرچہ منصور ہادی کی قیادت میں قائم صدارتی لیڈر شپ کونسل کا بھی حصہ ہے لیکن درون خانہ اور کھلے عام بھی یمنی رہنما عیدروس الزبیدی کی قیادت میں قائم یہ کونسل یمن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی آئی ہے۔ اگر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتا ہے تو سادرن ٹرانزیشنل کونسل کے زیر تسلط علاقہ کی سرحدیں ایک طرف سعودی عرب جبکہ دوسری طرف اہم بندرگاہیں اور سمندری گزرگاہیں اس کے زیر قبضہ ہوں گی۔ اہم شہر عدن اور اہم سمندری گذر گاہ باب المندب بھی اس وقت اس سادرن ٹرانزیشنل کونسل کے کنٹرول میں ہیں۔ یوں 10سالہ یمن جنگ کا انجام اس طرح ہو گا کہ ایک طرف جنوبی یمن میں سادرن ٹرانزیشنل کونسل تو دوسری جانب شمالی یمن کے وسیع علاقے پر حوثی باغیوں کی حکومت قائم رہے گی اور سرخ سمندر کا روٹ اس کے کنٹرول میں ہو گا جبکہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے کے زیر انتظام یمن کا ایک چھوٹا سا زمینی علاقہ ہو گا۔ ظاہر ہے یہ درپردہ منصوبے اور درپیش صورتحال سعودی عرب کیلئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ سعودی عرب کی قیادت سمجھ رہی ہے کہ یمن جنگ میں اپنے دوستوں نے ہی اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات سے قطعا یہ توقع نہیں کرتا تھا کہ وہ پس پردہ ایسی قوتوں کی سرپرستی اور مدد کرے گا جو سعودی عرب کے مفادات کے خلاف ہیں۔ یمن اور سوڈان کے معاملہ میں بدقسمتی سے یہی ہوا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں خرابی کی ابتدا 2019ء میں ہوئی جب امارات نے یمن میں موجود اپنی زمینی فورسز کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ حوثی باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کامیابی سے پہلے اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھائے جانے والے اس اقدام نے بد اعتمادی کی فضا پیدا کی۔ یمن میں زمین پر لڑنے والی بیرونی افواج میں اماراتی فوج کی تعداد سب سے زیادہ تھی، اس ایکشن سے یمن جنگ میں اتحادی افواج کو سخت دھچکا لگا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں دوری کی ایک اور وجہ سوڈان کی جنگ بنی ہے۔ 2019 ء میں سوڈان میں عمر البشر کی حکومت کا خاتمہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مل کر کیا۔ ابتدا میں دونوں ممالک جنرل برہان کو سپورٹ کر رہے تھے لیکن بعد میں جب سوڈانی آرمڈ فورسز اور ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) نے ایک دوسرے پر اسلحہ تان لیا تو آر ایس ایف کے لیڈر ’’حمیدتی‘‘متحدہ عرب امارات کے فیورٹ بن گئے۔ سعودی عرب سوڈانی آرمڈ فورسز کی حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ اسے ریاست کا صحیح نمایندہ سمجھتا ہے لیکن متحدہ عرب امارات نے متحارب آر ایس ایف کو اسلحہ سپلائی کرنا شروع کر دیا ،یہ گٹھ جوڑ بھی سعودی عرب کے لئے قابل قبول نہ ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کو خاص طور پر درخواست کی کہ وہ سوڈان میں متحدہ عرب امارات کو باز رکھنے کیلئے اپنا رسوخ استعمال کریں۔ یمن اور سوڈان جنگ کے علاوہ جس چیز نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی وہ ابراہم اکارڈ ہے۔ 1974ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ یو اے ای نے خارجہ محاذ پر سعودی عرب سے بالا بالا اپنی الگ لائن لی ہو۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر کہ یو اے ای نے امریکہ کو تو خوش کر لیا لیکن اس نے سعودی عرب کو ناراض کر دیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کا ایک واضح اور جاندار موقف ہے لیکن سعودی عرب کے موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے سولو فلائٹ لی۔ 2020ء میں ابراہم اکارڈ کے تحت جب یو اے ای نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کئے تو سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں سخت تنائو پیدا ہوا جس کا اظہار 2021ء میں اس وقت سامنے آیا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ایک حکم جاری کیا گیا۔ سعودی ولی عہد نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے ریجنل دفاتر دبئی سے ریاض منتقل کرنے کے لئے دبائو ڈالا۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں اور حادثہ ایک دم نہیں ہوتا کے مصداق، یہ ہے کشیدگی کا وہ پس منظر جو حالیہ انتہائی اقدام کا سبب بنا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پہلی مرتبہ یہ صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔ قبل ازیں یہ ممالک ہر معاملے میں ایک پیج پر تھے۔
1974 ء کے جدہ معاہدہ کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایسے تعلقات قائم ہوئے کہ دونوں ریاستیں صحیح معنوں میں یک جان دو قالب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ خارجہ پالیسی اور دفاع کے لحاظ سے تو ایسا لگتا تھا جیسے یہ دونوں درحقیقت ایک ہی ریاست ہیں۔ خلیجی ممالک کے درمیان بھی کوئی ایشو بنا تو یہ دونوں ممالک ایک جگہ دکھائی دئیے۔ 2011ء میں متحدہ عرب امارات اور عمان کا تنازعہ ہوا یا 2017 ء میں قطر کا معاملہ درپیش آیا، سعودی عرب اور امارات ہمیشہ ایک ساتھ کھڑے ملے۔ 2015ء میں یمن میں حوثی بغاوت کا مقابلہ بھی دونوں ملکوں نے مل کر کیا۔ 9 ملکی اتحاد کو لیڈ کرنے والے ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تھے لیکن اب دونوں ممالک کے تعلقات کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ یمن میں سعودی بمباری کے بعد اگرچہ یو اے ای نے تحمل اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور کوئی ردعمل دینے کی بجائے یمن سے اپنی کائونٹر ٹیررازم فورس کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے جو کہ نہایت خوش آئند ہے۔ یو اے ای کی قیادت نے سعودی عرب سے خوشگوار تعلقات استوار رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ صلح و صفائی کے ان اشاروں کے بعد امید کی جا سکتی ہے عمان اور دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کو ششیں رنگ لائیں گی اور ان دو اہم خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات پرانی سطح پر بحال ہو جائیں گے۔ یو اے ای کی قیادت کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اگر وہ سعودی عرب کی پوزیشن کو کمپرومائز کرنے کی کسی کوشش کا حصہ بنیں گے تو اس کا ردعمل آئے گا۔ دونوں ممالک عربوں اور عالم اسلام کی طاقت ہیں۔ ان کی نااتفاقی اور باہمی لڑائی سے عربوں اور عالم اسلام کے دشمن یقینا خوش ہوں گے جبکہ امت مسلمہ کے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں