Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

8 فروری یوم سیاہ

کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف نہ دینے کے مترادف ہے۔ 8فروری 2024ء عام انتخابات کا دن تھا، ان انتخابات کے انعقاد کو دو سال ہو گئے ہیں لیکن الیکشن ٹریبونلز ابھی تک انتخابی عذرداریوں کے فیصلے نہیں کر پائے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست پاکستان نے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے جس قانونی بندوبست کا انتظام کیا ہے وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں صریحاً ناکام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہے جہاں انتخابات کا صاف شفاف انعقاد ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ تحریک انصاف گزشتہ عام انتخابات کی فاتح جماعت تھی جسے بدترین دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ پولنگ اسٹیشنز پر جیتنے والی جماعت کی فتح کو فارم 47کے ذریعے شکست میں بدل دیا گیا۔ یہ دھاندلی اتنے بھونڈے انداز میں کی گئی کہ جیتنے والے خود بھی شرمسار دکھائی دیتے ہیں اور ان میں اپنے ووٹر اور سپورٹرز کو آنکھ ملانے کی جرات نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے پاس اس دھاندلی کے خلاف جو قانونی راستہ تھا وہ الیکشن ٹریبونلز سے رجوع کرنا تھا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 225کے تحت ہارے یا ہروا دئیے گئے امیدوار کے پاس دادرسی کا واحد فورم الیکشن ٹریبونلز ہی ہے۔ ان ٹریبونلز کے قیام کی کہانی بھی عجب ہے۔ عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے ان ٹریبونلز کے قیام میں تاخیر کی۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں واضح لکھا ہوا تھا کہ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج الیکشن ٹریبونلز کا کام کریں گے، ان ججز کی تقرری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے ہونی تھی لیکن اس میں خواہ مخواہ کا پھڈا ڈال دیا گیا۔ فارم 47کے ذریعے بننے والی حکومت نے مئی 2024ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تا کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کی الیکشن ٹریبونلز میں تقرری کی جا سکے۔ دوسرے الفاظ میں جس حکومت کے خلاف دھاندلی کی شکایات تھیں وہی اپنی مرضی کے رول آف گیم طے کر رہی تھی۔ اگست 2024ء میں پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کہ اپنی مرضی کے الیکشن ٹریبونلز بنانے کی راہ ہموار کر دی۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کے بعد کی جانے والی اس حرکت کا نوٹس نہ لیا بلکہ الیکشن کمیشن اور لاہور ہائی کورٹ کے مابین تنازعہ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے حق میں دے دیا، یوں دھاندلی زدہ حکومت کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ سات ماہ کی تاخیر سے قائم ہونے والے ٹریبونلز کی کارکردگی آج قوم کے سامنے ہے۔فافین کی رپورٹ کے مطابق 2024ء کے سال کے اختتام تک صرف 27فیصد انتخابی عذرداریوں کا فیصلہ سنایا جا سکا۔ یعنی جس ایک سال میں الیکشن ایکٹ کی رو سے انتخابی عذرداریوں کے معاملے کو مکمل ہونا تھا اس میں محض 27 فیصد الیکشن پٹیشنز کا فیصلہ ہوا، واضح رہے کہ ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کیلئے بھی 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ 7 اگست 2025 کو فافین نے پھر ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 50فیصد انتخابی عذرداریوں کا فیصلہ ابھی ہونا تھا۔ اس تاخیر کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ الیکشن ٹریبونلز میں دائر ہونے والی 374انتخابی عذرداریوں میں سے 124 الیکشن پٹیشنز قومی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق تھیں جن کو التوا میں رکھا گیا، اگر ان پٹیشنز کے انصاف پر مبنی فیصلے بروقت کئے جاتے تو قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن یقینی طور پر تبدیل ہو جاتی۔ یہی کچھ صوبائی اسمبلیوں میں بھی ہوتا لیکن جان بوجھ کر تاخیر کی گئی اور اس تاخیر سے بعض مقاصد حاصل کئے گئے۔ آئین میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اس اسمبلی سے کروائی گئی ہیں جس کی 124 نشستوں پر دھاندلی کا الزام ہے۔
ان ترامیم نے آئین میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی ہیں، ایسی تبدیلیاں جنہوں نے آئین کے ڈھانچے کو تبدیل کر کہ رکھ دیا ہے۔یہاں مقصد ان تبدیلیوں کی بابت تفصیل بیان کرنا نہیں ہے صرف یہ بتانا مقصود ہے تحریک انصاف کیلئے انصاف حاصل کرنے کی تمام راہیں مسدور کی گئیں اور اب اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یہ سب کچھ تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے ازالے کے لئے بنائے گئے ریاستی بندوبست نے اگر انصاف کا ایسے ہی قتل کرنا ہے تو متاثرہ فریق کے پاس سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ تحریک انصاف اگر شٹر ڈان کی کال دیتی ہے اور احتجاجی ریلیاں نکالتی ہے تو وہ اس میں پوری طرح حق بجانب ہے کیونکہ وہ انصاف سے محروم ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ عوام نے 8فروری 2024ء کو عمران خان اور تحریک انصاف کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اگر فارم 47کی دھاندلی نہ کی جاتی تو آج تحریک انصاف مرکز میں بھی حکومت میں ہوتی اور خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب میں بھی اس کی حکومت ہوتی۔2024 ء کے عام انتخابات میں کی جانے والی دھاندلی صرف تحریک انصاف کیساتھ زیادتی نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان پر حملے کے مترادف ہے۔ اس قبیح فعل کو سر انجام دینے والوں نے آئین، قانون اور نظام سے لوگوں کو متنفر کر دیا ہے۔
آج عوام کی بڑی اکثریت نظام سے مایوسی کا اظہار کر رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے چکر ہر چیز کو بلڈوز کر دیا گیا ہے خواہ وہ قانون ہو یا ملکی آئین ہو۔ ملک من مانی سے نہیں ضابطوں اور قاعدوں سے چلتے ہیں اور یہاں یہ دھونس کی روش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔8 فروری 2024 ء کا دن پاکستان میں نرم انقلاب کا دن تھا، تمام تر ریاستی جبر کے باوجود یہ عوام کا فیصلہ تھا جسے ماننے سے انکار کر دیا گیا اور آج دو سال گزر جانے کے باوجود عوام کی منشا کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اپنی اصلاح کی بجائے تحریک انصاف کو کہا جا رہا ہے کہ وہ احتجاج کی راہ ترک کر دے، سوال یہ ہے کہ آپ تحریک انصاف کو آفر کیا کر رہے ہیں؟ کوئی مناسب پیشکش ہوتی تو یقینا تحریک انصاف کے اندر سے آوازیں اٹھتیں کہ اس کے بعد احتجاج جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سیاسی میدان گرم ہی رہے گا، آج نہیں تو کل جعل سازی اپنے انجام کو ضرور پہنچے گی ۔

یہ بھی پڑھیں