Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نرانکاری بازار میں چھپی تار یخ

راولپنڈی صدر کی چکاچوندسے نکلتے ہی جب میں پرانے شہر کی طرف بڑھا تو معروف راجہ بازار سے متصل ایک تنگ گلی نے مجھے زندگی سے چھلکتے ہوئے ایک بازار میں پہنچا دیا۔ دکانوں کے باہر لٹکے ہوا سے لہراتے رنگ برنگے دوپٹے،کپڑے کے تھانوں کی خوشبو، زمین چھونے کو بیتاب پھولوں کی لڑیاں اور گجرے۔ چاٹ اور پکوڑوں کی مہک،بوسیدہ سے تھڑے پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے کچھ لوگ ، بازار کے اوپرشکستہ گھروں سے جھانکتی بیزار سی کھڑکیاں جیسے اس ہجوم، گہما گہمی اور چہل پہل میں گزرے وقت کو ڈھونڈ رہی ہوں۔مجھے یوں لگا جیسے ان اجڑی کھڑکیوں نے تاریخ کا کوئی منظر روشن کر دیا ہو۔
بازار کی بنیاد اٹھارویں صدی کے آخر میں راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں پڑی ۔ راولپنڈی اس وقت تک ایک کثیر المذہب شہر بن چکا تھا اور مسلم، سکھ، ہندو اور عیسائیوں کی باہمی رواداری اور امن کی ایک جھلک پیش کرتا تھا۔لیکن بازار کو اصل شہرت ااو ر وسعت تب ملی جب 1783ء میں پشاور میں پیدا ہونے والے دیال سنگھ نے 1802 ء میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد اس بازار میں آکر سکونت اختیار کی،ایک چھوٹی سی دکان کھولی اور اپنے مذہب کی تبلیغ بھی شروع کر دی اور بابا دیال سنگھ کے نام سے معروف ہوا۔ بابا دیال کا خیال تھا کے راجہ رنجیت سنگھ دورمیں سکھ مذہب اپنے راستے سے بھٹک چکا ہے اور ہندوئو ںکے ساتھ رہ رہ کر سکھ اپنے بہت سے مذہبی عقیدوں اور رسومات سے دور ہو چکے ہیں۔ اپنے مذہب کو اپنی راہ پر ڈالنے اور ملاوٹ ذدہ عقیدوں کو ختم کرنے کے لے بابا دیال نے با قاعدہ ایک تحریک کا آغاز کیا جس کی بنیاد اس عقیدے پر رکھی گئی کہ اصل عبادت کا حقدار جسمانی طور پر موجود کوئی گرو نہی بلکہ ایک نر انکار (بے شکل خدا) ہے ،وہ کسی مورت ، صورت یا تصویر میں محدود نہیںجو ہر جگہ موجود ہے او ر بے انتہا ہے ۔ بابا دیال کے مطابق یہی وہ اصل تعلیمات ہیں جو سکھوں کی مذہبی کتاب گر و گرنتھ میں موجود ہیں اورجس سے سکھ مذہب دور ہٹ چکا ہے ۔اس اصلاح پسند تحریک کا نام نرانکاری اور اس تحریک کے پیر و کاروں کو نر انکار کہا جانے لگا ۔اسی نسبت سے یہ بازار نرانکاری کے نام سے معروف ہو گیا۔ تحریک سکھوں میں مقبول ہوتی گئی اور دور و نزدیک سے سکھوں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہونے لگی ۔ کشمیری سکھ مبلغین نے یہاں کاروبار کا آغاز کیا اور اسے کپڑے ،نمک اور دیگر اشیاء کا مرکز بنا دیا اور رفتہ رفتہ یہ بازار نرانکاری فرقہ کا گڑھ بن گیا۔ دیال سنگھ نے 1851 ء میں یہاں ایک وسیع گردوارا بھی تعمیر کیا جو اس فرقے کے ایک اہم روحانی اور سماجی مرکز کے طور پر جاناجانے لگا۔ دنیا بھر کے نرانکار اس بازار اور خاص طور پر گردوارہ کواپنی تحریک کی جائے پیدائش مانتے ہیں ۔
نرانکاری تحریک کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا کہ اس نے سلام اور سکھ مذہب کے درمیان یگانگت اور رواداری کو مزید فروغ دیا ۔اس کی غالباً وجہ یہ تھی اس اصلاحی تحریک کے اجزاے ترکیبی اسلام کے پیغام سے بہت مماثلت رکھتے تھے۔ ان دیکھے خدائے واحد کی عبادت کرنا اور اس کو ہر جگہ موجود بھی سمجھنا۔ اسی کو اپنی ہاجت روا ماننا، بت پرستی کی مذمت کرنا، سادگی اپنانا اور نمو د و نمائش سے بچنا، یہ سب وہ بنیادی عقائد تھے جو اسلام کے تصورِحیات کے قریب تھے۔نرانکاری تحریک بھی خدمتِ خلق، حسن سلوک اور سماجی بھلائی کو عبادت کا درجہ دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بابا دیال سنگھ اور اس کے نرانکاروں کو اپنے مرکزی دھارے سے کٹ کر ایک تحریک شروع کرنے، اس کی ترویج کرنے اور اس تحریک کو ایک منظم فرقہ بنانے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بابا دیال کے 1855ء میں انتقال کے بعدان کی میراث ان کے بیٹے بابا دربارا نے سنبھالی جنہوں نے سادہ شادی کی رسم کو رائج کیا۔1855ء میں اسی گردوارا میں بھولا سنگھ اور بی بی نہال کور کی شادی ہوئی جو سکھ(نرانکاری) رسومات کے تحت راولپنڈی کی پہلی شادی تھی۔
اور پھر وہ وقت بھی آگیا جب ہندوستان کی تقسیم کا ناقوس بجا دیا گیا۔افراتفری اور ہنگاموں نے پورے برصغیر کے ساتھ ساتھ راولپنڈی کے گلی کوچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نرانکاری تحریک کا مرکز بھی سرحد پار منتقل ہو گیا، مرکزی گردوارا ویران ہو گیا۔ آج یہ عمارت جو تین دروازوں پر مشتمل تھی ( دو نرانکاری بازار اور ایک نمک منڈی کی طرف)6 کنال سے سکڑ کر صرف ڈیڑھ کنال رہ گئی ہے ۔ دیواروں پر اب بھی نرانکاری عہد کے باقیات تو ہیں مگر یہ تاریخی ورثہ غفلت کا شکار ہے۔اس تحریک نے اپنا نیا مرکز چندی گڑھ(بھارت) میں بنایا جو آج بھی موجود ہے ،لیکن نرانکار آج بھی راولپنڈی کے نرانکاری بازار اور گردوارا کو تحریک کی جنم بھومی سمجھتے اوراسے انتہای قدر اور عقیدت سے دیکھتے ہیںاور موقع ملنے پر نرانکاری بازار آکر گردوارا کے درو دیوار کا دیدار کرتے اور بابا دیال کی سمادھی(یادگار) پر بھی حاضری دیتے ہیں۔
میں نے کھڑکیوں سے نگاہ ہٹائی اور بازار میں چلنے لگا۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک مجھے اس کہانی اور ا س تاریخ کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔گردوارہ کی عمارت موجود ہے مگر اب اس جگہ ایک سرکاری سکول بنا دیا گیا ہے۔ مجھے بازار کے اندر اور نہ بازار کے باہر نرانکاری تحریک، نرانکاری بازار کی اہمیت اور اس میں موجود گردوارہ کی کوئی تاریخ کہیں لکھی نظر نہیں آئی۔ نہ جانے کیوں ہم اپنے ارد گرد چھپے تاریخ کے ان خزانوں کو محفوظ کرنے یا ان کو لوگوں کے علم میں لانے سے غفلت برتتے ہیں۔ تنگ گلیوں اور بازاروں کو بھی تنگ نظری سے دیکھتے ہیں۔
کتنی آسانی سے اس بازار کی تاریخ سے آنے جانے والوں کو آگاہ کیا جا سکتا ہے، گردوارہ اور بازار کو سیاحوں اور خاص طور پر سرحد پار سے آئے نرانکاری سکھوں کے لئے پر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ گردوارا کی 6 کنال پر محیط عمارت اب سکڑ چکی ہے۔ اس کی تیسری منزل مہندم ہو چکی ہے۔بہت سا حصہ اب تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے اور باقی بیشتر حصہ گورنمنٹ سکول میں نہ صرف تبدیل ہو گیا ہے بلکہ اسکو باقاعدہ محکمہ تعلیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔نہ جانے اب یہ گردوارہ محکمہ آثارِ قدیمہ یا متروکہ وقف املاک کی فہرست میںشامل بھی ہے یا نہیں؟اور اس تاریخ کو ایک شناخت دینا اب ان کے اختیار میں بھی ہے یا نہیں؟
یہ بازار ہمیں آج بھی یاد دلاتا ہے کہ راولپنڈی کی گلیوں میں کبھی مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھلے دل سے رہتے تھے ۔ تقسیم کی لکیروں میں بٹی دنیا کو یہ بازار آج بھی اتحاد، اتفاق اور برداشت کا پیغام دیتا نظر آتا ہے۔ کیا یہ ورثہ بچ پائے گا یا پھر تاریخ کی دھول میں غرق ہو جاے گا؟یا ہم اسی کو غنیمت جانیں کہ اس بازار کا نام ابھی بھی نرانکاری تاریخ سے جُڑا ہوا ہے؟ یہ سوال راولپنڈی کے اس بازار سے ابھرتا ہے جو آج بھی اپنی خاموش کہانی سنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں