Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ؟

سولر انرجی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومت کی تبدیل شدہ پالیسی اس ہفتے کی بڑی پیش رفت ہے جس کا متوسط اور غریب طبقے پر براہ راست اثر ہونا ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کی بجائے نیٹ بلنگ پالیسی متعارف کروانے جا رہی ہے جس پر اسمبلی اراکین سمیت اشرافیہ کے اس طبقے نے آہو کار مچا دی ہے جو سولر پینلز کے ذریعے مفت بجلی کی سہولت سے مستفید ہو رہا ہے۔ اس طبقے کا موقف یہ ہے کہ حکومت نے خود سے سولر پینلز لگانے کی ترغیب دی اور جب لوگوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کہ اپنی مدد آپ کے تحت یہ سہولت اپنے لئے حاصل کر لی ہے تو حکومت نے نیٹ بلنگ کی ایسی پالیسی بنا لی ہے جو نہ صرف اپنے کئے گئے معاہدے سے انحراف ہے بلکہ سولر صارفین سے زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے۔ دوسری طرف وزیر توانائی کا موقف یہ ہے کہ سولر صارفین کی نیٹ میٹرنگ پالیسی کی وجہ سے نیشنل گرڈ پر انحصار کرنے والی غریب اور لوئر مڈل کلاس متاثر ہو رہی ہے۔ سولر صارفین بھی اپنی بات میں حق بجانب ہیں کہ انہوں نے حکومت کی پیشکش سے فائدہ اٹھایا اور سولر پینلز لگا لئے، غلطی سراسر حکومت کی ہے جس نے مہنگی بجلی پیدا کرنے والے کارخانے لگائے اور ان سے مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کئے۔ وزیر منصوبہ بندی جناب احسن اقبال اس کی توجیح بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں انوسٹمنٹ کرنے کیلئے کوئی تیار نہ تھا اس لئے حکومت مہنگی بجلی کے کارخانے لگانے پر مجبور ہوئی۔ یہ عذر گناہ بد تر از گناہ والی بات ہے۔ اس دور میں عوام اور پاکستان پر دو بڑے ظلم ہوئے۔ اول مہنگی بجلی ، دوم قطر سے مہنگی گیس خریدنے کا معاہدہ۔ ہر سال قطری گیس کے ٹینکرز عالمی منڈی میں ڈائیورٹ کئے جاتے ہیں۔غرض دوگونہ عذاب جان مجنوں را۔۔۔۔بلائے صحبت لیلی و فرقت لیلی۔
گذشتہ دہائی میں بجلی اور گیس کی قیمتوں نے عام آدمی پر جو بوجھ ڈالا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ہر گھر کے بجٹ کا بڑا حصہ ان یوٹیلیٹز پر خرچ ہو رہا ہے۔ بجلی اور ایندھن کے طور پر گیس کا استعمال ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے جسے عوام کیلئے وبال جان بنا دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے بعد تحریک انصاف کی حکومت بنی تو آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدوں پر نظر ثانی کی ابتدا ہوئی تا کہ عوام کی جان خلاصی کروائی جا سکے لیکن اب تک باوجوہ عوام کی گردن اس شکنجے سے چھڑوائی نہیں جا سکی۔ ایک طرف آئی پی پیز والے غلط معاہدے اور سسٹم کے لاسز عوام کیلئے سوہان روح بنے ہوئے تھے اوپر سے روشن پاکستان کے عنوان سے چھتوں پر سولر پینلز لگانے والوں کو نیٹ میٹرنگ کی پیشکش کر کہ ایک اور غلطی کا ارتکاب کیا گیا۔ نیٹ میٹرنگ کی پالسی بناتے وقت یہ نہ سوچا گیا کہ اس کا اثر بھی محروم طبقات پر پڑیگا۔ جن صارفین نے اپنی چھتوں پر سولر پینلز لگا لئے وہ مہنگی بجلی خریدنے سے بچ تو گئے لیکن یہ سولر صارفین نیشنل گرڈ پر ایک بوجھ بن گئے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی نے ان صارفین کیلئے نیشنل گرڈ کو مفت کی بیک اپ بیٹری بنا دیا ہے۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی بناتے وقت اس پر دھیان نہ دیا گیا کہ یونٹ کے بدلے میں یونٹ دینے کی پالیسی کے مضمرات کیا ہونگے۔ اس پالیسی نے سولر صارفین کو تو بہت فائدہ دیا، انہوں نے بے دریغ بجلی استعمال کی کیونکہ سولر پینلز ان کی ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی بنا رہے تھے۔ دن کے اوقات میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی ان صارفین نے کچھ تو رات میں استعمال کی اور باقی بجلی کمپنیوں کو بیچ دی۔ انکے لئے یہ فائدے کا سودا رہا لیکن نیشنل گرڈ پر انحصار کرنے والی عوام رل گئی۔ شاید ہی کوئی ایسا صارف ہو جس نے اپنی متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے کچھ لینا نہ ہو۔ اس پالیسی کا نقصان یہ ہوا کہ بجلی کمپنیوں نے یہ خسارہ عام صارفین پر ڈال کر پورا کیا۔ ایک طرف 466000 سولر صارفین ہیں جو نیٹ میٹرنگ سے مستفید ہو رہے ہیں جب کہ دوسری طرف 3 کروڑ 71 لاکھ عام پاکستانی صارفین ہیں جو اس پالیسی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ پالیسی پر لایا جائے۔ اس پالیسی سے سولر صارفین لا محالا متاثر ہونگے لیکن نیشنل گرڈ کے بوجھ میں کمی آئے گی۔ آئ پی پیز کے معاہدوں اور سسٹم میں موجود خرابیوں کے تناظر میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کا مذید چلنا بہت مشکل ہے، اس کی جگہ نیٹ بلنگ ہی ایک بہتر اور قابل عمل حل ہے۔ سولر صارفین کا اس میں نقصان بس اس حد تک ہو گا کہ وہ دن رات بجلی کا بے دریغ استعمال کرنے کی بجائے بجلی قدرے کفایت سے استعمال کرینگے۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ اس کے دفاع میں کیا حکومت اور کیا اپوزیشن والے سب ایک پیچ پر ہیں۔ کہنے کو یہ قومی رہنما ہیں لیکن ان کی سوچ “اپنے گھر” سے باہر نہیں نکل رہی۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب انکے بڑے قربانی دیتے ہیں اور یہاں خود غرضی کا عالم یہ ہے کہ اپنا اور صرف اپنا سوچا جا رہا ہے اور اس سوچ کو اس بات سے لنک کیا جا رہا ہے کہ حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ مسئلے کو درست تناظر میں نہ سمجھنے والی بات ہے۔ مہنگی بجلی سے عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ نیشنل گرڈ کے صارفین پر بوجھ میں کمی آسکے۔ یہ سولر انرجی کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں اور نہ ہی سولر صارفین کے خلاف بات ہے، پاکستان میں سولر انرجی کا بہت پوٹینشل ہے جس کو استعمال میں لانا چاہئیے۔ اس کے لئے حکومت کوئی ایسی پالیسی بنائے کہ تمام لوگ، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، برابری کی سطح پر اس سے مستفید ہو سکیں۔ سردست ریاست کو مہنگی بجلی کے بحران کا سامنا ہے جس سے اس طرح نمٹنے کی ضرورت ہے کہ شہریوں کے درمیان امتیازی سلوک دیکھنے کو نہ ملے۔ مزدور، دیہاڑی دار، کم تنخواہ والے اور چھوٹے کاروباری افراد جنکے لئے سولر پینلز لگانا مشکل ہے اور وہ اپنی بجلی کی ضرورت کیلئے نیشنل گرڈ کے محتاج ہیں انکا خاص طور پر خیال کرنا بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں ایک اور کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ حکومتی عہدیداروں، جیوڈیشری، اعلی فوجی قیادت اور وزارت توانائی کے افسران و اہلکاروں کو مفت بجلی دینے کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ عوام مہنگی بجلی کی وجہ سے جس اذیت سے گزرتے ہیں اس کا حکومت کو احساس کرنا چاہیئے اور اس کے ازالے کیلئے جو ہو سکے حکومت کو کرنا چاہئیے۔ عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے کیونکہ ایک طرف وہ ہیں جن کے پاس بہت کچھ ہے جبکہ دوسری طرف وہ ہیں جو دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ یہ خلیج ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھ رہی ہے جو کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں