تاریخِ عالم میں امن ہمیشہ ایک مقدس خواب رہاہے،مگراس خواب کی تعبیراکثرطاقت کے ہاتھوں مسخ ہوتی رہی ہے۔سلطنتِ روم سے لے کرجدیداقوامِ متحدہ تک،ہرعہدمیں امن کے نام پرایسے ادارے قائم ہوئے جوبظاہرانسانیت کے زخموں پرمرہم رکھنے آئے،مگررفتہ رفتہ خوداقتدار ، غلبے اورمفادات کے استعارے بن گئے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض حال کاحصہ نہیں رہتے،بلکہ مستقبل کی سمت متعین کر دیتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب تاریخ اپنے معمول کے بہاکوروک کرسوال کرتی ہے،کیاتم نے طاقت کوچنایاانصاف کو؟آج ہم ایسے ہی ایک نازک اورفیصلہ کن لمحے کے سامنے کھڑے ہیں، جہاںامنکے نام پرایک نیاعالمی ادارہ بورڈآف پیس وجودمیں آیاہے، ایک ایساادارہ جسے غزہ میں جنگ بندی،تعمیرِنواورعبوری حکمرانی کی نگرانی کافریضہ سونپاگیا،مگرجس کے خدوخال ابتداہی سے سوالات میں گھرے ہوئے ہیں۔یہ محض ایک ادارہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کی سمت متعین کرنے کی ایک کوشش ہے،ایک ایساتجربہ جس میں امن، طاقت کے ترازو میں تولاجارہاہے اوردنیا تذبذب، امیداور خوف کے سنگم پرکھڑی ہے۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِنواوراسرائیل وحماس کے مابین جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کے لئے جس ادارے کااعلان کیاگیا وہ بظاہرامن کاپیامبراور درحقیقت طاقت کے نئے بیانیے کامظہرہے۔ٹرمپ کے الفاظ میں،بورڈآف پیس کا مقصد اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانااورغزہ میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ بورڈآف پیسکاقیام ایک ایسے دورمیں عمل میں آیاہے جب عالمی سیاست میں اخلاقی اصول پس منظرمیں اور مفادات پیش منظرمیں ہیں۔انڈیاکواس بورڈمیں شمولیت کی دعوت دینامحض سفارتی روایت نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے شطرنجی کھیل کی ایک چال ہے، جس میں ہرمہرہ اپنے وزن سے زیادہ بوجھ اٹھانے پرمجبورہے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق، اس بورڈکا مقصد نہ صرف جنگ بندی کی نگرانی بلکہ غزہ میں ایک عبوری حکومت کیقیام کی سرپرستی بھی ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ کیاامن بندوق کی نالی سے نکل سکتاہے؟ اورکیاوہ امن،جوایک طاقتورصدرکی صوابدیدپرکھڑا ہو،دیرپا ہو سکتا ہے؟تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب بھی کسی طاقتور ریاست نے کسی کمزورخطے میں عبوری نظم کااعلان کیا،تواس کے پیچھے نظم سے زیادہ اختیاراورنگرانی سے زیادہ تسلط پوشیدہ رہا۔عالمی تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہرامن کا اعلان لازماامن پرمنتج نہیں ہوتا۔بظاہر اس بورڈکامقصدنہ صرف جنگ بندی کی نگرانی بلکہ فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی سرپرستی بتایاگیاہے اوریہی پہلو اسے محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اورتاریخی مسئلہ بنادیتاہے۔
غزہ،جوپہلے ہی محاصرے،بمباری اورانسانی المیوں کی علامت بن چکاہے،اب ایک نئے عالمی تجربے کی آماجگاہ بننے جارہاہے۔ سوال یہ نہیں کہ تعمیرِنو کی ضرورت ہیسوال یہ ہے کہ کس کی نگرانی میں،کن شرائط پر،اورکس کے مفادمیں؟
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے غزہ کی تعمیرنو اور اسرائیل وحماس کے درمیان جنگ بندی کومستقل بنانے کے لئے جس بورڈکااعلان کیا، وہ بظاہر انسانیت کا پیامبر ہے،مگرباطن میں اقتدار کی وہی پرانی خواہش موجزن ہے جوتاریخ کے ہرسامراجی دورمیں نظرآتی ہے۔یہ سوال بے محل نہیں کہ کیاامن وہ شے ہے جسے طاقتور عطاکرے؟یاامن وہ امانت ہے جو انصاف کے بغیرقائم ہی نہیں رہ سکتی؟
مودی ان رہنماں میں شامل تھاجسے اس بورڈ کی دعوت دی گئی،یہ دعوت ایک رسمی اقدام نہیں تھی بلکہ انڈیا کے خطے میں آبادی کے لحاظ سے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے ذمہ داری عائد کرنے کی کوشش بھی تھی۔ انڈیاکوبورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دینامحض سفارتی آداب نہیں،بلکہ ایک بڑاسیاسی امتحان ہے۔ مودی کوبورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دینامحض رسمی اقدام بھی نہیں تھا۔یہ دراصل انڈیاکوایک ایسے موڑپرلاکھڑا کرنے کی کوشش تھی جہاں ہرراستہ کسی نہ کسی قیمت کاتقاضاکرتاہے مگرجب ڈیوس میںبورڈآف پیس کاباضابطہ آغازہواتوانڈیاکی غیرموجودگی نے کئی سوالات کوجنم دیا۔یہ خاموشی سفارتی حکمتِ عملی تھی یا فکری تذبذب؟ اوراس غیرموجودگی نے خودایک سفارتی بیان کی حیثیت اختیارکرلی ہے۔انڈیا، جوخودکوایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طورپرپیش کرتاہے،اس مرحلے پرفیصلہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیتاہے۔شایددہلی کے ایوانوں میں یہ سوال گردش کررہاہے کہ یہ بورڈامن کی شمع ہے یاامریکی مفادات کاچراغ؟
جب ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے باضابطہ آغازپرانڈیاکی غیرموجودگی خودایک سیاسی بیان بن گئی۔ دہلی کی اس خاموشی میں کئی آوازیں چھپی تھیں۔ ایک آوازمفادات کی اور دوسری اس خوف کی کہ کہیں فیصلہ نہ کرنے کافیصلہ بھی نقصان دہ ثابت نہ ہو۔تاہم یہ وہی علامتی تذبذب ہے جوقوموں کے ذہنی انتشارکی چغلی کھاتاہے۔مودی کانام دعوت نامے میں شامل تھا، مگرڈیوس میں بورڈکے باضابطہ آغازپرانڈیاکی غیرموجودگی نے خاموشی سے بہت کچھ کہہ دیا۔یہ خاموشی شایداس احساسِ ندامت کااظہارہے کہ ہردعوت عزت نہیں ہوتی اور ہر پلیٹ فارم غیرجانبدارنہیں ہوتا۔
غزہ،جوپہلے ہی تاریخ کے سب سے طویل محاصروں،بے مثال تباہی اورانسانی کرب کی علامت بن چکاہے،اب ایک نئے عالمی تجربے کی تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔تعمیرنوکی بات ضرورکی جارہی ہے،مگریہ واضح نہیں کہ یہ تعمیراینٹوں کی ہوگی یااختیارکی؟ اورعبوری حکومت،اگرقائم ہوئی،تووہ عوام کی نمائندہ ہوگی یاعالمی طاقتوں کی نگرانی میں چلنے والاایک انتظامی سایہ؟
پاکستان،ترکی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک کابورڈآف پیس میں شامل ہوناایک طرف تواس امیدکی علامت ہے کہ شایداس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی المیے میں کچھ کمی آئے،مگردوسری طرف یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ عالمی سیاست میں شمولیت اکثراختیارکا نہیں،بقاء کاسوال بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان،ترکی، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک کا اس بورڈ میں شامل ہونایہ بھی ظاہر کرتاہے کہ عالمی سیاست میں اصولوں سے زیادہ جغرافیہ اورمعیشت بولتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک نے دستخط کیے،مگرتقریب میں محض19ممالک کی موجودگی اس حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے کہ بہت سے دستخط خوف ،دبایا مصلحت کے قلم سے کیے گئے ہیں یعنی اس امرکی شہادت ہے کہ بہت سے ممالک نے کاغذپر شمولیت اختیارکی،مگردل سے نہیں۔یہ فرق ہمیں بتاتاہے کہ عالمی سیاست میں تحریری رضامندی اورعملی شمولیت ہمیشہ ہم معنی نہیں ہوتیں ۔
ٹرمپ نے اس موقع پرکہا’’آپ دنیاکے سب سے طاقتورلوگ ہیں‘‘دراصل ایک نئے عالمی فلسفے کی ترجمانی کرتاہے۔ٹرمپ کایہ جملہ محض خطاب نہیں،بلکہ ایک نظریہ ہے۔ طاقت کی وہ نئی لغت ہے جس میں اخلاق،قانون اورانصاف ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
(جاری ہے)