رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں دن کا روزہ اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس مبارک مہینہ میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے۔
یہ چاند کا مہینہ ہےجو موسم بدلتا رہتا ہے، کبھی گرمیوں میں، کبھی بہار میں، کبھی برسات میں اور کبھی سردیوں میں آتا ہے۔ رمضان المبارک تینتیس برسوں میں ہمارے موسموں کا چکر مکمل کر لیتا ہے اور اس طرح ایک مسلمان بالغ ہونے کے بعد طبعی عمر تک سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے کہ سال کا سب سے چھوٹا دن بھی اسے مل جاتا ہے اور سب سے بڑے دن کے روزے کا ثواب بھی وہ حاصل کر لیتا ہے، ہر ذوق کے لیے اس میں تسکین کا سامان فراہم ہو جاتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے تین چیزیں زیادہ پسند ہیں: گرمیوں میں روزے رکھنا، مہمان کی خدمت کرنا، اور تلوار لے کر دشمن کے خلاف جہاد کرنا۔
گرمیوں کے روزے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی پسند ہیں۔ ایک واقعہ پڑھا تھا کہ پرانے زمانوں میں ایک صاحب مکہ مکرمہ سے طائف کی طرف جا رہے تھے، پیدل سفر کا زمانہ تھا۔ مکہ مکرمہ گرم شہر ہے اور موسم گرما میں اس کی ریت کی تپش کا ایک عجیب رنگ ہوتا ہے جبکہ طائف اس سے زیادہ دور نہیں ہے مگر ٹھنڈا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے متلاشیوں کا مرکز بنا رہتا ہے، جیسے ہمارے ہاں راولپنڈی گرم شہر ہے مگر اس سے تھوڑے فاصلے پر مری ٹھنڈا علاقہ ہے۔ وہ صاحب مکہ مکرمہ سے طائف جا رہے تھے، راستہ میں ایک دوست ملا جو طائف سے مکہ مکرمہ کی طرف آرہا تھا، ملاقات ہوئی، ایک دوسرے کا حال پوچھا اور دریافت کیا کہ کدھر جا رہے ہیں؟ ایک نے جواب دیا کہ رمضان المبارک قریب آرہا ہے، مکہ مکرمہ گرم علاقہ ہے اس لیے طائف جا رہا ہوں کہ ٹھنڈے علاقے میں روزے آرام سے رکھ لوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں بھی اسی لیے طائف سے مکہ مکرمہ جا رہا ہوں کہ طائف ٹھنڈا علاقہ ہے روزے کا مزہ نہیں آئے گا، مکہ مکرمہ چلتا ہوں جہاں خوب گرمی ہوگی، پیاس لگے گی اور روزے کا مزہ آئے گا۔
یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے رنگا رنگ کے ذوق اور مزاج عطا کیے ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں جب جولائی اور اگست کے روزے تھے اور گرمی، پسینے اور پیاس نے روزوں کو خوب چمکا رکھا تھا تو بعض حضرات کی طرف سے یہ تجویزیں سامنے آئیں کہ بھٹی پر کام کرنے والے مزدور اور کھیت میں محنت کرنے والے کسان کے لیے یہ روزے بہت مشکل ہیں، اس لیے علمائے کرام کو ان کے لیے کوئی آسانی پیدا کرنی چاہیے اور اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔ یہ اجتہاد بھی ہمارے ہاتھ میں خوب ہتھیار ہے کہ جہاں کوئی مشکل محسوس ہوئی اجتہاد کے نام سے آسانیاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ ایک صاحب نے اس زمانے میں ایک قومی اخبار کے ذریعے تجویز دی کہ اگر علمائے کرام اجتہاد سے کام لے کر فروری کے مہینہ کو رمضان قرار دے دیں تو دو فائدے ہوں گے۔ ایک یہ کہ روزوں کا موسم ہمیشہ کے لیے مناسب ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ یکم مارچ کو عید قرار دینے سے ہر سال دو یا تین عیدوں کا مسئلہ بھی ختم ہو جائےگا۔ مگر علمائے کرام کے لیے ایسی تجویزوں پر کان دھرنا مشکل تھا کہ اجتہاد کی کچھ حدود ہیں، طریق کار ہے اور شرائط ہیں جو صدیوں سے طے شدہ ہیں، ان کے دائرے میں رہنے والا عمل ہی اجتہاد کہلاتا ہے ورنہ الحاد بن جاتا ہے۔ اور اگر ان حدود اور شرائط کی پابندی کیے بغیر ’’آزاد اجتہاد‘‘ کا دروازہ کھل جائے تو دین کی شکل کچھ سے کچھ ہو جائے بلکہ اب تک کچھ سے کچھ ہو چکی ہوتی۔
چند سال قبل کی بات ہے کہ برطانیہ میں ٹرین کے سفر کے دوران ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہا کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کر سکتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیا میرے پاس اجتہاد کی کوئی اتھارٹی ہے؟ میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا دقت درپیش ہے؟ کہنے لگا کہ ملازم آدمی ہوں اور نماز بھی پابندی سے پڑھتا ہوں لیکن ملازمت کے دوران مجھے ظہر اور عصر کے لیے چھٹی اور موقع نہیں ملتا اس لیے میں اس بات کی اجازت چاہتا ہوں کہ ظہر کی نماز فجر کے ساتھ پیشگی پڑھ لیا کروں اور عصر کی نماز مغرب کے ساتھ لیٹ ادا کر لیا کروں۔ میں نے سوچا کہ اب اس وقت اس نوجوان کو اجتہاد کا مطلب اور اس کی حدود سمجھانا آسان بات نہیں ہے اس لیے میں نے کہا کہ بھائی! میں ففٹی ففٹی معاملہ کر سکتا ہوں آپ کا سارا کام نہیں کر سکتا۔ یعنی آپ کو یہ اجازت دے سکتا ہوں کہ اگر دفتر یا کارخانے میں واقعی نماز کی گنجائش نہیں ملتی تو مجبورًا ظہر اور عصر دونوں نمازیں شام کو مغرب کے ساتھ پڑھ لیا کریں کہ قضا تو ہوگی مگر نماز ہو جائے گی۔ لیکن ظہر کی نماز فجر کے ساتھ پیشگی پڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس طرح سرے سے نماز ہوگی ہی نہیں۔ اس لیے آپ ہر ممکن کوشش کریں کہ ظہر اور عصر کو اپنے وقت میں ہی کسی طرح پڑھ لیا کریں لیکن اگر کسی صورت میں ممکن نہ ہو تو پیشگی پڑھنے کی بجائے بعد میں اگلی نماز کے ساتھ ادا کر لیں جو قضا کی صورت میں ادا ہو جائے گی۔
(جاری ہے)