(گزشتہ سےپیوستہ)
یہ بیان دراصل عالمی برادری کومخاطب ہے:اگرآج خاموشی اختیارکی گئی توکل کانقصان مشترک ہوگا۔مگراب سوال یہ ہے کہ جب جنگ چھڑ چکی ہوتوکیاعالمی برادری محض بیانات تک محدودرہے گی یاعملی سفارت کاری کاراستہ اختیار کرے گی؟افغانستان کی جانب سے باقاعدہ حملوں کی خبریں آ رہی ہیںسرحدی چوکیوں پر ولہ باری، ضائی حدود ی خلاف ورزی کے الزامات، ور عض مقامات پر زمینی جھڑپیںتو ورت حال ایک محدود نازع سے بڑھ کر کھلی جنگ کے دہانے پرپہنچ چکی ہے۔ جنگ کا آغاز ہمیشہ تیز ہوتا ہے،مگراس کااختتام اکثرطویل اور تھکا دینے والا۔
مگراس بیچ ایک اورپہلوبھی ہے،تجارت کی بندراہیں،معیشت کی رکی ہوئی سانسیں اورعوامی اضطراب، جب سرحدی گزرگاہیں بندہوتی ہیں تو بارودسے زیادہ نقصان روٹی کوپہنچتاہے۔معاشی تنگی سماجی بے چینی کوجنم دیتی ہے اوریہی بے چینی شدت پسندی کے لئے نرم زمین بن سکتی ہے۔گزشتہ کئی ماہ سے اس نئی صورت حال میں سب سے بڑا سوال عسکری نہیں بلکہ معاشی اورانسانی ہے۔ سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بندش،تجارت کی معطلی، ایندھن اورخوراک کی قلت، بیانات تند اورپاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔یہ سب جنگ کے وہ پہلوہیں جوگولی سے زیادہ دیرپازخم دیتے ہیں۔پاک،افغان تجارت جوکبھی اربوں ڈالرتک پہنچتی رہی،اب تقریباًمنجمد ہے۔سرحدی آبادیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے،اورمہاجرین کے ایک نئے ریلے کاخدشہ سراٹھارہاہے۔یوں عسکری کشیدگی معاشی بحران کو اورمعاشی بحران عسکریت کوجنم دیتاہے۔سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کب تک اس کشیدگی کابوجھ اٹھاسکتے ہیں؟کیامکالمے کی کوئی کھڑکی ابھی باقی ہے،یاتاریخ ایک بارپھررجیم چینج کے پرانے نسخے کودہرانے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
ادھرپاکستان اپنے آپ کودہشت گردی کے مقابل ایک حصارقراردیتاہے۔پاکستان کے مطابق خطرہ صرف کوئٹہ یالاہورتک محدودنہیں بلکہ اس کی پرچھائیں مغربی دارالحکومتوں تک پھیل سکتی ہیں۔اس موقف کی تقویت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان رپورٹس سے بھی ہوتی ہے جن میں افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کاذکرملتاہے،جن میں القاعدہ کانام بھی شامل ہے۔چین،ایران، تاجکستان اورازبکستان جیسے ممالک کی تشویش اس امرکی دلیل ہے کہ معاملہ سرحدی کشمکش سے بڑھ کرعلاقائی استحکام کاسوال بن چکاہے۔
پاکستان خودکوفرنٹ لائن اسٹیٹ قراردیتاہے یعنی وہ دیوارجس پرپہلی ضرب پڑتی ہے۔دیوار والا استعارہ دراصل2001ء کے بعدکی پاکستانی حکمتِ عملی کی توسیع ہے،جب پاکستان نے خودکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اولین مورچہ قراردیاتھا۔یہ بیانیہ عالمی ہمدردی اورمعاونت حاصل کرنے کاذریعہ بھی ہے کیونکہ جودیوار گرتی ہے،اس کے ملبے تلے سب دب سکتے ہیں۔یعنی پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی حصارہے۔ان کا کہنا ہے کہ خطرہ صرف مقامی شہروں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی سے جڑا ہواہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ نے افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جن میں القاعدہ بھی شامل ہے۔ہمسایہ ممالک تاجکستان، ایران ،ازبکستان اورچین سب تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب علاقائی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں دولتِ اسلامیہ خراسان اورالقاعدہ کی موجودگی کی تصدیق علاقائی ممالک کے خدشات کوتقویت دیتی ہے۔سلامتی کونسل کی رپورٹ میں اس علاقائی اضطراب کے واضح ذکرنے خطے میں کشیدگی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ چین کوسنکیانگ کے تناظرمیں،ایران کوسرحدی سلامتی کے حوالے سے،اور تاجکستان کوغیر ملکی جنگجوں کی نقل وحرکت پرتشویش ہے۔یہ مسئلہ اب محض پاک۔افغان تنازع نہیں رہا،بلکہ وسطی وجنوبی ایشیاء کی مشترکہ سلامتی کاسوال بن چکا ہے۔ اس صورتِ حال پرچین، ایران،تاجکستان اورازبکستان سمیت متعدد ممالک تشویش کااظہارکر چکے ہیں۔
عالمی منظرنامے پربھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔دنیا پہلے ہی یوکرین اورمشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں الجھی ہوئی ہے اوراب توخطے میں ایران پرامریکی واسرائیلی حملوں نے مزیدتشویش پیدا کر دی ہے۔افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظرانداز کرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔اب اگرپاک، افغان جنگ طول پکڑتی ہے تویہ خطہ ایک بارپھرعالمی طاقتوں کی توجہ کامرکزبن سکتاہے۔
افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظرانداز کرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔پاکستان دہشت گردوں اوردنیاکے مابین ایک دیوارہے۔لیکن دیواریں اگر مسلسل ضرب سہتی رہیں توان میں دراڑیں پڑہی جاتی ہیں۔ہدف صرف کوئٹہ یالاہورنہیں،بلکہ لندن اور نیویارک تک پھیلاہواہے۔شدت پسندی سرحدی پٹیوں سے نکل کرشہر ی مراکزتک پہنچ چکی ہے،جس سے پاکستان کی برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ریاستی ادارے اسے وجودی چیلنج کے طورپردیکھ رہے ہیں۔
شام کے محاذ کے سرد ہونے کے بعدمشرقِ وسطیٰ کے جنگجوافغانستان کارخ کررہے ہیں۔عالمی سیاست اس وقت دیگرتنازعات میں الجھی ہوئی ہے، جس کے باعث افغانستان عالمی ترجیحات میں پیچھے چلاگیا ہے۔ یعنی دنیااس وقت روس۔یوکرین تنازع اورایران۔ امریکا کشیدگی میں الجھی ہوئی ہے،مگر افغانستان کی خاموش آندھی کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ بن سکتی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اس بحران کونظراندازکرنامستقبل میں بڑے خطرات کودعوت دے سکتا ہے۔
وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے بیانات سے پہلے ہی یہ تاثرابھراتھاکہ اگرکابل کی موجودہ انتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کوپورانہ کرے تو متبادل امکانات پر غور کیاجاسکتاہے۔مگراب جنگ کے آغازنے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنادیاہے۔تاہم کئی سفارتی حلقے اس حکمتِ عملی کو پرخطرہ قراردیتے ہیں۔
(جاری ہے)