ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے جہاں ایک طرف خطے میں سلامتی کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے وہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے مشکوک کردار اور منافقانہ طرز عمل کو بھی بے نقاب کر دیا ہے ۔آج یہ سوال غیر جانبدار حلقے اور بھارت کی حزب اختلاف پوری شد و مد سے کر رہی ہے کہ ایران پر حملے اور ان کے سپریم لیڈر علی خامنائی کی المناک شہادت پر ہندوستان کے وزیراعظم کا موقف منافقت اور بے اصولی پر مبنی ہے۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ بھارت ہمیشہ ایران سے اسٹریٹیجک تعلقات کو بہت اہمیت دیتا آیا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کو افغانستان سے رابطے رکھنے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے ہندوستان نے ہمیشہ ایران سے اپنے تعلقات خوشگوار اور مستحکم رکھے تھے۔ تاہم ایران پر اسرائیل کے حملوں سے کچھ دیر پہلے نریندر مودی کی تل ادیب میں نیتن یاہو سے ملاقات کے حوالے سے بہت سے چشم کشا حقائق اب میڈیا پر منکشف ہو رہے ہیں۔ یہ سوال اب بی جے پی کے لئے مستقل شرمندگی بنتا جارہا ہے کہ مودی ایرانطپر حملے سے پہلے اسرائیل کیوں گیا تھا ؟ انٹرنیشنل میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی تنقید نے ہندوستان کے اوسان خطا کر دئے ہیں۔ ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے ایسے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن کی گونج عالمی میڈیا پر تادیر سنائی دیتی رہے گی۔ یہ تاثر جڑ پکڑ گیا ہے کہ مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کر دیا۔ یہ انکشافات بھی ہوئے ہیں کہ مودی نے دورہ اسرائیل میں نتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کروائی ۔
سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں۔ امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں بھی استعمال کر رہی ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایک بڑے ملک کے سربراہ ہونے کے باوجود مودی نتن یاہو کی انتخابی مہم میں پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال ہوئے۔ اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے دی وائر میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دے کر بھارتی ریاست کی گراوٹ اور جگ ہنسائی پر مہر لگا دی ہے۔ بھارتی جریدے کے مطابق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نتن یاہو کی انتخابی مہم میں تمام ریاستی و سفارتی قواعد پامال کر کے ناجائز مدد فراہم کی۔ مودی کا دورہ متنازع ساکھ کی اسرائیلی حکومت کیلئے سیاسی سہارا بنا ہے۔ مودی کواسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا میڈل محض ایک نمائشی اقدام تھا جو کہ بھارت کے غیر معمولی خوش آمدانہ طرز عمل کا منطقی نتیجہ تھا۔ مغربی جریدے بلوم برگ کے مطابق مودی کا ایران حملے سے پہلے دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔ الجزیرہ کے مطابق بھارت نے ماضی قریب میں اسرائیل کوغزہ میں نسل کشی کے لئے ہر طرح کی امداد دی ہے – ترک میڈیا کی رائے ہے کہ ایران کے معاملے پر مودی اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش رہے۔ یہ رائے وزن رکھتی ہے کہ مودی کا اسرائیل کا دورہ دراصل چابہار بندرگاہ کے تحفظ کیلئے پس پردہ یقین دہانیوں کے حصول کے لئے تھا۔ اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چاہ بہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری ہے۔ مودی نے اپنے دیرینہ دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات بچانے کے لئے اسرائیل کو درخواست کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی بمباری میں چاہ بہار بندرگاہ محفوظ رہی۔ بھارتی ناقدین کا یہ سوال مودی کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے کہ کیا قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دینا ریاست کے وقار کے منافی نییں؟ یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ ایک کاروباری فائدے کے لئے مودی ایرانی قیادت کی شہادت پر خاموش رہے ۔بھارتی اپوزیشن نے اسرائیلی دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ کانگریس، کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کی مودی کی منافقانہ سیاست پر کھلی تنقید نے بی جے پی کی مجموعی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیاہے۔ ملک کے اندر بھی عوامی سطح پر شکوک و شبہات اور تنقید میں اضافہ یو چکا ہے۔ مودی کے غلط سفارتی فیصلوں پر مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلسل احتجاج جاری ہے مقبوضہ کشمیر میں حکومتی عملداری ختم ہو چکی ہے۔ مودی نے ایران سے تمام فائدے اٹھا کر آنکھیں پھیر کر ایک مرتبہ پھر بھارت کو ایک ناقابلِ اعتبار اتحادی ثابت کیا ہے۔