Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سوشل میڈیا،رویوں اور سماج کی بدلتی ہوئی کہانی

صدیوں پر محیط انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ابلاغ صرف معلومات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ تہذیبوں کی تعمیر و تشکیل کا بنیادی وسیلہ رہا ہے۔ ہر دور کی ٹیکنالوجی نے انسانی رویوں اورسماجی ڈھانچوں پر گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔مگر اکیسویں صدی میں جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نےہر فرد کو خود ایک ’’میڈیا ہائوس‘‘ بنا دیا تو ابلاغ کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹِک ٹوک اور یو ٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نےاظہارِ رائے کو جمہوری بھی بنایا اور بےلگام بھی۔ آج سوشل میڈیا محض ایک ایپلی کیشن یاویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام بن چکاہےجو ہمارےرویوں، ترجیحات، اقدار،سیاست، معیشت، مذہبی فکر،خاندانی تعلقات اور حتی کہ ہماری نفسیات تک پر گہرے اثرات مرتب کررہا ہے۔ اس تاریخی تمہید کو سامنے رکھاجائے تو واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کی آمد محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی تبدیلی ہے،جس کےمثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کو سمجھنا ناگزیر ہے۔سب سے پہلے اگر ہم انفرادی سطح پر اثرات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہےکہ سوشل میڈیا نےانسان کےاظہارکو بے مثال آزادی دی ہے۔ پہلے اخبارات میں جگہ محدود تھی، ٹی وی پر وقت مخصوص تھا،مگر اب ہر شخص اپنی رائے، تصویر، ویڈیو اور احساسات کو لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اس آزادی نے نوجوان نسل میں خود اعتمادی پیدا کی، تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور چھوٹے شہروں کے افراد کو بھی عالمی سطح پر متعارف ہونے کا موقع دیا۔
بےشمار نوجوانوں نےڈیجیٹل مارکیٹنگ، کانٹینٹ کریئیشن اور آن لائن بزنس کے ذریعے روزگار کے نئے راستے تلاش کئے۔ تعلیمی اداروں کے لیکچرز،آن لائن کورسزاورعلمی مباحث اب چند کلکس کی دوری پر ہیں۔ وباء کے دور میں یہی پلیٹ فارمز تعلیم، کاروبار اور سماجی رابطے کا سہارا بنے۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا نے سماجی ہم آہنگی اور معلوماتی رسائی میں انقلابی کردار ادا کیا۔تاہم یہی آزادی جب ذمہ داری سے عاری ہو جائے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ تصدیق کے بغیر خبریں شیئر کرنا، کسی کی کردار کشی کرنا، مذہبی یا نسلی نفرت کو ہوا دینا اور ذاتی زندگی کو تماشہ بنا دینا عام ہوتا جا رہا ہے۔ فیک نیوز ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے باعث معاشروں میں بداعتمادی، خوف اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی واقعے کی ویڈیو یا تصویر بغیرسیاق و سباق وائرل کی جاتی ہے اور چند گھنٹوں میں رائے عامہ تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ہمارے رویوں کا ہے۔ ہم تحقیق کے بجائے سنسنی کو ترجیح دیتے ہیں، دلیل کے بجائے جذبات کو فوقیت دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ بیٹھتے ہیں۔نفسیاتی سطح پر بھی سوشل میڈیا کے اثرات گہرے ہیں۔ مسلسل اسکرین ٹائم، لائکس اور کمنٹس کی دوڑ، دوسروں کی خوشحال زندگیوں کا موازنہ اورخودکو کم تر سمجھنے کا احساس نوجوانوں میں بےچینی اور ڈپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ ایک مصنوعی دنیا میں مثالی تصاویر اورفلٹرشدہ زندگی دیکھ کر حقیقی زندگی پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس سے خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے اور انسان اپنی اصل شخصیت کے بجائے ایک ڈیجیٹل شخصیت بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ خاندانی اور سماجی تعلقات بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں رہے۔ ایک ہی گھر میں رہنےوالے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہونے کے باوجود اپنے اپنے موبائل میں گم رہتے ہیں۔ گفتگو کی جگہ چیٹنگ نے اور ملاقاتوں کی جگہ ویڈیو کالز نے لے لی ہے۔ بزرگ نسل اس تبدیلی کو اکثر اقدار کے زوال کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ نوجوان اسے جدید دور کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ یوں ایک نسلی خلیج بھی پیدا ہو رہی ہے۔سیاسی میدان میں سوشل میڈیا نے غیر معمولی طاقت حاصل کر لی ہے۔ انتخابی مہمات، احتجاجی تحریکیں، پالیسی مباحثے اور حکومتی بیانات سب آن لائن منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ عمل جمہوریت کےلیےمثبت ہوسکتا ہےکیونکہ اس سے احتساب کا دائرہ وسیع ہوتا ہے،مگرجب یہی پلیٹ فارمزجھوٹے پروپیگنڈےاور نفرت انگیز مہمات کے لئے استعمال ہوں تو جمہوری عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔
معاشی میدان میں بھی سوشل میڈیا نے کاروبار کے انداز بدل دئیے ہیں۔ چھوٹے تاجر بھی اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کر سکتے ہیں، اشتہارات مخصوص ہدفی گروہ تک پہنچائے جا سکتے ہیں اور کسٹمر سے براہ راست رابطہ ممکن ہو گیا ہے۔ انفلوئنسر مارکیٹنگ ایک باقاعدہ صنعت بن چکی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ صارفین پر غیرضروری خریداری کا دبا ئو بھی بڑھا ہے۔ مذہبی اور اخلاقی پہلو سے بھی سوشل میڈیا نے نئے سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ایک طرف دینی تعلیمات، خطبات اور قرآنی درس آن لائن دستیاب ہیں جس سے آگہی میں اضافہ ہوا ہے، دوسری طرف مذہبی مباحثے اکثر تلخ اور غیر مہذب انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ تعلیمی میدان میں سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ طلبہ علمی گروپس، ریسرچ پیجز اور آن لائن لیکچرز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر یہی پلیٹ فارم توجہ کی کمی اور وقت کے ضیاع کا سبب بھی بنتا ہے۔ مختصر ویڈیوز اور فوری تفریح کی عادت مطالعے کی سنجیدگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو ڈیجیٹل لٹریسی سکھائی جائے، یعنی معلومات کو پرکھنے، وقت کا درست استعمال کرنے اور آن لائن رویوں کی اخلاقیات سمجھنے کی تربیت دی جائے۔سوشل میڈیا نے سماجی تحریکوں کو بھی نئی قوت دی ہے۔ خواتین کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ، انسانی ہمدردی اور فلاحی سرگرمیوں کے لئے آن لائن مہمات نے عالمی توجہ حاصل کی۔ کسی حادثے یا قدرتی آفت کے وقت امدادی سرگرمیاں تیزی سے منظم ہو سکتی ہیں۔ یہ پہلو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت اور سمت درست ہو تو یہی پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں نوجوان آبادی کا تناسب زیادہ ہے، سوشل میڈیا کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہ نوجوانوں کی رائے سازی، سیاسی شعور، مذہبی فہم اور سماجی ترجیحات کو متاثر کرتا ہے۔ اگر انہیں مثبت سمت دی جائے تو یہی نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں ملک کا روشن چہرہ بن سکتے ہیں اور اگر رہنمائی نہ ہو تو وہ افواہوں اور انتہا پسندی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماں اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنقیدی سوچ اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نہ مکمل طور پر نعمت ہے نہ مکمل طور پر زحمت۔یہ ایک طاقت ہے جس کا استعمال ہمارے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خدشات بھی پیدا ہوئے اور مواقع بھی۔ سوشل میڈیا وقت کے ساتھ ساتھ ایک متوازن مقام حاصل کرے گا بشرطیکہ ہم اپنے رویوں کو ذمہ داری، تحقیق، برداشت اور اخلاقیات کے اصولوں پر استوار کریں۔ اگر ہم نے اسے محض تفریح، سنسنی اور ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا لیا تو یہ ہمارے سماجی طور پر کمزور کر دے گااور اگر ہم نے اسے علم، مکالمے اور مثبت تبدیلی کا وسیلہ بنایا تو یہ ہمارے معاشرے کو فکری طور پر مضبوط بنا سکتا ہے۔ چنانچہ اصل سوال سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کا ہے، ہم جس رخ پر چلیں گے، یہ طاقت اسی رخ پر ہمیں آگے لے جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں