Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

افغان طالبان کے اہم ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے

پاکستان اور افغانستان کے مابین کئی روز سے جاری جنگ کے لیئے ضروری ہو گیا ہے کہ یہ اپنی منطقی انجام تک پہنچے اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔افغان طالبان رجیم پچھلے کئی برسوں سے القاعدہ،بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی جس طرح سرپرستی اور مالی فنڈنگ کر رہی ہے،بڑی ہی تشویش ناک ہے۔تمام قصے میں افغانستان کے ساتھ بھارت بھی پوری طرح ملوث ہے۔دونوں ہی نہیں چاہتے پاکستان میں امن ہو اور پاکستان دنیا کو ترقی کے نئے سفر کی طرف گامزن ہوتا نظر آئے۔افغانستان کی تاریخ دیکھیں تو یہ ہزاروں سال پرانی ہے۔اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے افغانستان سکندر اعظم،منگولوں اور مغلوں کی گزر گاہ رہا۔1747 ء میں احمد شاہ درانی نے جدید افغان ریاست کی بنیاد رکھی۔19ویں اور 20صدی میں برطانیہ اور سوویت یونین سے ٹکرانے کے بعد 1979ء سے یہ ملک مسلسل جنگ کی حالت میں ہے۔یہاں سے سوویت انخلا، امریکی مداخلت اور ملک کے طول و عرض میں ہونے والی خانہ جنگی اور اقتدار پر افغان طالبان کے قبضے سے افغانستان کئی اہم ادوار سے گزرا۔یہ تسلسل اب بھی قائم اور جاری ہے۔افغانستان کی شر انگیزی سے پاکستان بالکل بھی محفوظ نہیں۔بلوچستان اور کے پی کے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے صرف افغانستان ہی نہیں،بھارت بھی ہے۔یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیل بھی افغان طالبان رجیم کو اپنے مذموم مقاصد کے لیئے استعمال کر رہا ہے۔جس کے عوض انہیں کروڑوں ڈالر دئیے جاتے ہیں۔بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو دیا جانے والا دنیا کا جدید ترین اسلحہ اس کے علاوہ ہے۔قبل از اسلام افغانستان آریائی قبائل کا گڑھ تھا۔
327 قبل مسیح سکندر اعظم کے زیر اثر رہا۔ یہاں بدھ مت کے پیروکار بھی کثیر تعداد میں تھے۔ 1747 ء میں احمد شاہ درانی نے یہاں ابدالی سلطنت کی بنیاد رکھی جو ایک جدید افغان ریاست تھی۔اس اعتبار سے احمد شاہ درانی کو جدید افغانستان کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔19ویں صدی میں افغانستان برطانیہ کے زیر اثر تھا لیکن 1919ء میں شاہ امان اللہ خاں کے دور میں افغانیوں نے طویل جنگ کے بعد برٹش سامراج سے آزادی حاصل کی۔1979ء میں جب سوویت یونین افغانستان پر حملہ آور ہوا اور اندر گھس آیا تو سوویت انخلا کے لئے پاکستان کی مدد سے افغانیوں نے ایک طویل گوریلا جنگ لڑی۔اسی گوریلا جنگ کے دوران افغان مجاہدین کا وجود بھی عمل میں آیا۔جس کے بعد افغانستان میں ایک ناختم ہونے والی خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔ 1996ء میں طالبان اقتدار میں آ گئے۔یہ اقتدار انہوں نے طویل جدوجہد اور گوریلا لڑائی کے بعد زبردستی حاصل کیا۔افغانستان پر طالبان رجیم کا قبضہ ہے۔یہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔اسی لئے وہاں منتخب حکومت نہیں۔آنے والی دہائیوں میں بھی اس کے آثار نظر نہیں آتے۔اپاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی ایک بار پھر خطے کے امن و استحکام کے لئے سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔واضح رہے افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں مبینہ بلااشتعال کارروائیوں کے بعد گزشتہ سے پیوستہ ہفتے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کابل،پکتیا اور قندھار میں پاکستانی فضائیہ نے افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جومکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ان حملوں میں طالبان کے دو سو سے زیادہ اہلکار مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔پاکستان نے اس فضائی کارروائی کو دہشت گردوں کے خلاف ایک بروقت مناسب اقدام قرار دیا ہے۔زمینی کارروائی میں بھی پاک فوج نے افغان طالبان کی کئی سرحدی پوسٹوں کو نقصان پہنچایا اور پیش قدمی کرتے ہوئے کئی افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔جہاں اب پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے مابین اس کشیدگی نے اس لمحے مزید شدت اختیار کر لی جب افغان وزارت دفاع نے دعوی کیا کہ ان کی جوابی کارروائی میں پاکستان کے اہم شہروں اسلام آباد،نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم پاکستان کی جانب سے اس افغانی دعوے کی سختی سے تردید کی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا درحقیقت چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا۔پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں کالعدم شدت پسند عناصر کی طرف سے کی گئیں جنہیں افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں-ان حالات اور درپیش سیکورٹی خدشات کے پیش نظر خیبر پختونخوا خصوصاً پشاور میں ہائی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔پاکستان کے سیکورٹی ادارے کسی بھی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہر وقت چوکس اور تیار ہیں جبکہ فوج نے افغان طالبان کے خلاف جس فضائی اور زمینی کارروائی کا آغاز کیا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔افغانی وزیر خارجہ اب پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کر رہے ہیں تاہم پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے کہ دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لئے شروع کی جانے والی فوجی کارروائی کو نہ صرف منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا بلکہ اس سے ریجن میں دہشت گردی کا بھی خاتمہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں