Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ہندوستانی سیٹلائٹ پروگرام کی ناکامیاں

(گزشتہ سے پیوستہ)
جی ایس ایل وی-ایف10 (12اگست 2021ء ) میں مشن کرائیوجینک اپر سٹیج(سی یو ایس) کی اگنیشن کے دوران ناکام ہوا۔ ایک تکنیکی خرابی، جو بعد میں لیکوڈ ہائیڈروجن ٹینک میں والو لیک ثابت ہوئی، نے ای او ایس-03 سیٹلائٹ کو مدار تک پہنچنے سے روک دیا۔ یہ ناکامی بھی بھارت کے خلائی پروگرام کے نقائص کو عیاں کرتی ہے۔ ایس ایس ایل وی-ڈی1 (7اگست 2022)سمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی)کی افتتاحی پرواز ’’جزوی ناکامی‘‘کا شکار ہوئی۔ راکٹ نے اچھی کارکردگی دکھائی، لیکن سینسر کی ناکامی کی وجہ سے سیٹلائٹس انتہائی بیضوی اور غیر مستحکم مدار میں رکھے گئے، جس سے وہ جلد ہی جل کر ناکارہ ہو گئے ۔ بھارتی خلائی مشنز کامیابی کی شرح بہت کم ہے۔ 2021 ء سے 2026ء کے درمیان، آئی ایس آر او کی ناکامی کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوا، کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق 2026ء کے آغاز تک پچھلے چھ مشنز میں سے تین ناکام رہے۔ یہ تمام ناکامیاں بھارت کی ناقص خلائی صلاحیتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔ 30 سال سے زائد عرصے سے پی ایس ایل وی بھارت کا سب سے قابل اعتماد لانچر سمجھا جاتا تھا، جو 1993 ء سے 2017 ء تک صرف دو بار ناکام ہوا۔ مگر اب 2025-2026 ء میں پی ایس ایل وی-سی61 اور پی ایس ایل وی-سی62 کی مسلسل ناکامیوں نے اسے مزید تحقیقات کے قابل نہ سمجھتے ہوئے گرانڈ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ادارے کی زوال کی علامت ہے۔ یہ حالیہ ناکامیاں بنیادی طور پر اسٹریٹجک اور قومی سلامتی کے بہت سے منصوبوں کو متاثر کر چکی ہیں ، جن میں نیویک نیویگیشن کنسٹلیشن اور ڈی آر ڈی او کے نگرانی سیٹلائٹس بھی شامل ہیں۔ ان سیاروں کے ناکام بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کر رہے ہیں اور سرحدی تنازعات میں پاکستان اور چین جیسے حریفوں کی بالادستی ختم نہیں کر پارہے۔ بھارت کا عالمی سمال-سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں حصہ 2017 میں 35فیصد سے کم ہو کر 2024-2025ء تک تقریباً صفر ہو گیاہے کیونکہ کمرشل کلائنٹس زیادہ قابل اعتماد فراہم کنندگان جیسے اسپیس ایکس کی طرف منتقل ہو گئے ہیں ۔ یہ بھارت کی معاشی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ پی ایس ایل وی-سی61/ای او ایس-09: 450-500 کروڑ لاگت کا منصوبہ تھا۔(سیٹلائٹ +وہیکل)۔ پی ایس ایل وی-سی62/ای او ایس-این1 + پے لوڈز کی لاگت 650-750 کروڑ تھی۔ مجموعی طور پر پانچ ناکامیوں کی کل لاگت بھارتی کرنسی میں 2,200-2,800 کروڑ بنتی ہے ۔ آئی ایس آر او آڈٹس اور سی اے جی رپورٹس کے مطابق یہ نقصان آئی ایس آر او کے 2025-26 بجٹ کے 15فیصد کے برابر ہے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کا ضیاع ہے۔
پی ایس ایل وی-سی کی حالیہ ناکامیوں نے نیپال اور برازیل کے معاہدے منسوخ کر دئیے، جس سے رواں مالی سال میں 50-70ملین ڈالر کی آمدنی کا نقصان متوقع ہے۔ ڈی آر ڈی او کی سرحدی سروے میں تاخیر سے ایل اے سی تنا کے دوران ریئل ٹائم آئی ایس آر کمزور ہوا، جو بھارت کی دفاعی کمزوری کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر پی ایس ایل وی اسٹیج 3 ناکام ہو تو ڈوئل یوز ٹیکنالوجی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اگنی سیریز میزائلوں (اسی سالڈ فیول ٹیکنالوجی)کے لئے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سپارکو اور چین کا اشتراک عمل بھارت کی نااہلی کے باعث ایک تزویراتی خطرہ بن چکا ہے۔ یہ خدشات ایس آئی پی آر آئی 2025ء اسپیس سیکیورٹی رپورٹس میں بیان کئے گئے ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کی عالمی سطح پر ذلت کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ مسلسل ناکامیاں بھارت کی 8 بلین ڈالر کی اسپیس اکانومی کی خواہشات کو مکمل طور پر تباہ کر رہی ہیں۔ مودی حکومت کی لاپرواہی اور جلد بازی پر مبنی نجکاری کی پالیسی نے آئی ایس آر او کو پی ایس ایل وی لانچز کے بوجھ تلے دبا دیا، جس سے پانچ ناکامیاں ہوئیں جن کی لاگت بھارت کو 2,500کروڑ پڑی اور نیپال، برازیل اور یورپ سے غیر ملکی پے لوڈز کے ضائع ہونے سے بھارت کی شدید توہین ہوئی۔ ناقص کارکردگی کا تسلسل بھارت کی خلائی پروگرام کی مکمل ناکامی کی علامت بن کر ابھرا ہے ۔ ناقدین کے مطابق مودی کے شائننگ انڈیا پروگرام کے بلند بانگ دعوئوں کے بر عکس عالمی برادری میں ہندوستان کا منہ مزید کالا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں