Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خاموش سفارت کی بازگشت

عالمی سیاست کے افق پرجب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں توسفارت کاری کے چراغ ازخود روشن ہوجاتے ہیں۔عالمی سیاست کے پیچیدہ اور پرآشوب منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اورافق پرمفاہمت کی ہلکی سی روشنی نمودارہوتی ہے۔یہی کیفیت حالیہ ایام میں دیکھی گئی جب چین کی سرزمین پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات کا انعقاد ہوا۔ یہ محض سفارتی سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک ایساتاریخی لمحہ تھاجس میں تلخیوں کے طویل سلسلے کومکالمے کی شیرینی سے بدلنے کی سعی کی گئی۔گویایہ اجتماع الفاظ کانہیں بلکہ ارادوں کاسنگم تھاایک ایساسنگم جہاں ماضی کے زخموں پر مستقبل کے امکانات کامرہم رکھاجارہاتھا۔
یہی منظرحالیہ دنوں میں دیکھنے میں آیاجب چین کے خط اورمچی میں پاکستان اورافغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات کاانعقاد ہوا۔یہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہ تھی بلکہ تاریخ کے دھندلکوں میں ایک ایساچراغ تھاجس نے مستقبل کی راہوں کومنورکرنے کی جسارت کی۔یہ محض نشست وبرخاست نہ تھی بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدتھی جس میں بارودکی بوکے بجائے مکالمے کی مہک محسوس ہونے لگی ہے۔گویایہ نشست محض الفاظ کاتبادلہ نہ تھی بلکہ ارادوں کاامتحان اورنیتوں کاآئینہ تھی۔
امریکااورایران کے درمیان جنگ بندی نے اگرچہ وقتی طورپرعالمی فضاء میں سکون پیداکیا،مگراس سکون کے پس پردہ طاقت کے توازن کی ایک نئی ترتیب جنم لے رہی تھی اوراسی پس منظرمیں چین نے اپنی روایتی حکمت ودانائی کے ساتھ اسی موقع کوغنیمت جانتے ہوئے اپنی سفارتی بصیرت کامظاہرہ کیااورپاکستان و افغانستان کوایک میزپرلاکریہ پیغام دیاکہ مشرق اب محض تماشائی نہیں بلکہ عالمی سیاست کافعال معمارہے۔چینی وزارت خارجہ کاجامع حلکابیان دراصل ایک فکری دستاویز اورایک فکری منشورکی حیثیت رکھتاہے، ایسا منشور جس میں جزوی تدابیرکی بجائے ہمہ جہت حکمت عملی کی جھلک دکھائی دیتی ہے،ایسانقشہ جس میں مسائل کے جزوی نہیں بلکہ کلی حل کی جستجو نمایاں ہے۔جواس امرکی غمازی کرتاہے کہ مسائل کوسطحی نہیں بلکہ گہرائی میں جاکرحل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اس امرکااعلان بھی ہے کہ مسائل کاحل وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پرسوچنے سے ممکن ہے۔
پاکستان کاکردار اس پورے منظرنامے میں نہایت اہمیت کاحامل رہاہے۔امریکااورایران کے درمیان کشیدگی میں اس کی خاموش سفارت کاری ایک ایسے پل کی مانندتھی جس نے دومتحارب قوتوں کووقتی طورپرقریب لانے میں مدددی۔ پاکستان نے جہاں عالمی سطح پرامریکاوایران کے درمیان مفاہمت میں ایک خاموش مگر موثر کرداراداکیا،وہیں چین نے علاقائی سطح پر ثالثی کافریضہ سنبھال کرایک بارپھراپنے مشرق کے دانا ہونے کاثبوت دیتے ہوئے ثالث کی حیثیت سیاپنے کردارکواس مہارت سے نبھایاکہ دونوں فریق نہ صرف آمادہ گفتگوہوئے بلکہ ایک مثبت فضابھی قائم ہوئی۔ گویاچین نے علاقائی سطح پرثالثی کاکرداراداکرتے ہوئے نہ صرف اپنی سفارتی بصیرت کامظاہرہ کیابلکہ یہ بھی واضح کیاکہ اب عالمی طاقت کاتوازن محض عسکری قوت سے نہیں بلکہ سفارتی حکمت سے طے ہوگا۔
ماضی کے برعکس اس بارمذاکرات میں تلخی کی جگہ ٹھہرااوربے یقینی کی جگہ متوازن فضااوراحتیاط نے لے لیگویاسفارت کاری نے جذبات پرغلبہ پالیاہو گویا فریقین نے تلخی کے بجائے تدبرکوترجیح دی ہو۔اگرچہ ماضی میں بھی پاک افغان مذاکرات کیکئی باب رقم ہوچکے ہیں،مگراس بارکی فضامیں ایک سنجیدگی،ایک ٹھہرااورایک مثبت ارتعاش محسوس کیاجارہاہے۔ اہم سوال یہی ہے کہ آیایہ مذاکرات محض الفاظ کی بازی گری ثابت ہوں گے یاواقعی حالات کومعمول پرلانے کاپیش خیمہ بنیں گے اور ایک مستقل امن کی بنیاد رکھیں گے؟تاریخ گواہ ہے کہ نیتوں کی صداقت سے زندگی اورعمل کی استقامت ہی معاہدوں کودوام بخشتی ہے۔
اگرارادے مضبوط ہوں تومعاہدے محض کاغذی نہیں رہتے بلکہ عملی شکل اختیارکرلیتے ہیں ۔تاریخ کاسبق یہی ہے تاہم اگرنیتوں میں کھوٹ ہوتوبہترین الفاظ بھی بے اثرہوجاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان مذاکرات کی کامیابی یاناکامی کادارومدارہے۔اگران مذاکرات کے پیچھے اخلاص اورسنجیدگی موجودہے توبعید نہیں کہ یہ خطہ ایک نئے دورمیں داخل ہو جائے ایسادورجہاں اختلافات کوتصادم کی بجائے مکالمے سے حل کیاجائے۔
اورمچی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک خاموش دریاکی مانندتھے بظاہرساکت،مگراندرہی اندر گہرے بہا کے حامل۔یہ مذاکرات بظاہر خاموش تھے، مگران کی معنوی گونج خطے کے طول وعرض اوردورتک سنائی دے رہی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے گزشتہ برس اکتوبرسے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے ایک جامع حل تلاش کرنے پراتفاق کیاہے۔یہ بیان اس امرکامظہرہے کہ اب وقتی تدابیرکی بجائے دیرپاحکمت عملی کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے۔یہ بیان دراصل اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ اب وقتی اقدامات کی بجائے دیرپاامن اورمستقل امن کی تلاش کی جارہی ہے ایساامن جومحض سرحدوں تک محدودنہ ہوبلکہ عوام کے دلوں تک پہنچے۔
چینی ترجمان کے الفاظ میں جوتوازن اوروقار ہے،وہ سفارتکاری کے اعلی اصولوں کی عکاسی کرتاہے۔ دونوں ممالک کایہ عہدکہ وہ کوئی ایساقدم نہیں اٹھائیں گے جوصورتحال کو مزید پیچیدہ بنائے،دراصل ایک اخلاقی معاہدہ ہے ،ایسامعاہدہ جوتحریری نہ ہونے کے باوجوداپنی معنوی قوت میں مضبوط ہے۔گویایہ اعلان نہیں بلکہ ایک اخلاقی میثاق ہے ،ایسامیثاق جس میں تحمل،تدبراورتوازن کی روح کارفرماہے۔چین کامذاکراتی فریم ورک فراہم کرنااس بات کاثبوت ہے کہ وہ اس عمل کووقتی نہیں بلکہ مسلسل اورمربوط سلسلہ دیکھنا چاہتاہے۔
اجلاس میں اس حقیقت کوبھی تسلیم کیاگیا کہ جنوبی ایشیاء کاامن،پاکستان اورافغانستان کے باہمی تعلقات سے مشروط ہے۔دہشت گردی کواس رشتے کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دینادراصل اس ناسورکی نشاندہی ہے جوبرسوں سے اس خطے کے جسم میں پیوست ہے،دوسرے الفاظ میں دہشت گردی کواس رشتے کی سب سے بڑی رکاوٹ قراردینا دراصل اس مرض کی تشخیص ہے جوبرسوں سے اس خطے کو لاحق ہے۔ جب تک اس ناسورکاعلاج نہیں کیاجاتا۔چین کامکالمے پرزوردینااس امرکاثبوت ہے کہ توپ وتفنگ نہیں بلکہ گفتگوہی مسائل کا حقیقی مداواہے۔امن کی کوئی بھی کوشش ادھوری رہے گی۔مکالمے اورمشاورت پرزور دینا دراصل اس اصول کی توثیق ہے کہ بندوق کی گولی وقتی خاموشی تولاسکتی ہے مگر دیرپا امن نہیں۔یہ اس بات کااعلان ہے کہ اب بندوق کی بجائے زبان اوردلیل کوترجیح دی جائے گی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں