Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سرسید سکول، راولپنڈی کی تابناک یادیں

سرسید سکول ، مال روڈ راولپنڈی کا نام ذہن میں آتے ہی یادوں کے نہ جانے کتنے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ کیا دن تھے وہ اور کیا لوگ تھے وہ جن کے آس پاس زندگی کا بیشتر وقت گزارنے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ایسے ادارے انسان کوکردار اور تربیت کی ایسی آغوش فراہم کرتے ہیں کہ جس کی حرارت اور محبت کو ماں کی محبت سے منسوب کرتے ہوئے انہیں مادرِعلمی بھی کہا جاتا ہے۔۱۹۵۶ء میں کنٹونمنٹ پبلک سکول کے نام سے قائم سکول کو ۱۹۶۸ ء میں انٹرمیڈیٹ کا درجہ دیا گیا اور ساتھ ہی اس کا نام کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی) سرسید سکول رکھا گیا۔ ۱۹۷۲ ء میں ڈگری کلاسز کا اجراء کر دیا گیا اور ۱۹۷۵ ء میں سکول اور کالج کو علیحدہ کر کے ان کو منفرد شناخت دے دی گئی اور اس کا انتظام فیڈرل بورڈ کے حوالے کر دیا گیا،مگر سکول اور کالج دونوں ایسے جڑواں شہروں کی طرح ساتھ ساتھ موجود تھے جن کے درمیان نہ کوئی دیوار تھی او ر نہ دروازہ ۔ یہاں سے پڑھ کر جانے والوں کی فہرست بنائی جائے تو بلاشبہ ہر شعبہ زندگی میں نام و مقام بنانے والے بڑے بڑے نام پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اس ادارے کے سنہری کردار کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔
میں ۱۹۷۹ ء میں یہاں داخل ہوا اور ۱۹۸۹ء میں میٹرک اور بعد ازاں سر سید کالج سے ایف ایس سی کرکے اس مادرِ علمی سے رخصت ہوا۔ ہفتہ قبل سرسید سکول ، مال روڈجانے کا اتفاق ہوا۔ میری یادوں کی پوٹلی میں سکول کا ایک خاص نقشہ محفوظ تھا، مگر اب نہ وہ درودیوار تھے ، نہ وہ راہداریاںاور نہ وہ پیڑ پودوں سے مزین منظر، وہ استاد اور وہ کردار بھی اب تاریخ کا حصہ بن گئے تھے ،وقت کا بے رحم اژدھا سب کچھ نگل چکا تھا۔ گزرے وقت کی یادوں نے کیسے کیسے چہرے سامنے لا کر کھڑے کر دئیے۔ سکول کا نظم و ضبط کڑا اور پڑھائی کا معیار مثالی تھا جس میں بنیادی کردار محنتی اور قابل اساتذہ کے ساتھ ساتھ وہاں کے پرنسپل محترم اے بی ناشر کا تھا۔ مجھے یاد ہے صبح صبح سکول کی پہلی کارروائی اسمبلی ہوا کرتی تھی جس کے لئے تمام بچے سکول کے وسیع میدان میں جمع ہوتے تھے۔دیر سے آنے والے بچے ایک قطار بنائے پرنسپل کے پاس سے گزرتے اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتے، ناشر صاحب ہتھیلی پر ایک ڈنڈا رسید کرتے اور دیر آید درد آید کی تصویر بنے یہ بچے آگے بڑھتے جاتے۔ اس وقت پرنسپل صاحب کی شخصیت ایک جابر حکمران جیسی لگتی تھی لیکن آج پلٹ کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ان کو سکول کے نظم و ضبط اور اوقات کار کا کتنا احساس تھا کہ اس ڈنڈا باری کے لئے بھی وہ خود موجود ہوتے تھے ۔ گو آج کل طلباء پر ڈنڈے کے استعمال پر مخالف آراء پائی جاتی ہیں بہرکیف طلباء کی اصلاح کے لئے ڈنڈا بازی تاریخی طور پر ایسا مجرب نسخہ کیمیاء رہا ہے جس کا صیح وقت اور مقدار میں استعمال نہایت کارآمد رہا ہے۔ لیکن ناشر صاحب کی شاندار انتظامی گرفت اور سکول میں تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ طلباء میں انتہائی قابل عزت و احترام اور مقبول تھے ۔
سکول کی اسمبلی بلا شبہ انتہائی منظم، خوبصورت اور جسمانی تربیت کے حوالے سے ایک شاہکار ہوا کرتی تھی۔ آج بھی مجھے پی ٹی ماسٹر سر ظہور کی محنت اور کام سے لگن یاد آتی ہے کہ کس طرح وہ بچوں کو مختلف ورزشیں سکھایا کرتے تھے۔ جب کوئی بڑی تقریب منعقد ہوتی تو ہر کلاس کے بچے باقائدہ فوجی انداز میں مارچ پاسٹ بھی کرتے جن کے قدم ماسٹر یونس کے میوزک بینڈ سے نکلتی مترنم ملی نغموں کی دھنوں کے ساتھ جب اٹھتے تو حاضرین سے خوب داد وصول کرتے۔ پی ٹی ماسٹر ظہور اور ماسٹر یونس کے بینڈ کے درمیان ایسا سحر انگیز اشتراک شائد ہی ان دنوں کسی اور سکول میں موجود ہو۔ ایسے لوگوں کی محنت اور اپنے کام سے لگن کو سراہا جانا بہت ضروری ہے۔
سکول کی تاریخ کے جگمگاتے چہروں میں ابو (عرفان صدیقی) کی یادیں بھی نمایاں ہیں۔ ابو بھی سکول میں پڑھاتے رہے ، بعد ازاں ان کا انتخاب سرسید کالج میں استاد کی حیثیت سے ہوا۔ میںصبح صبح ابو کے ساتھ وقت پر سکول پہنچ جاتا تھا۔ ابو اپنا ویسپا سکوٹر سکول کی پارکنگ میں ہی کھڑا کرتے تھے ۔ جہاں سے وہ کالج کی طرف اور میں اپنی کلاس کی طرف ہو لیتا۔ اس پارکنگ کے بالکل سامنے ابو کے ہمدم دیرینہ دوست ساجد حسین ملک کا کمرہ ہوا کرتا تھا جہاں کئی بار ابو کے ساتھ جانا ہوا۔ کمرے میں ایک طرف ایک بڑی سی پرنٹنگ مشین پڑی ہوتی تھی جہاں پر امتحانات کے دوران پرچہ جات کو پرنٹ کرنے کے لئے اس کے ہینڈل کو ہاتھ سے گھمایا جاتا تھا۔ امتحانات کی ساری تیاری اور نگرانی کا کام سر ساجد ملک ،کمال محنت اور ہنر مندی سے انجام دیتے تھے۔اب نہ وہ پارکنگ رہی، اور نہ ساجد ملک کاوہ کمرہ اب موجود ہے ۔سب وقت کی دھول میں گم ہو گیا۔
میں اپنے میٹرک والے کلاس روم کے باہر کھڑا تھا، یہ اس وقت نسبتاً نیا بنا ہوا بلاک تھا اسی لئے اب بھی موجود تھا۔ یہاں سے ایک راستہ سکول کے میدان کو چلا جاتا ہے۔ میں اس طرف بڑھا اور میدان کو دیکھنے لگا ، مگر میدان تھا ہی کہاں؟ کچھ میدانی حصے کو اینٹیں لگا کر پکا کر دیا گیا تھا۔ باقی کے بچے کھچے میدان میں بھی ایک طرف گاڑیاں اور ایک طرف موٹر سائیکل کی پارکنگ تھی۔ کھیلنے کودنے کے لئے کوئی ہموار جگہ نظر نہیں آرہی تھی۔ میرا ذہن پھر پیچھے پلٹ گیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ایک مثالی اسمبلی ہوا کرتی تھی اورجہاں میں نے بھی بہت کرکٹ کھیلی ۔ اس میدان میں کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔سرسید سکول کی ہاکی، رسہ کشی اور کرکٹ کی ٹیمیں ہر مقابلے میں آگے آگے رہیں۔ سرحمید قریشی کی کوچنگ میں ہاکی اور سرارشدکی راہنمائی میں رسہ کشی کی ٹیم ایک دہائی تک پورے فیڈرل کے سکولوں میں اول رہی ۔ اسی طرح سر خالد نواز نے کرکٹ کی بہت اچھی ٹیم تیار کی۔ اس میدان کی موجودہ حالت زار دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ اب ایسی تمام سرگرمیاں مفقود ہو چکی تھیں جو کہ نہایت دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ میں واپس اپنی کلاس روم کے باہر آکر کھڑا ہو گیا۔ ساتھ ہی کلاس روم کی کھڑکی تھی جس کے ساتھ ہی اندر میری نشست ہوا کرتی تھی۔ اسی کھڑکی سے سامنے وہ جگہ واضح نظر آتی تھی جہاں ایک بڑی سے گھنٹی لٹکی ہوتی تھی ۔کلاس کے خاتمے، بریک شروع ہونے اور ختم ہونے اور چھٹی کے وقت ایک شخص ہتھوڑا لئے نمودار ہوتا تو دور سے دکھائی دیتا تھا۔ ہتھوڑے کی گھنٹی پر ضرب پڑتے ہی بچے دیوانہ وار باہر نکلتے۔ گھنٹی کی آواز اب بھی میرے کانوں میں گونجنے لگی تھی۔ شائد گھر جانے کا وقت ہو چلا تھا۔

یہ بھی پڑھیں