Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسری بات کہ اس سیمینار کے ذریعے حضرت مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب اور ان کے رفقاء آج کی دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ میں بھی ان کے رفقاء میں ہوں۔ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ذکر کر رہے ہیں، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا نام لے رہے ہیں، اور اُس دور کے اکابر کا نام لے رہے ہیں۔ میں اس میسج کو یوں تعبیر کروں گا کہ ہم آج کی دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مولانا قاسم نانوتویؒ تھے اور جہاں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ تھے۔ درمیان میں ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ تھوڑی سی تشریح کروں گا اور اس پر ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔
جس طرح ہم نے برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑی تھی، امریکہ نے بھی لڑی تھی۔ اُس دور کی کہاوتوں میں ایک کہاوت میں نے کہیں پڑھی۔ ان کی تحریکِ آزادی کے کوئی لیڈر تھے، کسی ہال میں خطاب کر رہے تھے تو ان کو تقریر کے دوران گرفتار کر لیا گیا، اسٹیج سے پکڑا اور جیل میں لے گئے۔ ایک سال جیل میں رہے یا دو سال رہے، جب جیل سے رہا ہوئے تو سیدھے اُس ہال میں گئے، اسٹیج پر چڑھے، روسٹرم پہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: حضرات! جیسا کہ میں عرض کر رہا تھا، میں اپنی بات پوری کر رہا ہوں۔
ہم بھی آج کی دنیا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ جیسا کہ ہم عرض کر رہے تھے، ہم وہیں سے بات شروع کرتے ہیں، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ اور میں دو تین مثالیں دوں گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
(۱)انگریز لوگ آئے تھے اور ہماری معیشت پر قبضہ کر لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کیا تھی؟ اُس وقت کی آئی ایم ایف تھی۔ آئی ایم ایف کیا ہے؟ آج کی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا، اشارہ کافی ہے۔ پھر تم نے ملک پر ہی قبضہ کر لیا تھا ۱۸۵۷ء میں۔ تم نے تین چار تبدیلیاں کرنا چاہی تھیں اور اپنی طرف سے کر دی تھیں۔ تم نے ہم سے آزادی سلب کر لی تھی اور فیصلوں کا اختیار سلب کر لیا تھا۔ آج دوست کہتے ہیں کہ ہم استعمار سے آزاد ہو گئے ہیں۔ ہم آزاد نہیں ہوئے۔ استعمار سے آزادی کا لیبل ہم پہ لگا دیا گیا جبکہ پون صدی سے زیادہ عرصے سے ہم ریموٹ کنٹرول غلامی میں ہیں۔ ہماری پالیسیاں پون صدی سے کون کنٹرول کر رہا ہے؟ کیا ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں؟ ہمیں کون کنٹرول کر رہا ہے؟ صرف تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ پہلے یہ غلامی ریموٹ کنٹرول تھی، آج یہ غلامی روبوٹ کنٹرول ہے اور یہ تبدیلی نظر آ رہی ہے؟ پہلے غلامی ریموٹ کنٹرول ہوتی تھی کہ کسی کو نظر آتا تھا، کسی کو نہیں۔ آج کی تبدیلی اور آج کی غلامی ریڑھی والے کو بھی پتہ ہے، کسی بازار میں پھیری والے سے پوچھیں تو اس کو بھی پتہ ہے کہ کون چلا رہا ہے اور کون اس کے اشاروں پرچل رہا ہے۔
ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں اور اپنی آزادی بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں ۱۸۵۷ء میں ہمارے بزرگ کھڑے تھے۔
(۲) تم نے ایک تبدیلی اور کی تھی۔ ملک کے نظامِ تعلیم میں تبدیلی کر کے نئے نظامِ تعلیم سے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے تھے۔ یہ درسِ نظامی اورنگزیب عالمگیر کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے سوا سو سال یہی درسِ نظامی تھا۔ آج جو کالج کے مضامین ہیں وہ بھی، اور مدرسے کے مضامین بھی، ہم دونوں اکٹھے پڑھاتے تھے۔ اسی تپائی پہ مشکوٰۃ پڑھاتے تھے، اسی تپائی پہ اقلیدس پڑھاتے تھے۔ اسی کلاس روم میں ہدایہ پڑھاتے تھے، اسی کلاس روم میں طب پڑھاتے تھے، میڈیکل پڑھاتے تھے، ریاضی پڑھاتے تھے، معقولات پڑھاتے تھے، فلسفہ پڑھاتے تھے۔
انگریز آئے، انہوں نے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے۔ قرآن پاک کی تفسیر نکال دی، حدیث و سنت نکال دیے، فقہ و شریعت نکال دیے، عربی اور فارسی نکال دیں۔ ہم نے کیا کیا؟ جو مضامین تم نے نکال دیے تھے وہ ہمارے بزرگوں نے سنبھال لیے کہ تم نہیں پڑھاتے تو ہم پڑھائیں گے۔ یہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہیے کہ جو مضامین انہوں نے نکالے تھے ۱۸۵۷ء کے بعد، ہمارے بزرگوں نے یہ کہہ کر سنبھال لیے کہ ہم روکھی سوکھی کھائیں گے لیکن یہ مضامین باقی رکھیں گے۔
ہمارا مدرسہ کیا تھا؟ مسجد کی چٹائیاں، محلے کی روٹیاں، پڑھانے والا استاذ۔ ایک سو سال تک عام طور پر مدرسہ اس طرح رہا ہے، بلڈنگیں تو بعد میں بنی ہیں۔ میں نے وہ مدرسہ دیکھا بھی ہے، وہاں پڑھا بھی ہے اور روٹیاں بھی مانگی ہیں، الحمد للہ مجھے اس پر فخر ہے۔ مجھے آج بھی وہ گھر یاد ہیں جہاں سے روٹیاں لایا کرتا تھا۔ طلبہ مسجد میں سو جاتے تھے اور محلے سے روٹیاں مانگ کر لاتے تھے۔ اس پر ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔ نصرۃ العلوم میں سن ۱۹۵۸ء کی بات ہے، میں حضرت قاری محمد یاسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے قرآن پاک یاد کیا کرتا تھا۔ ہم محلے سے روٹیاں لاتے تھے۔ میں دس بارہ سال کا تھا۔ ہم پانچ چھ بچے تھے، ہمارے ذمے تھا محلے روٹیاں لاؤ۔ ضابطۂ اخلاق یہ تھا کہ ڈول میں سے اور روٹی میں سے کوئی شے نہیں نکالنی، سارا جمع کرانا ہے، یہاں سے ملے گا جو ملے گا۔ البتہ کسی گھر میں اگر کھانا نہیں پکا ہوتا تھا تو وہ دو آنے یا چار آنے دیا کرتے تھےکہ ’’درویش! روٹی نہیں پکی، یہ لو‘‘۔ اُس زمانے کے دو آنے چار آنے آج کل کے دو اڑھائی سو روپے تو ہوں گے۔ وہ ہمارے ہوتے تھے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں