Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اپنا گائوں، اپنے لوگ(۲)

بڑی سوچ بچار کے بعد اندازہ ہوا کہ بنیادی سہولیات سے محروم گائوں میں زندگی برس ہا برس سے کیسے رواں دواں ہے۔ یہ گائوں کا ایک خاص سماجی ڈھانچہ تھا جس نے گائوں کو خود انحصاری کا ایسا مرکز بنا رکھاتھا جس سے شہر کے تعاون کے بغیر بھی زندگی کی ضروریات پوری ہوجایا کرتی تھیں۔میری بچپن کی یادوں میں کچھ کردار آج بھی زندہ ہیں۔ نور حسن نمبردار،ملک محمد صدیق پٹواری ، عبدالرئوف موچی، مہر محمد ترکھان، فضل الٰہی لوہار، صادق اور یعقوب قصائی، عبدالغفور کمہار، غلام نبی جولاہا ، عبدالخالق سونار اور مرزا خان نائی جیسے انتھک اور جفا کش لوگوں کی وجہ سے گائوں میں ایک نظام زندگی رواں تھا ۔لوگوں کی بنیادی ضروریات سے جڑے یہ کردار محض فرد نہیں ، اپنی اپنی جگہ ایک پورا ادارا اور نظام تھے ۔ یہ سب اس وقت کے برینڈز ہوا کرتے تھے۔ ان سب کے شعبے الگ الگ مگر سب میں ایک بات مشترک تھی اور وہ تھی محنت ، مہارت اور اپنے کام سے لگن۔ ان سب میں مجھے مرزا نائی کا کام سب سے دشوار لگتا تھا۔ گائوں میں اپنے پیشہ وارانہ کام کے علاوہ اس کے ذمہ پیغام رسانی کا کام بھی ہوتا تھا۔ شادی کی دعوت دینی ہو یا کسی دکھ کی اطلاع پہنچانی ہو، نائی گائوں سے رقعے لے کر نکلتا اور نہ صرف آس پاس کے دیہات بلکہ راولپنڈی شہر تک اس کا دائرہ کار ہوتا۔ اس وقت جب نہ ٹیلی فون ہوتا تھا، نہ موبائل، نہ کوئی فوری پیغام پہنچانے کا وسیلہ، نائی ہی بروقت پیغامات کو گھر گھر پہنچانے کا واحد زریعہ ہوتا تھا ۔ کیسے کردار تھے یہ؟ کتنی مشقت کرتے تھے اور کوئی لگا بندھا معاوضہ بھی نہیں ہوتا تھا ، جو اپنی خوشی سے دیتا وہ اسی میں خوش رہتے ۔ یہ نہ گنوار تھے اور نہ جاہل۔ یہ تو اپنے وقت کے ہنر مند اور بڑے لوگ تھے۔انگریز سرکار ان ہنرمندوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لئے ایک دستاویز بھی تیار کرتی تھی جسے ’’واجب العرض‘‘ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی اور شہر کی قربتوں نے ان گھرانوں کی اہمیت بھی کم کردی اور گائوں کا وہ سماجی اور انتظامی ڈھانچہ بھی اپنی افادیت کھو بیٹھا۔ ان گھرانوں کی نئی نسل بھی اب روایتی تعلیم کی طرف راغب ہوکر نئے زمانے کے نئے ہنر سیکھ رہی ہے ۔ ترقی سے زیادہ ترقی کی تیز رفتاری نے گائوں کا وہ روایتی تصور گہنا دیا ہے۔ ترقی کی چکاچوند روشنیوں کی افادیت اپنی جگہ مگر لالٹین کی لو میں دکھائی دینے والی وہ رومان پرور زندگی اب کہیں نظرنہیں آتی۔
دینی تعلیم، درس وتدریس اور علم وادب کے لئے ہمارے آبائو اجداد کا گھرانہ پیش پیش تھا۔ کہتے ہیں کہ آج سے تین ساڑھے تین سو سال قبل خیراللہ نامی ایک بزرگ ہوا کرتے تھے جو میرے لکڑ دادا( لطف الدین) کے دادا تھے۔ خیراللہ بہت اللہ والے اور درویش صفت انسان تھے۔ انہوں نے ایک مبارک خواب دیکھا جس میں وہ ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی پالکی کو کندھا دے رہے ہیں۔اس خواب کی وجہ سے خیر الدین کا لقب ’’کہارِ رسول‘‘ پڑ گیا۔ تلاش کرنے کے باوجود ’’کہارِ رسول‘‘ کہ قبر کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ کہتے ہیں برسوں قبل ہی ان کی قبر کا نام نشان ناپید ہو چکا تھا۔ کیسے لوگ تھے جنہوں نے زندگی بھی درویشی میں کاٹ دی اور وصال کے بعد بھی اپنا نام نشان نہ رہنے دیا۔دین سے رغبت اوردرویشی کی صفات کہار رسولؑ سے چلتے چلتے میرے دادا اور نانا( جو دونوں بھائی تھے) تک پہنچ گئیں۔ میرے دادا عبدالحق عبدی بھی دین سے رغبت کے سبب ایک بڑا عرصہ پیش امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ ان کی شخصیت میں ذہانت کے ساتھ ساتھ جلال اور شوخی رچی بسی تھی۔ مستند حکیم ہونے کے سبب گائوں کے طبیب بھی وہی تھے اور ہسپتال بھی وہی۔ بہت اچھے کاتب اور شاعر بھی تھے اور اپنی شاعری کے زریعے گائوں کی فکری اور علمی نمو میں بھی ان کا کردار تھا۔ نعت اور حمد گوئی سے انہوں نے لوگوں کے ایمان تروتازہ رکھے۔ان کی نعت کے کچھ اشعار ہیں:
میں خاک پاک مدینہ پہ جانثار کروں
ہزار بار کروں بلکہ بار بار کروں
سگانِ کوئے مدینہ کی خاک پائے شفاء
ملے تو دیدہ دل کو میں سرمہ سار کروں
دل حزیں کی یہ بے تابیاں میں کس سے کہوں
سوائے آپ کے کس کو میں غمگسار کروں
حریم ناز میں عبدی کی التجا ہو قبول
بصدنیاز عریضہ با اختصار کروں
میرے نانا نذیر احمد خوش پوش اور وضع دار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی شرافت، متانت اور شفاف کردار کی بدولت گائوں میں ایک ممتاز مرتبہ رکھتے اور انتہائی نگاہ ِ تعظیم سے دیکھے جاتے ۔دادا کے شہر منتقل ہونے کے بعد مسجد کی پیش امامت بھی ان کے سپرد تھی، جہاں وہ نہ صرف امامت کرواتے بلکہ ایک مصالحت ساز اور مدبر ہونے کے ناطے لوگوں کے تصفیہ طلب مسائل کو سنتے اور ان کی الجھی گتھیاں سلجھانے کے لئے ہر ممکن تعاون بھی کرتے۔ وہ بندہ سکول میں ایک طویل عرصہ تک ہیڈ ماسٹر بھی رہے اور یوں دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم سے بھی علاقے کو بہرہ مندکیا۔
اہل ڈھوک بدہال کی شہر منتقلی کے رجحان کا بڑا سبب صحت اور تعلیم کی ناکافی سہولیات رہیں۔ قیام ڈھوک بدہال کے وقت نواحی گائوں بندہ کا مڈل سکول ہی تعلیم کی پیاس بجھا رہا تھا۔ بندہ گائوں قیام پاکستان سے بھی بہت پہلے علاقے کی تجارت کا مرکز تھا۔ بندہ کی اس حیثیت کے دیکھتے ہوئے انگریز سرکار نے ۱۸۷۲ء میں یہاں ایک وسیع رقبے پر سکول کا قیام کیا۔ اسی سکول سے میرے والد عرفان صدیقی نے بھی مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گائوں میں تعلیم کا معیار وہ نہ رہا ۔ سکول اب بھی موجود اور فعال ہے، جہاں میٹرک تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ڈھوک بدہال میں ۸۰ کی دہائی میں بنیادی مرکز صحت کا قیام بھی ہوا جس کے لئے نور حسن نمبردار اور صوبیدار محمد صادق نے باہمی اشتراک سے ۱۲ کنال اراضی وقف کی تھی جس کے لئے دونوں داد کے مستحق ہیں۔
ڈھوک بدہال کے عرفان صدیقی(میرے والد) وہ شخصیت ہیں جو نوجوانوں کے لئے مشعل راہ بنے۔ علمی اور صحافتی میدانوں میں عروج پانے کے باوجود ڈھوک بدہال سے ان کی والہانہ عقیدت ایک فطری امر تھا۔ڈھوک بدہال اور بندہ کے علمی ڈھانچے اور لوگوں کی فلاح کے لئے انہوں نے بہت سے منصوبے سرکار سے منظور کروائے جن میں گائوں کے گرلز سکول کو مڈل سے ہائی اور بندہ بوائز سکول کو ہائر سکینڈری کروا کر اس میں نئی عمارت کا قیام، پرانی بوسیدہ عمارت کی تعمیر و مرمت، واٹر سپلائی کا منصوبہ اور گائوں کی گلیاں پختہ کرنا شامل ہے۔ ان منصوبوں پر کام بھی شروع ہو چکا ہے ، جن کی تکمیل کو دیکھنے کے لئے ابو اس دنیا میں نہیں مگر گائوں کے لوگوں کی ایک خواہش ہے کہ ان منصوبوں اور خصوصی طور پر بندہ سکول کو عرفان صدیقی کے نام سے منسوب کر کے نہ صرف ان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا جائے بلکہ ڈھوک بدہال کی اس پہچان کو خراج تحسین بھی پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں