Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

زمانہ آخر سے قبل اسلام کا عروج اور مصنوعی ذہانت کا دور

قرآنِ کریم اور مستند نبوی روایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسانیت ایک ایسےدور سےگزرے گی جس میں خوف،فساد،ناانصافی، انتشار،دھوکہ اورروحانی خلا بڑھ جائےگا۔ اسلامی عقیدے کےمطابق یہی وہ زمانہ ہوگا جس کے بعدحضرت عیسی ابنِ مریم علیہ السلام کی واپسی ہوگی، جو حق کو دوبارہ قائم کریں گے،باطل اوردجال کے عظیم فتنےکو شکست دیں گےاورانسانیت کودوبارہ خداکی طرف رہنمائی کریں گے۔آج انسانیت شائد تاریخ کے سب سےبڑےتبدیلی والےدور میں داخل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس ،کوانٹم کمپیوٹنگ،جدید نگرانی کے نظام، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورکس دنیاکوحیرت انگیزرفتارسے بدل رہے ہیں۔ ممکن ہے یہی ٹیکنالوجیاں آخری روحانی دور سے پہلے دنیا کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کریں۔بعض مفکرین کےنزدیک ترکیہ اورپاکستان کا عالمی سطح پردوبارہ عروج بھی اس آنے والی عالمی تبدیلی میں اہم مقام رکھ سکتاہے۔ تاریخ میں اناطولیہ اسلامی تہذیب، روحانیت، علم اورحکمرانی کاایک عظیم مرکزرہا ہےجبکہ پاکستان اسلامی شناخت،نظریاتی بنیاد اور ایٹمی طاقت رکھنےوالی مسلم ریاست کےطور پرایک منفردمقام رکھتاہے۔استنبول کی روحانی و جغرافیائی اہمیت،خلافتِ عثمانیہ کی میراث اورترکیہ وپاکستان کے درمیان گہرے تعلقات مستقبل کی روحانی اورعالمی تبدیلیوں میں ایک خاص کرداراداکرسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت انسانی تہذیب کواس رفتارسےبدل رہی ہےجس کابہت سےماہرین نےتصور بھی نہیں کیاتھا۔ آج اےآئی لکھ سکتی ہے،بول سکتی ہے،تعلیم دےسکتی ہے،ترجمہ کر سکتی ہے، بیماریوں کی تشخیص کرسکتی ہے،مشینوں کوکنٹرول کرسکتی ہےاورلاکھوں انسانی ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے۔تاریخ کے بیشتر حصےمیں دینی علم کا پھیلائو سست رفتار تھامگر آج اے آئی پرمبنی ترجمہ،ڈیجیٹل ذرائع،آن لائن تعلیم اورعالمی رابطے کی بدولت علم چند لمحوں میں اربوں انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔قرآنِ کریم،اسلامی علوم،تاریخی تحقیق اور روحانی تعلیمات اب پوری دنیا میں فوری طور پر پھیل سکتی ہیں۔لہذا مصنوعی ذہانت حق پھیلانے کاذریعہ بھی بن سکتی ہے، اورفریب پھیلانے کا ہتھیاربھی۔اسکارخ ان لوگوں پرمنحصر ہوگا جو ان ٹیکنالوجیز کو استعمال اورکنٹرول کریں گے۔ جدید تہذیب نےحیرت انگیز سائنسی اور تکنیکی ترقی حاصل کی ہےمگر اسکے باوجو د انسانیت آج بھی، تنہائی ،ڈپریشن ،نشے ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ،بے چینی، بے مقصدیت اور روحانی خلاکاشکار ہے۔ جیسے جیسےمصنوعی ذہانت زیادہ طاقتور ہوگی، انسان مزید گہرے سوالات پوچھنا شروع کرے گا۔
انسان کومنفرد کیا بناتا ہے؟شعور کیا ہے؟روح کیا ہے؟کیامشینیں انسانی جذبات اور معنی کی جگہ لےسکتی ہیں؟کیا اخلاق اورروح کےبغیرصرف ذہانت کافی ہے؟اسلامی روحانیت سکھاتی ہےکہ انسان محض ایک حیاتیاتی مشین نہیں بلکہ شعور، رحم، اخلاقی ذمہ داری اورالہی امانت رکھنےوالی مخلوق ہے۔آخرکارانسان شایدیہ سمجھ لےکہ ٹیکنالوجی جسمانی سہولت تو دے سکتی ہےمگر روح کوشفا نہیں دےسکتی۔اسلامی آخری زمانےکی روایات میں فریب،حقیقت کی تبدیلی،دھوکہ اورظاہری شعبدہ بازی کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔آج کی اے آئی ٹیکنالوجی،آوازوں کی نقل کرسکتی ہے،جعلی ویڈیوز بناسکتی ہے،معلومات کو بدل سکتی ہے، ڈیجیٹل دھوکے پیدا کر سکتی ہے،عوام کی نگرانی کر سکتی ہے، جذبات کو متاثر کر سکتی ہےاور انسانی رائےکو تشکیل دےسکتی ہے۔مستقبل میں یہ نظام اتنےطاقتور ہو سکتے ہیں کہ حق اورباطل میں فرق کرنامزیدمشکل ہوجائے۔ بعض معاصرمفکرین کے نزدیک جدید اے آئی اور ڈیجیٹل کنٹرول وہ ٹیکنالوجیاں بن سکتی ہیں جوعہدِفریب کوشدیدتر کر دیں۔ اسلامی تصور میں دجال جھوٹ، فریب، جھوٹی طاقت اور انسانی شعور پر دھوکے کے غلبے کی انتہا کی علامت ہے۔ اس تناظر میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کنٹرول کے نظام انسانیت کے سب سے بڑے امتحانات میں شامل ہو سکتے ہیں۔اسلامی عقیدےکےمطابق حضرت عیسی ابنِ مریم علیہ السلام ایک منفرد اور غیرمعمولی شخصیت ہیں،جنہیں اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تحت عظیم معجزات عطا فرمائے۔ ان کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی، ان کی زمینی زندگی نشانیوں اور معجزات سے بھرپور تھی اور آخری زمانے میں ان کی واپسی بھی عظیم ترین الٰہی نشانیوں میں سے ہوگی۔قرآنِ کریم بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی اجازت سے اندھوں کو شفا دینے، بیماروں کو تندرست کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت عطا فرمائی۔ اسلامی روایات کے مطابق ان کی واپسی دجال کےعظیم فتنےکےخاتمے کا سبب بنے گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک عام رہنما کے طور پر ظاہر نہیں ہوں گے، بلکہ وہ الہی مدد،حکمت، روحانی اقتدار اور معجزاتی قوت کے ساتھ آئیں گے۔ ایک ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام، نگرانی کے ڈھانچے اور انسانی ساختہ طاقتیں اپنے عروج پر ہوں گی، تب بھی کوئی قوت اور کوئی جدید ٹیکنالوجی اللہ تعالی کی عطا کردہ قوت کے سامنے ٹھہر نہیں سکے گی۔اللہ تعالی انہیں فریب، ظلم، فساد اور باطل پر غالب رکھے گا۔ ان کی واپسی حق کی آخری عظیم فتح، روح کی مادہ پرستی پر برتری، اور الہی ہدایت کے دوبارہ ظہور کی علامت ہوگی۔ان کی واپسی انسانیت کو یہ بھی یاد دلائے گی کہ انسان چاہے کتنی ہی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی بنا لے، حتمی اقتدار، طاقت اور حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہےلہذا آخری زمانے سے پہلےاسلام کا عروج شایدطاقت کے ذریعےنہیں بلکہ روحانی تلاش،اخلاقی بیداری،مادہ پرستی کی ناکامی،عالمی رابطے،انسانی کمزوری کے شعور،اور ٹیکنالوجی سے آگے حقیقت کی تلاش کےذریعے ہو گا۔انسانیت شاید رفتہ رفتہ یہ سمجھنے لگےکہ ذہانت حکمت نہیں،معلومات حقیقت نہیں،مصنوعی شعورروح نہیں اوراخلاق کے بغیر ٹیکنالوجی خطرناک ہو سکتی ہے۔اسلام کی تعلیمات، توحید،عدل،رحمت، محبت،خاندانی نظام،اخلاقی ذمہ داری،روحانی توازن اورانسانیت کی حفاظت شاید ایک ایسےدور میں مزید پرکشش بن جائیں جہاں ٹیکنالوجی بہت زیادہ ہو مگر روحانیت کمزور ہو چکی ہو۔

یہ بھی پڑھیں