بھوک ایک ایسی کیفیت ہے جسے ہر نظام، مذہب اور خطے میں ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت قرار دیا جاتا ہے۔ ازل سے انسان بھوک مٹانے کے لئے جدوجہد کرتا چلا آیا ہے اور بھوک ہی کی خاطر ایک دوسرے سے لڑتا بھی چلا آیا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی جنگیں وسائل کے حصول کے لئے لڑی گئیں ۔بھوک مٹانے کے لئے ہر انسان ہی کسی نہ کسی حوالے سے حالتِ جنگ ہی میں ہے۔ اپنی اور اپنے خاندان کے نظام حیات چلائے رکھنے کو ہر انسان ہی اپنی روزی روٹی کی فکر میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ریاستوں اور حکومتوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے کٹھن مسائل درپیش ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور سمٹتے ہوئے وسائل نے پوری دنیا ہی کو جکڑ رکھا ہے۔ بے انصافی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے بھوک کا عفریت مزید بھیانک روپ اختیار کر لیتا ہے۔ بھوک سے نمٹنے کے لئے ملکی اور بین الاقوامی ادارے پالیسیاں اور ہدایت نامے جاری کرتے رہتے ہیں۔ یہ ادارے بھوک کی اپنی ایک تعریف کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس معاشرے یا فرد یا گروہ کو بھوکا تصور کیا جاتا ہے جسے اس کی بنیادی غذائی ضروریات سے کم خوراک مل رہی ہو۔ جس کی وجہ سے اسے ذہنی و جسمانی نشوونما برقرار رکھنے میں مشکل پیش آتی ہو۔ بھوک محض خوراک کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ غربت، جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی نا ہمواری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔۲۸ مئی کو بھوک کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن حکومتیں، فلاحی ادارے، عالمی تنظیمیں خوراک کے ضیاع کو کم کرنے،ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور پائیدار زرعی نظام کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں۔ عالمی ادارے اس حوالے سے اپنی اپنی کاوشوں کا زکرِ خیر بھی کرتے ہیں۔
’’اقوامِ متحدہ کی رپورٹ THE STATE OF FOOD SECURITY AND NUTRITION IN THE WORLD 2025‘‘ کے مطابق ۲۰۲۴ ء میں تقر یبا ۶۷۳ ملین افراد بھوک کا شکار تھے جو عالمی آبادی کا ۸ فی صد بنتا ہے۔ یہ تعداد ۲۰۲۳ کے مقابلے میں ۱۵ فی صد کم ہے مگر افریقہ اور ایشیاء میں یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ ۲۰۲۵ ء میں ۴۷ ممالک میں ۲۶۶ ملین لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ۲۰۲۶ ء میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں دو قحط رپورٹ کئے گئے ایک غزہ میں اور ایک سوڈان میں۔بچوں کے حوالے سے ناکافی خوراک کی دستیابی سب سے زیادہ تشویش ناک امرہے۔ ۳۵ ملین بچے غذائی کمی ،جن میں سے ۱۰ ملین شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا سکور ۲۶ ہے ، ۱۶ فی صد آبادی غذائی قلت اور ۳۳ فی صد بچے نشونما میں کمی کا شکار ہیں۔
ان اعداد وشمار کی ساکھ پر بحثیں چلتی رہتی ہیں، مگر یہ ہمیں کسی نہ کسی حوالے سے حالات کی سنگینی کا احساس ضرور دلاتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی اہلیت اور استعداد کے مطابق گردوپیش میںپھیلی بھوک اور افلاس کا خیال رکھیں۔ بھوک یا خوراک کی ناکافی دستیابی کے عقب میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ کسی بھی ملک میں موجود خوراک کا اپنا ذخیرہ یا پیداوار کی صورت حال سب سے بڑا عنصر ہے۔ ہمارے ملک میں گندم اور چاول بنیادی غذا سمجھی جاتی ہے اور اس حوالے سے دیکھا جائے تو مکمل بھوک سے نڈھال انسان ہمیں آگے پیچھے ویسے اور اس تعداد میں نظر نہیں آئے گا جس کا اشارہ عالمی رپورٹس میں ہمیں ملتا ہے۔یقینا گندم یا چاول کی عدم دستیابی ہمارے ہاں بڑا مسئلہ نہیں ہے، ہاں اگر دیگر غذائی اجزاء کی دستیابی کی بات ہو تو پھر صورت حال قدرے گھمبیر ہو جاتی ہے۔ انسان کو اپنے آپ کو مکمل غذائیت اور ہر لحاظ سے تندرست رہنے کے لئے تازہ پھلوںور ڈرائی فروٹس کے ساتھ ساتھ خالص دودھ ،گھی، مکھن ، گوشت مچھلی وغیرہ کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقام پر آکرخوراک دستیاب ہوتے ہوئے بھی دستیاب نہیں رہتی کہ ان اشیاء کو روز مرہ خوراک کا حصہ بنانے اورخریدنے کی سکت متوسط گھرانوں کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور عوامل بھی خوراک کی دستیابی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم عالمی تنازعات اور جنگیں ہیں۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ میں جس طرح ساری دنیا میں تیل کی ترسیل اور اس کی وجہ سے خوراک کی دستیابی اور ان کی قیمتوں پر اثر پڑا ، وہ سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی براہِ راست متاثر ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب اور ترکیدنِ ابر ( (CLOUD BURST سے برسنے والی موسلادھار بارشوں نے فصلوں اور مویشیوں کو بہت نقصان پہنچایا ۔بھوک افلاس ہر دور میں کسی نہ کسی شدت کے ساتھ موجود رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا سوچتی چلی آئی ہے۔
اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ’’ اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک،مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے‘‘ ۔آج یہ سب آزمائشیں ہمیں معاشرتی نظام میں جا بجا نظر آتی ہیں۔ بھوک کو جس نے ایک آزمائش سمجھ کر مقابلہ کیا ، اللہ نے اسی بھوک اور افلاس کو اس کے لئے طاقت اور آگے بڑھنے کا راستہ دے دیا۔ بھوک اور افلاس سے پاک صبح ِ روشن کی بات کرتے ہوئے ساحر لدھیانوی نے برسوں قبل کہا تھا
ان کالی صدیوں کے سر سے
جب رات کا آنچل ڈھلکے گا
جب دکھ کے بادل پگھلیں گے
جب سکھ کا ساگر چھلکے گا
جب امبر جھوم کے ناچے گا
جب دھرتی نغمے گائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
یہ صبح عالمی دن منانے، اعدادوشمار جاری کرنے ، سیمینارز اور کانفرنسز پر پیسے کا ضیاع کرنے اور بے ہدف قسم کے منصوبے بنانے سے کبھی آنی نہیں۔ افریقہ اور ایشیاء میں بے شمار منصوبوں پرپیسے بہانے کے بعد یہی عالمی ادارے ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان خطوں میں بھوک پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے۔عالمی اداروں کے اعداد کچھ بھی بول رہے ہوں، ان کی وضع کردہ پالیسیاں اور منصوبے کتنے ہی خوش کن کیوں نہ ہوں۔ جب تک معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے کی بھوک افلاس کا احساس اور تنگدستی کا خیال نہیں رکھے گا تب تک کوئی منصوبہ یا پالیسی اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتی ۔ اسلام نے معاشرے میں سسکتی انسانیت کے درد کو سمجھنے اور اسے دور کرنے کو دین کا حصہ بنا دیا ہے۔ حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ اللہ فرمائے گا ’ اے ابن آدم ، میں بھوکا تھا تونے مجھے کھانا نہیں کھلایا ؟ بندہ عرض کرے گا’’ اے رب میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا‘‘ اللہ فرمائے گا ’’ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا اجر میرے پاس پاتا‘‘۔ اسی طرح ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کی مشہور حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’ وہ شخص کامل مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے‘‘۔ آئیے عالمی اداروں اور حکومتوں کی کارگزاریاں پرکھنے کے بجائے ہم سب مل کر اپنے آگے پیچھے موجود بھوک اور افلاس زدہ چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے لئے اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کریں