صدر آصف علی زرداری ایک پھر خبروں میں ہیں۔اٗن کے عہدے اور ذات کو لے کر سوشل میڈیا پر بہت اودھم مچا ہوا ہے۔خبریں (غیر مصدقہ) گردش کر رہی ہیں کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے اور ”راولپنڈی“ کی جانب سے نئے صدر کو لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ان خبروں میں کتنی صداقت ہے؟ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔جب تک مصدقہ ذرائع اس کی تصدیق نہیں کر دیتے،فی الحال کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔جس کی اساس جمہوریت پر ہے۔کسی بھی جمہوری ملک میں حق رائے دہی کی بنیاد پر ہی پارلیمنٹ کا وجود عمل میں آتا ہے۔وجود میں آنے والی پارلیمنٹ قانون سازی کے علاوہ وزیراعظم کا بھی انتخاب کرتی ہے۔اِس پارلیمانی نظام حکومت میں تمام اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔تاہم آئین پاکستان نے صدر کا عہدہ بھی تفویض کر رکھا ہے جس کا انتخاب چاروں صوبائی اسمبلیاں،نیشنل اسمبلی کے ساتھ مل کر کرتی ہیں۔قانون کے مطابق صدر کا عہدہ محض ایک آئینی عہدہ ہے جس کا کام پارلیمنٹ سے ہونے والی آئین سازی کے بلوں پر دستخط کرنا اور اُسے حتمی آئینی شکل دینا ہوتا ہے تاکہ یہ قانون کا حصہ بن کر نافذ العمل ہو جائے۔کسی بھی پارلیمانی نظام حکومت میں صدر کا عہدہ کتنا اہم یا غیر اہم ہے؟ اگرچہ آئین میں اس عہدے کا ذکر تو موجود ہے۔مختلف کلازوں میں بھی صدر کے عہدے اور اختیارات کی بات کی گئی ہے۔تاہم یہ اختیارات بہت محدود ہیں۔ان محدود آئینی اختیارات کے ساتھ صدر کا یہ عہدہ ایک طرح سے نمائشی بن کر رہ جاتا ہے۔تاہم پھر بھی یہ عہدہ موجود ہے اور آئینی کلاز کے تحت اس کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔آصف علی زرداری پاکستان کے چودھویں موجودہ صدر ہیں۔جنہوں نے 10 مارچ 2023 ء کو اس عہدے کا حلف اٹھایا۔اُن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔واحد سیاستدان ہیں،جو دوسری بار اس منصب پر فائز ہوئے ہیں- قیام پاکستان سے لے کر اب تک 14 شخصیات اس عہدہ پر براجمان رہیں۔ہم قائم مقام صدور کو اس فہرست میں شامل نہیں کر رہے۔سب سے پہلے پاکستان کے صدر سکندر مرزا بنے۔انہوں نے 23 مارچ 1956ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔وہ 27 اکتوبر 1958ء تک اس عہدہ پر متمکن رہے۔دوسری صدارت جنرل محمد ایوب خاں کے حصے میں آئی۔وہ 27 اکتوبر 1958ء سے 1969ء تک صدر رہے۔جنرل یحییٰ خاں کا دورِ صدارت 25 مارچ 1969ء سے 20 دسمبر 1971ء تک رہا۔ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ ایک بڑی سیاسی جماعت (پاکستان پیپلز پارٹی) کے چیئرمین تھے۔انہیں وزیراعظم بننا تھا لیکن بوجوہ کچھ عرصہ تک اُن کے پاس بھی صدر کا عہدہ رہا۔20 دسمبر 1971ء سے 14 اگست 1973ء تک بھٹو صاحب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔فضل الہیٰ چودھری بھی صدر کی حیثیت سے سامنے آئے۔انہوں نے 14 اگست 1973ء سے 16 ستمبر 1978ء تک صدارتی فرائض انجام دئیے۔جنرل محمد ضیاء الحق کا دورِ صدارت 16 ستمبر 1978ء سے 17 اگست 1988ء تک قائم رہا۔غلام اسحقٰ خاں کی صدارت کا دورانیہ 17 اگست 1988ء سے 18 جولائی 1993ء تک محیط ہے۔فاروق لغاری 14 نومبر 1993ء کو بطور صدر آئے اور 2 دسمبر 1997ء کو رخصت ہو گئے۔رفیق تارڑ کا صدارتی دورانیہ یکم جنوری 1998ء سے 20 جون 2001ء تک رہا۔جنرل پرویز مشرف 20 جون 2001ء سے 18 اگست 2008ء تک صدر رہے۔جبکہ آصف علی زرداری کا پہلا صدارتی دورانیہ 9 ستمبر 2008ء سے 8 ستمبر 2013ء تک رہا۔ممنون حسین کا دورِ صدارت 9 ستمبر 2013ء سے 9 ستمبر 2018ء تک رہا۔عارف علوی 9 ستمبر 2018ء سے 10 مارچ 2024ء تک صدر رہے جبکہ آصف علی زرداری 10 مارچ 2024ء کو دوسری بار صدر کے عہدہ کے لیئے منتخب ہوئے اور موجودہ صدر کی حیثیت سے بخوبی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔غیر ذمہ دارانہ اور لغو خبروں نےانہیں پھر سے بحث اور خبروں کا موضوع بنا دیا ہے۔سچ یہی ہے کہ وہ کہیں جانے والے نہیں۔حاسدین نے اُن سے مرعوب ہو کر ایسی بے سروپا اور لغو خبریں پھیلانی شروع کر رکھی ہیں تاکہ ہیجان پیدا ہو۔حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور زرداری صاحب کے مابین غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔لیکن پاکستان مسلم لیگ )ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری دونوں ہی سیاسی شطرنج کے ایسے کھلاڑی ہیں جو حریفوں کی چالوں کو خوب سمجھتے ہیں۔جانتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔کون لوگ ہیں جو اُن کے مابین غلط فہمیاں پیدا کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں۔آصف علی زرداری اُن سیاسی شخصیات میں شامل ہیں۔جو ذہین و فطین اور دور اندیش ہی نہیں،بہت اعلیٰ ظرف بھی رکھتے ہیں۔انہیں ”مفاہمت کا بادشاہ“ بھی کہا جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہوں تو بڑے بڑے مسئلے حل کر لیتے ہیں۔گفتگو کے ماہر سمجھے جاتے ہیں- حلیم طبع اور مہمان نواز اتنے ہیں کہ لوگوں کو اُن کا گرویدہ ہوتے دیکھا ہے۔ایوان صدر میں بہت سے صدور آئے اور چلے گئے لیکن ایوان صدر کے مستقل ملازمین یا خدمت گار اب بھی آصف علی زرداری کی گفتار،کردار،اخلاق اور اچھے انسان ہونے کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ایوان صدر کے ایک پرانے ملازم نے ایک معروف عالم دین کو بتایا کہ ایوان صدر میں خدمات انجام دینے والا ہر فرد،چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہو،ذاتی طور پر نا صرف ہر طرح سے اُس کا خیال رکھتے ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دھیان دیتے ہیں۔بقول مولانا صاحب ایوان صدر کے اس ملازم کا کہنا تھا کہ اُس نے بہت سے صدور کے لیئے خدمات انجام دی ہیں لیکن آصف علی زرداری جیسا کوئی صدر نہیں دیکھا۔بہت اعلیٰ درجے کے مہمان نواز،ملنسار،دوسروں کے غمگسار اور سب پر اپنی ڈھیر ساری محبتیں نچھاور کرنے والی بڑی شخصیت ہیں۔ایسی شخصیت جو دلوں کو جوڑتی ہو۔اچھی گفتگو کا ہنر جانتی ہو اور مفاہمت کے سارے ڈھنگ جسے آتے ہوں۔بھلا اُس سے کوئی کیسے بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔حکومت چل رہی ہے،اسٹیبلشمنٹ بھی حکومت کے پیچھے کھڑی ہے۔ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مابین اختلافات کی باتیں محض ”شوشا“ ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی لغو اور بے سروپا خبروں اور پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔اگرچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی دو الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔ان کا منشور اور سیاسی راہیں بھی جدا اور مختلف ہیں۔لیکن ملک آج جس مقام پر کھڑا ہے،اسے بہت زیادہ یک جہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔نہیں لگتا کہ آصف علی زرداری یا اُن کی جماعت کو اس کا ادراک نہ ہو،چھوٹی موٹی نوک جھونک چلتی رہتی ہے۔کچھ باتوں پر اختلاف بھی سامنے آتا ہے۔سخت بیان بازی بھی دونوں اطراف سے سننے کو ملتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی پی پی اپنی حلیف جماعت پی ایم ایل این سے ہاتھ کھینچ رہی ہے اور ساتھ نہیں چلنا چاہتی۔ملک کی بقاء دونوں جماعتوں کے ایک ساتھ چلنے میں ہے۔فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں چاہے گی کہ دونوں الگ ہو کر موقع پرستوں کو کوئی موقع فراہم کریں۔لہٰذا سب کچھ ایسا ہی،لیکن ٹھیک سے چلتا رہے گا۔