حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ پاکیزہ اور برگزیدہ لوگ ہیں کہ جنہیں رسول اکرم ۖ کی صحبت کا شرف حاصل ہے، جن کے ذریعہ سے اسلام کا تعارف کرایاگیا اور رسول عربی ۖ کی سیرت طیبہ اور سنت کو عام کیا گیا ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ۖ سے براہ راست قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے سامنے اسے صاف و شفاف آیئنہ کی طرح پیش کیا جو کہ سورج کی طرح واضح اور روشن ہے۔ اگر رسول اللہ ۖ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کو عام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کر کے غیر معتبر قرار دے دیا جائے تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی، نہ رسول ۖ کی رسالت معتبر رہے گی اور نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا ، کیونکہ اللہ کے رسولؐ نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے ۔ خود محمد عربیؐ نے اپنے جاںنثار اطاعت شعار صحابہ کی تربیت فرمائی تھی ۔ انہی صحابہ کرام کے بارے میں سورۃ الفتح اور سورۃ النمل میں اللہ تعالی نے خود ان کی تعریف بیان فرمائی ہے اور ان پر سلام بھی بھیجا ہے ، لہٰذا فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور )آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں ۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں ، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں،، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے ۔ ( القرآن ، سورۃ نمبر48 الفتح ) ترجمہ ( اے پیغمبر ) کہو تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے (القرآن ، سورۃ نمبر27 النمل ، آیت ۔ 59) عبداللہ ابن عباس اور سفیان ثوری سے روایت ہے کہ اس آیت میں منتخب بندوں سے مراد اصحاب رسول ۖ) ہیں ۔ جب کہ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالی نے اصحاب رسول اللہ ۖ کے ایمان کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے ھدایت کا معیار قرار دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: (ترجمہ) جو گروہ بھی اس طریقے سے ایمان لے آئیں جس طریقے سے تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ حق پر لگ جائیں گے۔ (البقرۃ) اس آیت کریمہ میں حضرات ِ صحابہ کو مخاطب بنا کر کہا جارہا ہے کہ اہل کتاب کے ایمان کو تمہارے ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا، اگر اس کسوٹی پر ان کا ایمان پورا اُتر آیا تو وہ معتبر ہوگا ورنہ ان کے ایمان کی حیثیت زرہ کی مقدار کے برابر بھی نہیں ہوگی ۔قیامت تک آنے والی پوری نسل انسانی کیلئے صحابہ کا ایمان معیارِ حق ہے ، لوگوں کے عقائد و اعمال ، افکار و خیالات ،قیاسات واجتہادات کے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنیکا بہترین ذریعہ اور پیمانہ ہے ۔ احادیث میں رسول ۖ نے جس کثرت اور تواتر کے ساتھ صحابہ کرام کے فضائل و مناقب ، عظمت و خصوصیات ، اوصاف و کمالات کو بیان فرمایا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ۖ پوری اُمت کو یہ تاکید کرنا چاہ رہے ہیں کہ میرے صحابہ کرام کوئی معمولی افراد نہیں ہیں اور ان کو اُمت کے عام افراد کی طرح سمجھنے کی غلطی نہ کرو ، ان کی عظمت و اہمیت کو پہچانوں ، کیونکہ ان کا تعلق براہ راست میری ذات ِ گرامی سے ہے، اس لیے ان کی محبت عین میری محبت ہے، اور ان سے بغض رکھنا براہ راست مجھ سے بغض رکھنا ہے ۔ بنی کریم ۖ نے ارشادفرمایا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میرا انتخاب فرمایا اور پھر میرے لیے میرے صحابہ کو منتخب کیا ۔ پھر ان میں سے کچھ کو میرا قریبی ساتھی ، کچھ کو میرا مدد گار اور کچھ کو میرا سسرالی رشتہ دار بنادیا ۔ لہٰذا جو شخص ان کو بُرا بھلا کہے گا اس پر اللہ کی ، اسکے فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی ، اورقیامت کے دن اسکی نہ نفل عبادت اور نہ فرض قبول ہوگی ۔ ( المستدرک ) دوسری حدیث میں رسول اللہ ۖ نے فرمایا : میرے صحابہ کو برُا نہ کہو ، میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے ایک شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کردے تو بھی ان کے ایک سیر یا آدھے سیر کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ( ترمذی ، سب اصحاب النبی ، حدیث نمبر 2891) اور کبھی آپ ۖ نے فرمایا میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو ( ابو دائود، حدیث نمبر2297) میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہے ، پس تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے تو ہدایت پالو گے (مشکوۃ ، حدیث نمبر2018) ۔ اس کے علاوہ بے شمار احادیث فضائل صحابہ کے باب میں آپ ۖ سے منقول ہے ، بلکہ بعض صحابہ کے نام کے ساتھ ان کی عظمت و فضیلت کو ذکر کیا گیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت و عقیدت کے بغیر رسول ۖ سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کے بغیر آپ ۖ کی پیروی کا تصور محال ہے ، کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال و جمال ، عقیدہ کی پختگی ، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح و تقو ٰ ی کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت ۖ نے اپنے قول ِ پاک سے اپنے جاںنثاروں کی تعریف و توصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت و سعادت قرار دیا ہے۔