اکیسویں صدی کے افق پرجب تاریخ اپنی نئی کروٹ بدل رہی ہے،توطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی سرگوشیاں بھی اب محض رسمی نہیں رہیںوہ تقدیروں کے فیصلے سنانے لگی ہیں ۔واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کرتل ابیب کے جنگی کمرہ مشاورت تک، اور تہران کے بنددروازوں کے پیچھے ہونے والی حکمتِ عملیوں تک ہرسمت ایک بے نام سااضطراب تیرتامحسوس ہوتاہے۔یہ وہ زمانہ ہے جہاں اتحادیقین نہیں بلکہ امکان بن چکاہے،اور اختلاف حادثہ نہیں بلکہ ناگزیرحقیقت۔جب دو طاقتوررہنما،جن کے ہاتھوں میں خطوں کی تقدیریں اورقوموں کی امیدیں بندھی ہوں،ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں توان کے جملے صرف آوازنہیں ہوتے وہ تاریخ کے اوراق پرکندہ ہونے والی تحریریں بن جاتے ہیں۔
ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان ہونے والاوہ تلخ مکالمہ جسے دنیانے محض ایک فون کال سمجھا درحقیقت ایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ تھاجس کی گونج ابھی پوری شدت سے سنائی دینا باقی ہے۔یہ مکالمہ نہیں تھا،بلکہ طاقت کے توازن میں ایک لرزش تھی؛یہ اختلاف نہیں تھا،بلکہ عالمی نظام کے اندر چھپی ہوئی دراڑوں کاانکشاف تھا۔مشرقِ وسطیٰ، جو صدیوں سے سلطنتوں کے عروج وزوال کاگواہ رہا ہے،ایک بارپھرتاریخ کے اسی موڑپرکھڑاہے جہاں ایک فیصلہ نسلوں کی تقدیربدل سکتاہے۔لبنان کی گلیوں میں گونجتی بارودکی بو،ایران کی نظریاتی استقامت،اوراسرائیل کی عسکری بے چینی یہ سب مل کرایک ایسی داستان رقم کررہے ہیں جس میں ہرلمحہ ایک نیاسوال جنم لیتاہے۔یہ مضمون اسی داستان کی پرتیں کھولنے کی ایک کوشش ہے ،نہ صرف واقعات کی ترتیب میں،بلکہ ان کے پس منظرمیں چھپے ہوئے ان محرکات کوسمجھنے کیلئے،جوبظاہرنظرنہیں آتے مگراصل کھیل وہی طے کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اس مقام پرکھڑی ہے جہاں قیادتیں محض فیصلے نہیں کررہیں بلکہ ردِعمل کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی سیاست کے موجودہ دورمیں طاقت کے مراکزمحض ہم آہنگ اتحادنہیں بلکہ مسلسل آزمائشوں کے میدان بن چکے ہیں۔عالمی سیاست کے افق پرجب طاقتورریاستوں کے سربراہان باہم ہمکلام ہوتے ہیں توگفتگومحض الفاظ کاتبادلہ نہیں رہتی بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک نیا موڑبن جاتی ہے۔حالیہ منظرنامے میں ٹرمپ اورنیتن یاہو کے درمیان مبینہ تلخ فون کال اسی نوعیت کی ایک علامت بن کرابھری ہے۔ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ رابطوں کواگرمحض ایک سفارتی واقعہ سمجھاجائے تویہ تجزیے کی سطحی قرأت ہوگی۔
ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ رابطوں کواسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجائے تویہ ایک ایسے نظام کی علامت بنتے ہیں جواندرسے بظاہرمضبوط مگراندرونی تضادات سے بوجھل ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ سردجنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظم اب ایکپولی سینٹرک اسٹریٹجک سسٹم میں تبدیل ہوچکاہے،جہاں ہرطاقت دوسرے کی حدودکوآزماتی ہے۔
یہ کشمکش کسی ایک واقعے کی پیداوارنہیں بلکہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی پالیسیوں،علاقائی جنگوں اورباہمی توقعات کی پیچیدہ تہہ داری کانتیجہ ہے۔یہ محض ذاتی ناراضی کامعاملہ نہیں بلکہ اس کے پردے میں مشرقِ وسطی کی پیچیدہ سیاست،لبنان کی جنگی فضا،اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی کشمکش کی پوری ایک داستان مضمرہے۔گویاایک فون کال نہیں ہوئی، بلکہ طاقت کے توازن کی ایک باریک لکیر لرزگئی ہے۔
تاریخی طورپرلبنان ہمیشہ سے اسرائیل،شام اورایران کے درمیان ایک بفراسٹیٹ کی حیثیت رکھتاآیاہے،مگرموجودہ دورمیں یہ بفرنہیں بلکہ تصادم کاایندھن بن چکاہے،جہاں ہر عسکری اقدام سفارتی زلزلہ پیداکرتاہے۔لبنان کی سیاسی حیثیت محض ایک چھوٹے ملک کی نہیں رہی بلکہ یہ خطے کی اسٹریٹجک حرکیات کامرکزبن چکاہے۔ایران کی پالیسی محض ردعمل نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوںپر استوار ہے،جس میںمزاحمتی محورایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔1979کے بعدسے ایرانی خارجہ پالیسی میں ایک تسلسل نظرآتاہے جس میں خطے میں امریکی اثرورسوخ کومحدودکرنابنیادی ہدف رہاہے۔
یوں مشرقِ وسطیٰ میں لبنان کی سرزمین ایک بارپھراس صورتحال کامرکزبن گئی ہے جہاں عسکری کارروائیاں صرف میدان جنگ تک محدودنہیں رہتیں بلکہ سفارتی میزوں کوبھی ہلادیتی ہیں۔لبنان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف علاقائی قوتوں بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے بھی پالیسی سازی کومزیدپیچیدہ بنادیاہے،خاص طورپراس وقت جب اسرائیل کی عسکری حکمت عملی تیزترہورہی ہے۔
ایران نے حالیہ کشیدگی کے بعداپنی سفارتی حکمت عملی میں سخت لہجہ اختیارکیاہے۔لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے بعدایران کی جانب سے امریکاکے ساتھ مذاکرات کی معطلی کا عندیہ محض کوئی جذباتی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ ردعمل ایک سنگین سفارتی اشارہ اور اسٹریٹجک پیغام ہے کہ خطے کے تنازعات کوجزوی نہیں بلکہ جامع طورپردیکھاجائے گا۔یہی وہ نقطہ ہے
جہاں امریکاکی ثالثی کوششیں ایک غیریقینی کیفیت سے دوچارہوجاتی ہیں۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں امن کی امیدیں دھندلاگئیں اورجنگ کے خدشات نے سایہ پھیلادیا۔تہران کامؤقف
ہمیشہ سے یہی رہاہے کہ لبنان کے مسئلے کوایران سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔اس تناظرمیں امریکی کوششیں،جوکسی ممکنہ جنگی تصادم کوروکنے کیلئے تھیں، ایک نازک دوراہے پرآ کھڑی ہوئیں۔
نیو یارک پوسٹ کے انٹرویومیں ٹرمپ نے جس اندازمیں فون گفتگوکی تصدیق کی،وہ جدیدامریکی سفارتکاری کے غیرروایتی لب ولہجے کی جھلک پیش کرتاہے۔انہوں نے اگرچہ غصے کی کیفیت سے انکارکیا،لیکن تشویش کااعتراف کیا۔یہ جملہ کہ کیاآپ پاگل ہو؟محض ایک جذباتی فقرہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی دباؤکی علامت ہے جس میں امریکااپنے روایتی اتحادی کے رویے سے غیرمطمئن دکھائی دیتا ہے مگرساتھ ہی یہ حقیقت بھی برقراررہی کہ دونوں رہنماایک دوسرے کواچھادوست قراردیتے رہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کواگرداخلی امریکی سیاست کے تناظرمیں دیکھاجائے توواضح ہوتاہے کہ واشنگٹن کی پالیسی ہمیشہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی سیاست سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ امریکامیں خارجہ پالیسی’’ ابڈومیسٹک پولیٹیکل‘‘ پریشرسسٹم کاحصہ بن چکی ہے،جہاں ہرعالمی فیصلہ انتخابی بیانیے سے جڑاہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جوبیک وقت قربت اورکشیدگی دونوں کوسموئے ہوتے ہیں۔ٹرمپ اورنیتن یاہوکا تعلق بھی اسی نوعیت کاہے۔ایک طرف ذاتی قربت ،سیاسی تعاون اورتاریخی شراکت؛دوسری طرف عملی میدان میں اختلافات اورپالیسیوں کی ٹکراؤ۔یہ تعلق گویاایک ایسی تلوارہے جس کے دونوں کنارے تیزہیں۔ٹرمپ کے سیاسی بیانات میں حالیہ سختی دراصل امریکی خارجہ پالیسی کے اندرونی دباؤکی عکاسی کرتی ہے۔ان کے لہجے میں ایک ایسی بے چینی جھلکتی ہے جواتحادیوں کے غیرمتوقع فیصلوں سے پیداہوتی ہے۔یہ کیفیت اس حقیقت کونمایاں کرتی ہے کہ عالمی قیادت صرف فیصلوں کانام نہیں بلکہ ردعمل کی مسلسل مشق بھی ہے۔
یہ پہلاموقع نہیں کہ نیتن یاہونے کسی امریکی صدرکوآزمائش میں ڈالاہو۔امریکی صدورکے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ دراصل مسلسل کشمکش کی تاریخ ہے،جہاں ہردورمیں نئے سوالات نے سراٹھایا۔نیتن یاہوکی قیادت میں اسرائیل نے ہمیشہ خطے میںفعال دفاع کی پالیسی کوترجیح دی ہے۔یہی مزاج امریکاکیلئے کبھی تعاون اورکبھی تناؤکاسبب بنتارہاہے ۔ اسرائیلی پالیسی اکثرفوری سیکیورٹی ضرورتوں پرمبنی ہوتی ہے،جوامریکی اسٹریٹجک صبرکے ساتھ ہمیشہ ہم آہنگ نہیں رہتی۔ نیتن یاہوکی قیادت دراصل اسرائیلی اسٹریٹجک فکرکے اس تسلسل کاحصہ ہے جو1948کے بعدسے سیکیورٹی کوریاستی وجودکابنیادی ستون سمجھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی عسکری پالیسی اکثر’’پری ایمپٹواسٹرائیک ڈاکٹرین‘‘کے گرد گھومتی ہے،جوامریکاکی محتاط سفارت کاری سے ہمیشہ ہم آہنگ نہیں ہوتی۔
نیتن یاہوکی سیاسی گفتگومیں اختلاف کوغیر معمولی نہیں بلکہ روٹین کے طورپرپیش کیاجاتا ہے۔ اس کی سیاسی زبان میں ایک خاص حکمت عملی یہ بھی ہے کہ اختلاف کوبحران کی بجائے معمول کاحصہ بنادیا جائے۔نیتن یاہوکایہ بیان کہ یہ خاندانی اختلاف کی طرح ہے دراصل مشرقی سیاست کے اس اسلوب کی یاددلاتاہے جہاں تلخی کوبھی نرم لفظوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔یہ اندازدراصل بحران کو معمول کے فریم میں رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ عالمی رائے عامہ میں شدت کاتاثرکم ہو۔یہ تکنیک جدیدسفارت کاری میںکریسس ڈی-اسکیلیشن بائی نارملائزیشن کہلاتی ہے،جس کامقصدعالمی رائے عامہ کوغیریقینی کیفیت سے دوررکھناہوتاہے۔(جاری ہے)