پاکستان میں بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا سالانہ گوشوارہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عوام کی امیدوں، خدشات، خوابوں اور پریشانیوں کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ ہر سال جون کا مہینہ آتے ہی سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہوتے ہیں،پنشنرز اپنی پنشن میں اضافے کی امید باندھتے ہیں، تاجر نئے ٹیکسوں کے مخمصوں میں گھرجاتے ہیں، جبکہ عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ شاید اس بار حکومت مہنگائی کے بوجھ کو کچھ کم کر دے گی۔ مگر پاکستان کی بجٹ تاریخ پر نظر ڈالیں تو اکثر یہ امیدیں اعلانات کی حد تک محدود رہتی ہیں،کسی مفلس کے گھر میں دیا نہیں جلتا۔ زمینی حقائق عوام کو ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔وفاقی بجٹ 2026-27 بھی ایسے ہی حالات میں پیش کیا گیا ہےجب ملک ایک طویل معاشی بحران، مہنگائی، بےروزگاری،قرضوں کے بوجھ اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے پاٹوں کے بیچ قید ہے۔حکومت اسے معاشی استحکام اور ترقی کا بجٹ قرار دے رہی ہے جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ عوامی ریلیف سے زیادہ مالیاتی اہداف کے حصول کا شاخسانہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بجٹ میں واقعی عوام کے لیے کوئی ریلیف موجود ہے یا پھر یہ بھی ماضی کے بجٹوں کی طرح اعداد و شمار اور دعوؤں کا ایک نیا مجموعہ ثابت ہوگا؟اگر پاکستان کی بجٹ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر حکومت نے اپنے پہلے بجٹ کو “عوام دوست” اور تاریخی قرار دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سوشلسٹ معاشی پالیسیوں کے ذریعے غریب طبقے کو سہارا دینے کے دعوے کیےگئے۔ آمرجنرل ضیاء الحق کےدور میں اسلامائزیشن کےساتھ معاشی اصلاحات کا کھیل رچایا گیا۔میاں نوازشریف کےادوار میں نجکاری، ترقیاتی منصوبوں اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کو معیشت کی بحالی قرار دیاگیا۔ پیپلز پارٹی نے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سماجی تحفظ کا نیا ماڈل متعارف کروایاجبکہ تحریک انصاف نے “ریاست مدینہ” کے تصور کے تحت فلاحی اقدامات کا وعدہ کیا۔ مگر ایک حقیقت تقریباً ہر دور میں مشترک رہی: مہنگائی کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی منتقل ہوتا رہا۔1990ء کی دہائی میں پاکستان کا قرضہ تقریباً دس ہزار ارب روپے سے بھی کم تھا جبکہ آج مجموعی سرکاری قرضے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اس دوران ہر بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیئے نئے قرضے لئے گئے، ٹیکس بڑھائے گئے اور ترقیاتی منصوبوں کے خوابوں کے لولی پاپ دیئے گئےلیکن عوام کی زندگی میں کسی آسودگی کا در وا نہ ہوا۔کوئی بنیادی تبدیلی نظرنہ آسکی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی شہری بجٹ تقریر سے زیادہ بجٹ کے بعد آنے والے بجلی، گیس اور پٹرول کے بلوں پر نظر رکھتا ہے۔بجٹ 2026ء میں حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کچھ نرمی،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اورپنشنرز کے لیئے مراعات کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خوش آئند محسوس ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہےکہ کیا یہ اضافہ مہنگائی کی رفتار کا مقابلہ کرسکےگا؟ اگر ایک ملازم کی تنخواہ میں دس فیصد اضافہ ہوتا ہےمگر بجلی، گیس، تعلیم،ادویات اوراشیائے خورونوش کی قیمتیں پندرہ سے بیس فیصد بڑھ جاتی ہیں تو یہ اضافہ کس کارن کا ہوگا۔ پاکستان کی معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ عوام کی حقیقی قوت خرید مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ 2000ء میں ایک متوسط طبقے کاملازم اپنی تنخواہ سے گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات نسبتاً آسانی سے پورے کر لیتا تھا۔ آج وہی طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، علاج معالجہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے اور یوٹیلیٹی بل آمدنی کا بڑا حصہ ہڑپ کرجاتے ہیں۔حکومت بجٹ 2026ء کو معاشی استحکام کی طرف ایک قدم قرار دے رہی ہے۔ بلاشبہ گزشتہ چند برسوں کے دوران زرمبادلہ کےذخائر میں بہتری، افراط زر میں کچھ کمی اور روپے کے استحکام کے مثبت اشارے ملے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشی استحکام کا فائدہ عام آدمی تک پہنچ رہا ہے؟ اگر معیشت کے اشاریے بہتر ہوں مگر شہری کی زندگی مشکل تر ہوتی جائےتو پھر ایسےاستحکام کی افادیت پر انگلیاں اٹھنا فطری ہے۔اس بجٹ کا ایک اہم پہلو ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیےبغیر معیشت کو مستحکم نہیں کیاجاسکتا۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے،لیکن پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر انہی طبقات پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی نظام کے اندر موجود جبرکا شکار ہیں۔
(جاری ہے)