Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ایک فون کال۔۔۔۔ اور بدلتی دنیا

(گزشتہ سے پیوستہ)
زمینی حقیقت یہ ہے کہ اختلافات کی نوعیت محض لفظی نہیں بلکہ عملی نتائج رکھتی ہے مگرسیاسی مبصرین کے مطابق یہ اختلافات محض گھریلونوعیت کے نہیں بلکہ اس کے پیچھے خاص طورپرلبنان اورایران کے حوالے سے اسٹریٹجک تضادات ہیں ۔بین الاقوامی سفارت کاری کے ماہرین کے مطابق اسرائیل کی خودمختارعسکری حکمت عملی اکثرامریکی توقعات سے آگے نکل جاتی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کارکے مطابق نیتن یاہوکی پالیسیوں میں ایک مستقل مزاجی اورسخت گیری پائی جاتی ہے۔وہ امریکی ہدایات کوہمیشہ مکمل طورپر قبول نہیں کرتے۔اسرائیلی پالیسی سازی میں ایک مستقل خودمختاری کارجحان پایا جاتاہےجوواشنگٹن کی توقعات سےمکمل طورپرہم آہنگ نہیں ہوتا۔یہی عدم ہم آہنگی امریکی پالیسی سازوں میں مایوسی اوربےیقینی کوجنم دیتی ہے۔یہی صورتحال سابقہ ادوارمیں بھی دیکھنےکوملی جب واشنگٹن کی جانب سے دی گئی حدودعملی میدان میں کمزورپڑ گئیں اوراتحادی تعلق کنٹرولڈالائنس کی بجائے ڈیفرنشل الائنس میں بدل گیا۔یہی وہ نکتہ ہےجہاں ٹرمپ کوبھی یہ احساس ہواکہ اتحادی ہوناہمیشہ ہم آہنگی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ایران اورلبنان کے درمیان تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اورعسکری ہم آہنگی پرمبنی ہے۔ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی گروہ اورلبنان میں سرگرم عسکری ڈھانچےاسرائیل کیلئےمستقل سیکیورٹی چیلنج ہیں اور اسٹریٹجک تضادکے تناظرمیں امریکااوراسرائیل کےمقاصد ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ نہیں۔ اسرائیل حزب اللہ کوبراہ راست ہدف بناناچاہتاہےجبکہ امریکاایران کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ بندنہیں کرنا چاہتا۔یہ محوراسرائیل کیلئے اسٹریٹجک گھیرائوکاسبب بنتاہے جبکہ امریکا کیلئےیہ ایک ایسی پیچیدگی ہےجوڈیٹرنس اورڈپلومیسی کے درمیان مسلسل توازن کاتقاضا کرتی ہے۔یہی پیچیدگی امریکاکوایک ایسےتوازن پرمجبورکرتی ہےجہاں سفارت کاری اور عسکری حمایت ایک ساتھ چلتے ہیں مگرایک دوسرے سے مکمل طورپرہم آہنگ نہیں ہوتے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد اختلاف میں بدل جاتاہے۔
امریکامیں اسرائیل سے متعلق رائے عامہ میں تبدیلی ایک خاموش مگرگہرارجحان اورواضح تبدیلی دیکھی جارہی ہے اورامریکامیں اسرائیل کے بارےمیں رائےعامہ کابدلاؤمحض وقتی نہیں بلکہ جنریشنل شفٹ کی علامت ہے۔نوجوان امریکی طبقہ اب خارجہ پالیسی کواخلاقی اورانسانی حقوق کے تناظرمیں زیادہ دیکھ رہاہے،جس سے روایتی اسٹریٹجک اتحادپر سوالات پیداہورہے ہیں۔یہ تبدیلی صرف خارجہ پالیسی پرنہیں بلکہ امریکی شناخت اورعالمی کردارکے بارے میں بھی نئے سوالات پیداکررہی ہے۔یہ رجحان بتاتاہے کہ جدید دور میں خارجہ پالیسی اب صرف حکومتوں کی نہیں بلکہ عوامی شعورکی بھی مرہون منت ہوچکی ہے۔سروے کے مطابق منفی رائے میں اضافہ اس بات کااشارہ ہےکہ امریکی سماج میں یہ تبدیلی محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اورفکری سطح پر بھی ایک نئی بحث کوجنم دے رہی ہے۔امریکی سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث شدت اختیارکرچکی ہے کہ آیامشرقِ وسطی کی پالیسی ریاستی مفادکے مطابق ہے یالابنگ نیٹ ورکس کے زیراثر۔یہاں طاقت کے مراکز صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی سطح پربھی تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مشرقِ وسطی کی پالیسی سازی میں کس حدتک بیرونی اثرات شامل ہیں۔یہ بحث دراصل امریکی جمہوری ڈھانچے کے اندر پاور اینڈ انفلوئنس میٹرکس کوچیلنج کررہی ہے اوریہ بحث محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی سیاست میں بھی اثراندازہورہی ہے۔ امریکامیں بعض قدامت پسند حلقے بھی یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ آیااسرائیل واقعی امریکی پالیسی کو متاثرکرتاہےیانہیں۔جوکینٹ جیسے سابق اہلکاروں کے بیانات اس بحث کومزید ہوا دیتے ہیں۔یہاں مسئلہ صرف خارجہ پالیسی کانہیں بلکہ اندرونی سیاسی طاقتوں کے توازن کا بھی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کیلئےیہ ضروری بن جاتاہےکہ وہ بعض مواقع پر اسرائیل سےفاصلے کاتاثردیں تاکہ داخلی سیاسی بیانیہ متوازن رہے۔شائد اسی لئے ٹرمپ کے سیاسی رویے میں یہ پہلونمایاں ہےکیونکہ خارجہ پالیسی اکثرداخلی انتخابی ضروریات کے تابع ہوجاتی ہے۔یہ عمل محض سفارتی نہیں بلکہ انتخابی سیاست کابھی حصہ ہے۔یہ صورتحال امریکی سیاست میں نئی نہیں مگر موجودہ دورمیں اس کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
نیتن یاہو اورامریکی صدورکےدرمیان کشمکش کی تاریخ نئی نہیں۔نیتن یاہواورمختلف امریکی قیادتوں کےدرمیان تعلقات ہمیشہ ایک سیدھی لکیر پرنہیں رہے۔بل کلنٹن سے لیکر بارک اوباما تک، ہردورمیں تعلقات میں تنائوکے عناصرموجود رہے اورسابقہ امریکی صدورکے ادوارمیں بھی پالیسی اختلافات نمایاں رہے۔ نیتن یاہواورامریکی قیادت کےدرمیان اختلافات کی تاریخ میں بل کلنٹن کے دورمیں اوسلو معاہدے کے بعدپیدا ہونے والی کشیدگی ایک اہم مثال ہے۔اسی طرح بارک اوباماکےدورمیں ایران جوہری معاہدہ ایک ایسانقطہ تھاجس نےدونوں ممالک کے درمیان پالیسی فاصلے کوواضح کردیا۔جوبائیڈن کے دورمیں اسلحہ جاتی تعاون اورانسانی بحرانوں کےدرمیان توازن ایک مستقل چیلنج رہا۔ان کےدورمیں بھی اسلحہ فراہمی اورجنگی پالیسیوں پراختلافات سامنے آئے۔یہ وہ مرحلہ تھاجہاں امریکی پالیسی دوہری ذمہ داری اتحادی حمایت اورانسانی دباؤکے بوجھ تلے نظرآئی۔ اسرائیل نے بعض مواقع پر امریکا پر دباؤ کاالزام لگایا،جودونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی کمزوری کوظاہرکرتا ہے۔یہ اختلافات اس بات کاثبوت ہیں کہ دونوں ریاستوں کے مفادات ہمیشہ مکمل طورپریکساں نہیں ہوتے اوراس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتےہیں کہ ادارہ جاتی پالیسی ذاتی تعلقات سے زیادہ مضبوط ہوتی جارہی ہے خصوصاایران معاہدے اوراقوام متحدہ کی پالیسیوں پراختلافات نے اس تعلق کومزید پیچیدہ بنایا۔ ٹرمپ کی گفتگوکااندازکلاسیکی سفارتکاری سےمختلف ہے،جہاں الفاظ محض نرم یاسخت نہیں ہوتے بلکہ طاقت کے اظہارکاذریعہ ہوتےہیں اوراستعمال ہونےوالےسخت الفاظ محض ذاتی جذبات نہیں بلکہ ایک وسیع ترسیاسی اضطراب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ ٹرمپ کے سخت بیانات عالمی سفارتکاری میں اس تناؤکی علامت ہیں جہاں جذبات اوراسٹریٹجی ایک دوسرےسےٹکراتے ہیں۔ یہ اس بات کاکھلااظہارہےکہ جدید سفارت کاری میں لسانی اسلوب خودایک اسٹریٹجک ہتھیاربن چکاہےجہاں الفاظ محض اظہارنہیں رہتے بلکہ سیاسی پیغام بن جاتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارتکاری کی زبان جذبات کے بوجھ تلے دبنےلگتی ہے۔اصل سوال یہ ہےکہ کیاحالیہ کشیدگی ایک مستقل تبدیلی کی علامت ہے یا محض وقتی اضطراب؟ کیا یہ کسی بڑے بریک کا پیش خیمہ ہے یامحض وقتی جھٹکا؟نیتن یاہواورٹرمپ کے تعلقات کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ رشتہ ٹوٹتاکم اور بدلتازیادہ ہے اوران دونوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی سیاست میں تعلقات ختم نہیں ہوتے،وہ صرف نئی شکل اختیار کرتے ہیں مگرعالمی سیاست کے بدلتے ہوئے موسم میں کوئی بھی پیش گوئی حرفِ آخرنہیں ہوتی۔ تاریخ اکثر اپنے فیصلے اچانک سناتی ہےخاموشی کے بعد،اورکبھی ایک فون کال کے بعد۔
جب تاریخ اپنے صفحات سمیٹتی ہے تووہ کبھی سیدھی لکیرنہیں کھینچتی بلکہ الجھی ہوئی لکیروں میں وہ سچ چھپادیتی ہےجسے سمجھنےکیلئےوقت درکارہوتاہے۔ ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ کشیدگی بھی شایداسی نوع کی ایک لکیرہےنہ مکمل انقطاع،نہ مکمل اتصال؛بلکہ ایک ایساموڑجہاں راستے بظاہرجدا ہوتے ہیں مگرانجام ایک ہی افق کی طرف جاتا ہے۔یہ تعلقات جوبظاہردوافرادکے درمیان نظرآتے ہیں،درحقیقت ریاستوں،نظریات اور مفادات کے درمیان جاری ایک طویل مکالمہ ہیں۔یہاں دوستی بھی مفادکی تابع ہےاور اختلاف بھی حکمت کاحصہ،مگراصل سوال اب بھی تشنہ ہے:کیایہ کشمکش کسی بڑے تغیرکاآغاز ہے یامحض وقتی ارتعاش؟کیایہ وہ خاموشی ہےجو طوفان سےپہلے آتی ہے،یاوہ تھکن جوجنگ کے بعدمحسوس ہوتی ہے؟عالمی سیاست کامزاج ہےکہ یقین یہاں ایک عارضی شےہے،اورتغیرایک مستقل حقیقت۔ طاقت کے ایوانوں میں کیے گئے فیصلے کبھی صرف حال کونہیں بدلتے وہ مستقبل کے دروازے بھی ازخودکھول دیتے ہیں،چاہے وہ دروازے امن کی طرف جائیں یا تصادم کی طرف۔اورشایدیہی اس پوری داستان کاسب سے گہراسسپنس ہے کہ ابھی کچھ بھی حتمی نہیں۔
تاریخ ابھی لکھی جارہی ہے اوراس کے قلم کی سیاہی میں وہ لرزش باقی ہے جوکسی بھی لمحے ایک نئے باب کاآغازکرسکتی ہے۔کون جانتاہے،کل کی سرخی کیاہوگی؟ایک نیااتحادیاایک نئی جنگ؟یہ سوال ابھی فضامیں معلق ہے اوریہی معلق لمحہ اس پوری کہانی کاسب سے بڑارازہے۔

یہ بھی پڑھیں