آزاد کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جس ”ایجنڈے“ پر کار بند ہے۔اُس کی کافی ساری باتیں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔حکومت نے اگرچہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ملک دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے ”کالعدم“ قرار دے دیا ہے اور اس کے سربراہ شوکت نواز میر گرفتاری کے ڈر سے کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔تاہم پتہ لگایا جانا ضروری ہے کہ شوکت نواز میر اس وقت کہاں ہیں؟ اُن کی نشاندہی کرنے والے کے لیئے ایک خطیر رقم بھی انعام میں دینے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن دیکھنا اب یہ ہے کون اُن کا سراغ لگانے میں مدد دیتا ہے اور پتہ فراہم کرتا ہے۔جو رپورٹس ایجنسیوں نے حکومت کو مہیا کی ہیں اُن کے مطابق آزاد کشمیر میں،جو حالات پیدا ہوئے،خون خرابہ دیکھنے میں آیا،نیز امن و امان کے جتنے بھی مسائل نے جنم لیا،مزید یہ کہ 36 نکاتی مطالبات کی آڑ میں ایکشن کمیٹی نے قانون کا جس طرح مذاق بنایا،حالات کو بد سے بدتر کرنے کی کوشش کی۔اُس کے پیچھے صرف اور صرف بھارتی ایجنڈا ہے۔اس کے ٹھوس شواہد بھی حکومت کے پاس آ گئے ہیں۔یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ شوکت نواز میر ”را“ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور اُس سے ہدایات لے رہے تھے۔بتایا جاتا ہے شوکت نواز میر مظفر آباد میں ایک بک شاپ کے مالک ہیں۔زمانۂ طالب علمی میں سٹوڈنٹ لیڈر رہے۔طالب علم رہنما کی حیثیت سے اُن کی پہچان پورے مظفر آباد میں ہے۔آزاد کشمیر ہی نہیں،اب وہ پاکستان بھر اور بین الاقوامی سطح پر بھی،جانے لگے ہیں۔اُن کے نام کی گونج گزشتہ ہفتے نیشنل اسمبلی میں بھی سنائی دی۔یہ بات غور طلب ہے کہ مہنگائی کے ایشو اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی جیسے عوامی مطالبات کو لے کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے چند ماہ قبل آزاد کشمیر میں اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ہڑتال اور شٹرڈاؤن کی کال دی۔تحریک کا مرکز مظفر آباد رہا۔تاہم اس تحریک کے نتیجے میں بجلی سستی کر دی گئی۔مہنگی بجلی پروڈیوس کرنے کے باوجود فی یونٹ تین روپے کا ہو گیا۔اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق آیا۔تاہم کچھ عرصہ خاموشی سے گزارنے کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دوبارہ تحریک اور بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔اس مرتبہ نئے 36 مطالبات حکومت کے سامنے رکھے گئے۔ایک کے سوا حکومت نے جنہیں من و عن منظور کر دیا۔ ایک مطالبہ جو نہیں مانا گیا وہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی آزاد کشمیر آئین ساز اسمبلی کے لیئے مختص 12 سیٹوں کا تھا۔ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کو ختم کرانے کے درپے ہے۔لیکن حکومت کا مدعا ہے کہ ان 12 سیٹوں کو آ4 ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے بھی بعدازاں ایک پٹیشن میں کشمیری مہاجرین کی سیٹوں کے حوالے سے آبزرویشن دی ہے کہ ان کو ختم کرنے کے لیئے آزاد کشمیر آئین ساز اسمبلی سے آئینی ترمیم لانا ضروری ہے۔پھر معاملہ کیا رہ جاتا ہے۔اس ایشو کو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔کشمیر ی مہاجرین کے لیئے مختص 12 سیٹوں کے خاتمے کے لیئے آئین ساز اسمبلی سے رجوع کر لینا چاہیے تھا۔تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔احتجاج،شٹرڈاؤن اور تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ بہت سی جانیں گئیں۔بھاری مالی نقصان ہوا،جو تماشا لگایا گیا وہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مقصد اور ایجنڈا تھا تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ آزاد کشمیر میں سب ٹھیک نہیں ہے۔جہاں ایسے حالات پیدا ہو جائیں ایجنسیاں پہلے سے زیادہ سرگرم اور متحرک ہو جاتی ہیں۔ایسے شواہد سامنے آئے جس سے معلوم ہوا کہ ایکشن کمیٹی ”را“ کے ساتھ رابطے میں ہے۔اُسی کی ایماء پر آزاد کشمیر میں خون بہایا جا رہا ہے۔ہنگامہ جتنا ہو گا،واقعات کو جتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا۔بدنامی پاکستان ہی کی ہو گی۔اس ”تاثر“ کو تقویت دی جائے گی کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے زیر انتظام حصے میں نہیں رہنا چاہتے۔اس سے علیحدگی کے خواہش مند ہیں۔بظاہر لگتا ہے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابات عوامی نوعیت کے ہیں۔لیکن اندرون خانہ ایکشن کمیٹی پاکستان اور ریاست آزاد کشمیر کے خلاف مذموم عزائم رکھتی ہے۔ایکشن کمیٹی کے کرتا دھرتا یہ سب اس لیئے کر رہے ہیں تاکہ بھارتی فنڈنگ کو ”حلال“ کیا جا سکے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد آزاد کشمیر میں حالات قدرے نارمل ہیں لیکن بھارتی ایجنڈے پر عمل کرنے والے ”نیتاؤں“ کو جب تک حراست میں نہیں لیا جاتا،اُن کے مذموم عزائم اور جرم ”ایکسپوز“ نہیں ہو جاتے۔شاید لوگوں کی تشفی نہ ہو۔آزاد کشمیر کے لوگ بہت معصوم اور سادہ ہیں۔اُن سے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے،کون انہیں اپنے مفادات کے لیئے اپنا ایندھن بنا رہا ہے،یہ بتانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ ”ایشو“ کہیں پس منظر میں نہ چلا جائے اور لوگوں کو پتہ ہی نہ چل سکے کہ اُن کے ساتھ ایکشن کمیٹی نے کیا کیا۔کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے لوگ محب وطن ہو سکتے ہیں؟ جن کو بھارت سے فنڈنگ ملتی ہو اور ہدایات آتی ہوں۔شوکت نواز میر جیسے لوگ عوامی جذبات سے کھیل کر صرف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے پچاس لاکھ محکوم کشمیریوں پر بھارت جو مظالم ڈھا رہا ہے اُس کی داستانیں اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان دنیا کو بتا رہا ہے۔پاکستان کے مثبت سفارتی کردار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایشو کو دنیا بھر میں زندہ رکھا ہوا ہے اور کشمیر کے مقدمہ کو بہترین انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔بھارت اسی لیئے پاکستان میں پراکسی وار کا سہارا لے رہا ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی ”ہیومن رائٹس“ کی خلاف ورزیوں سے ہٹائی جا سکے۔لیکن پاکستان کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا انشاءاللہء۔