Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

غربت کی نئی تعریف

بجٹ پیش ہو گیا۔ قومی اسمبلی کی میزوں پر دستکیں بھی بجیں، سرکاری بنچوں سے کامیابی کے دعوے بھی گونجے اور اعداد و شمار کے ایسے انبار لگائے گئے جیسے پاکستان معاشی ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہو۔ مگر ذرا ایوانوں سے نکل کر بازاروں گلیوں اور عام آدمی کے گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر دیکھئے۔ وہاں ایک باپ بچوں کی فیس کے لئے پریشان ہے ایک مزدور آٹے اور گھی کی قیمتوں کا حساب لگا رہا ہے ایک پنشنر دوائی اور بجلی کے بل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ جب خزانے خالی ہوں قرضے آسمان سے باتیں کر رہے ہوں صنعت کے پہیے سست پڑ چکے ہوں، نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہوں اور متوسط طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے پھسل رہا ہو تو قوم بجٹ سے امید باندھتی ہے۔ اسے انتظار ہوتا ہے کہ شاید اس بار اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس کے دکھ درد کو محسوس کریں گے شاید اس بار زخموں پر مرہم رکھا جائے گا۔ لیکن حالیہ بجٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرہم کی جگہ نمک چھڑکنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی بھی ریاست کی اصل ترجیحات اس کے بجٹ میں جھلکتی ہیں۔ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا حساب نہیں ہوتا بلکہ یہ حکمرانوں کی سوچ ان کے وژن اور عوام کے ساتھ ان کے تعلق کا آئینہ دار ہوتا ہے۔پاکستان کا مجموعی قرضہ ایک سو کھرب روپے کی خوفناک حد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ وہ قرضہ ہے جو صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے کندھوں پر بھی بوجھ بن کر رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک اس قدر معاشی دبائو کا شکار ہے تو کیا حکمرانوں نے اپنی زندگیوں میں بھی کوئی کفایت شعاری اختیار کی؟ کیا ایوانِ اقتدار کے دروازوں پر بھی سادگی کا پہرہ بٹھایا گیا؟ اعداد و شمار اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔
موجودہ بجٹ میں ایوانِ صدر کے اخراجات دو ارب اسی کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم ہائوس کے لئے بھی تقریبا ًایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں لاکھوں خاندان بجلی کے بل ادا کرنے کے لئے قرض لے رہے ہیں، جہاں بچوں کی فیس ادا کرنا والدین کے لئے امتحان بن چکا ہے اور جہاں ایک عام سرکاری ملازم مہینے کے آخری دس دن ادھار پر گزارنے پر مجبور ہے۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اخراجات کم کرنے کے بجائے انہیں مزید وسعت دی جا رہی ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ ریلیف گیا کہاں؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ فائدہ انہی لوگوں کو ملا جنہیں اس کی کم ضرورت تھی۔ ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پانے والوں کو تین فیصد، ساڑھے تین لاکھ والوں کو پانچ فیصد اور ساڑھے چار لاکھ والوں کو چھ فیصد ٹیکس رعایت دی گئی۔ چھ لاکھ سے زائد آمدنی والوں پر عائد دس فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا۔ گویا جتنی بڑی تنخواہ، اتنا بڑا ریلیف۔ دوسری طرف وہ مزدور، وہ ریڑھی بان، وہ چھوٹا دکاندار اور وہ سفید پوش طبقہ جو مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے، اس کے حصے میں صرف وعدے اور تقریریں آئیں۔یہ کیسا معاشی انصاف ہے؟ دنیا بھر میں فلاحی ریاستیں کمزور طبقوں کو سہارا دیتی ہیں اور خوشحال طبقے سے زیادہ حصہ وصول کرتی ہیں تاکہ معاشی توازن برقرار رہے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں بوجھ نیچے والوں پر اور سہولت اوپر والوں کے لئے مختص ہے۔اس بجٹ کا سب سے حیران کن اور شائد سب سے افسوس ناک پہلو غربت کی نئی تعریف ہے۔ حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ماہانہ آٹھ ہزار چار سو تراسی روپے کمانے والا شخص غریب نہیں۔ یہ دعوی سن کر انسان حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ آخر حکمران کس پاکستان میں رہتے ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی بازار جا کر سبزی خریدی ہے؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ ایک عام خاندان کا صرف آٹے چینی اور گھی کا خرچ کتنا ہے؟ کیا انہوں نے کبھی بجلی کا بل اپنے ہاتھ سے ادا کیا ہے؟اگر واقعی آٹھ ہزار چار سو تراسی روپے ماہانہ کمانے والا غریب نہیں تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی تنخواہ دس ہزار روپے مقرر کر دی جائے اور وزرا نو ہزار روپے ماہانہ پر گزارا کریں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں