اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ مدینہ منورہ کی سادہ سی آرڈیننس فیکٹری کا وزٹ فرما رہے تھے، جہاں تیر ساز صحابہ کرام ؓغزوات کے مجاہدین صحابہ کرام ؓ کے لئے تیر و کمان اور دیگر اسلحہ تیار کر رہے تھے، ایک کاریگر صحابی ؓنے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ میدان جہاد میں غازی اور شہید کا مرتبہ پانے والوں کے بارے میں تو جنت کی بشارتیں ہیں، ہمارے حال کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ اس خدمت کے باعث روز آخرت ہمیں کیا اجر ملے گا، اس پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ میری امت کے ان کاریگروں کے لئے مختص ہو گا جو مجاہدین کے لئے تیر، تلوار، نیزے ، کمان اور دوسرا اسلحہ تیار کریں گے۔ اسی حوالے سے ایک حدیث مبارکہ حضرت عقبہ بن عامر ؓنے بھی روایت کی ہے وہ فرماتے تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایک ہی تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے:
-1 وہ جو اللہ کی راہ میں تیر بناتا ہے اور نیکی کی نیت رکھتا ہے -2وہ جو تیر چلاتا ہے -3 اور وہ جو تیر پکڑ کر دینے والا(مددگار)ہوتا ہے۔سنن ابی دادئو میں اس حدیث مبارکہ کا نمبر 2510 اور سنن ترمذی میں اس حدیث مبارکہ کا نمبر 1637ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔یہ تاریخی واقعہ اور حدیث مبارکہ ہمیں پاکستان کی دفاعی پیداوار اور برآمدات میں 2025 ء کے دوران غیر معمولی اضافے کی خبر پڑھ کر بے اختیار یا آگئے، پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مجموعی تعداد 7 سے 9لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے ان میں اگر ہم پاکستان کی آرڈیننس فیکٹریز اور ایٹمی و میزائل تنصیبات میں کام کرنے والے سائنسدانوں، انجینئرز، کاریگروں، معاون لیبر، انتظامی افسران اور دیگر ورکرز کو بھی شامل کر لیں تو مجاہدین پاکستان کی مجموعی تعداد بلاشبہ 12سے 15 لاکھ کے قریب بنتی ہے کہ جن کے لئے اللہ کے رسول محمد ﷺکی طرف سے جنت کے اعلیٰ درجوں کی بشارت ہے، دلچسپ امر 12سے 15کے اعداد بھی ہیں کیونکہ اطلاعات یہ ہیں کہ 2025 ء کے دوران پاکستان کی دفاعی برآمدات 12 سے 15 ارب ڈالر رہیں، آن دی ریکارڈ 12ارب ڈالر کے معاہدے کئے گئے جبکہ آف دی ریکارڈ دفاعی آلات اور ہتھیاروں کی ایکسپورٹ بھی شامل کی جائے تو سالانہ دفاعی برآمدات 15 ارب ڈالر کے لگ بھگ بنتی ہیں۔ یہ تو صرف دفاعی برآمدات کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی ہے، اوور سیز پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی گئی رقوم (ترسیلات زر)کی مقدار بھی اس دوران تیزی سے بڑھی، پچھلے 5 برسوں کے دوران اس حوالے سے جو اضافہ ہوا اس کی ترتیب کچھ یوں ہے۔
مالی سال 2020-21ء میں 29.5بلین ڈالر مالی سال، 2021-22ء میں 29.5بلین ڈالر 2020-21 ء مالی سال 31.3بلین ڈالر مالی سال 2022-23 میں 27.3بلین ڈالر مالی سال، 2023-24 ء میں 30.3بلین ڈالر مالی سال 2024-25 ء میں 38.3بلین ڈالر دلچسپ بات یہ ہے کہ 2025 ء میں پاکستان تحریک انصاف نے اوور سیز پاکستانیوں میں ترسیلات زر وطن نہ بھجوانے کی طویل مہم چلائی جو مکمل طور پر ناکام ہو گئی کیونکہ اس برس پچھلے سال کے مقابلے میں 26.6 فیصد تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس معاملے کی ’’باریکیوں‘‘سے آگاہ حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ رواں برس 2026 میں ترسیلات زر 40 یا 41ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ فلمیں، ڈرامے، ویڈیوز، سافٹ ویئرز، اٹلیکچوئل پراپرٹی، آن لائن بزنس، ٹیکسٹائل، گارمنٹس ، کھیلوں کا سامان، اشیائے خوردونوش، پھلوں، سبزیوں، خصوصاً چاول، چکن، میٹ اور مچھلی وغیرہ کی ایکسپورٹ بھی شامل کریں تو پاکستان میں آنے والے ڈالرز کی مجموعی تعداد الحمدللہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسے محض سیاسی مقاصد کے لئے گھٹا کر پیش کرنا قومی مورال کو تباہ کرنے اور قومی وقار کے خلاف ہے اس لیئے تمام اہل وطن کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔سب سے زیادہ تیز رفتاری سے جس شعبے کی ایکسپورٹ میں ترقی ہوئی ہے وہ دفاعی صنعت ہے، پاکستانی آرڈی نینس فیکٹریز چھوٹے ہتھیار ، میزائل ، بم اور دیگر درمیانے لیول کا اسلحہ تو پچھلے کئی عشروں سے ایکسپورٹ کرکے قیمتی زر مبادلہ کما رہی ہیں لیکن حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے جے ایف17تھنڈر طیاروں، سپر مشاق تربیتی طیاروں، الضرار ، الخالد اور حیدر ٹینکوں، طلحہ بکتر بند گاڑیوں، خود کش حملہ آور ڈرون طیاروں، میزائل بردار اور بم بردار ڈرون طیاروں اور کواد کاپٹرز، جاسوس ڈرون طیاروں، میزائل بردار گاڑیوں، جنگی بحری جہازوں اور جنگی کشتیوں، دور مار جدید ترین رائفلوں، مشین گنوں، جدید توپخانہ اور راکٹ سسٹمز، توپخانہ کے گولوں، مارٹر سسٹمز اور مارٹر گولوں اور دیگر گولہ بارود اور اسٹیٹ آف دی آرٹ سرویلنس سسٹمز، جاسوسی آلات اور فوجی جیپوں و ٹرکوں کی ایکسپورٹ کی ایک بہت وسیع رینج تیار کر لی ہے اور جب سے موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور آرمی چیف افواج پاکستان کی قیادت سنبھالی ہے پاکستان کی دفاعی ایکسپورٹ کی جارحانہ مارکیٹنگ کے حیران کن سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے اور صرف ایک برس میں 15ارب ڈالرز کی دفاعی برآمدات کا حیران کن ہدف اس بڑی تبدیلی کا صرف آغاز ہے۔
معاملات سے آگاہی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کے بلاک تھری، سپر مشاق تربیتی طیاروں، مختلف النسل ڈرون طیاروں، زمین سے زمین اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے دنیا کے جدید ترین میزائل سسٹمز، الضرار ، الخالد اور حیدر ٹینکوں ، مختلف آرمرڈ وہیکلز، جنگی بحری جہازوں جیسے نیکسٹ جنریشن بڑے ہتھیاروں کی عالمی مانگ اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب پاکستان کی دفاعی برآمدات 100 ارب ڈالر کا جادوئی نمبر حاصل کر لیں گی اور یہ معجزہ ’’اہل نظر‘‘کو اگلے 5 برس میں حاصل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہتھیاروں خاص طور پر طیاروں ، ٹینکوں اور میزائلوں کی خریداری میں دنیا کے جو ممالک خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں ان میں میانمار، نائیجیریا، آذر بائیجان، لیبیا، سوڈان، بنگلہ دیش، بحرین، اومان، اردن، عراق، ترکی، مصر اور سعودی عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔